"يجب فصل القمح عن العصافة" ولكن وفقا لمن؟
"يجب فصل القمح عن العصافة" ولكن وفقا لمن؟

سيرغي لافروف، وزير خارجية روسيا، الذي قدم تصريحات للصحافة الفيتنامية والصينية فيما يتعلق بالتطورات الأخيرة في سوريا قبل زيارة دول الشرق الأقصى، قال ما يلي: "صحيح أننا لم نتمكن من التوصل إلى شروط مع تركيا حول تحديد ما إذا كانت الجماعة إرهابية أو إيرانية مسالمة من المجموعات الكردية، لكن تركيا لديها رؤية مختلفة حول هذا الموضوع، ونحن نقدر ما يتعلق بتركيا خصوصا بالنسبة للإرهاب، إلا أنه يجب غربلة القمح، ونظرا لمسألة الأكراد، يتعين تحديدها بالأدلة، وهي الجماعات التي تؤخذ في الاعتبار بأنها إرهابية". (جريدة حريات 2019/02/25)

0:00 0:00
Speed:
March 01, 2019

"يجب فصل القمح عن العصافة" ولكن وفقا لمن؟

"يجب فصل القمح عن العصافة" ولكن وفقا لمن؟

(مترجم)

الخبر:

سيرغي لافروف، وزير خارجية روسيا، الذي قدم تصريحات للصحافة الفيتنامية والصينية فيما يتعلق بالتطورات الأخيرة في سوريا قبل زيارة دول الشرق الأقصى، قال ما يلي: "صحيح أننا لم نتمكن من التوصل إلى شروط مع تركيا حول تحديد ما إذا كانت الجماعة إرهابية أو إيرانية مسالمة من المجموعات الكردية، لكن تركيا لديها رؤية مختلفة حول هذا الموضوع، ونحن نقدر ما يتعلق بتركيا خصوصا بالنسبة للإرهاب، إلا أنه يجب غربلة القمح، ونظرا لمسألة الأكراد، يتعين تحديدها بالأدلة، وهي الجماعات التي تؤخذ في الاعتبار بأنها إرهابية". (جريدة حريات 2019/02/25)

التعليق:

في الخطاب الصادر في 14 كانون الأول/ديسمبر 2018، صرح أردوغان عن "أن عملية عسكرية ستبدأ في شرق الفرات في غضون أيام قليلة"، وبعد فترة ليست طويلة، غير رأيه وقال: "المواساة والمفاوضات التي أجريناها مع ترامب، قادتنا إلى إطالة المدة قليلا". وأكد أردوغان أن هذه الفترة ليست مفتوحة وأشار إلى أنه ستكون هناك عملية عسكرية خلال الأشهر القادمة تتضمن: حزب الاتحاد الديمقراطي، وحزب العمال الكردستاني، وتنظيم الدولة، وكان لافروف قد تفوه علنا للمرة الأولى بأن تركيا وروسيا لم تتمكنا من التوصل إلى شروط حول قضية الشعب الكردي في سوريا، وعلاوة على ذلك، أعرب لافروف عن رأيه بهذه العبارة: "نحن كروسيا نعتقد أنه سيكون هناك مخرج على أساس اتفاق أضنة عام 1998، حول مشكله (الإرهاب) على الحدود بين تركيا وسوريا، لأنه اتفاق لمكافحة (الإرهاب) بشكل تام ويسمح بالتدخل عن بعد في سوريا، بالطبع هناك مفاوضات جارية بين المسؤولين العسكريين، على الرغم من أنه يجب القضاء على الإرهاب التركي من ناحية وعلى النظام السوري أن يقبل بذلك".

إضافة إلى ذلك، وقبل قمة سوتشي في الأسبوع الماضي، ذكر أردوغان الاختلاف في الرأي قبل المفاوضات الثنائية بين روحاني وبوتين بشأن "المنطقة الأمنية" التي تريد تركيا أن توجدها، وأعربت ماريا زخاروفا، المتحدثة باسم الخارجية الروسية، قبل المفاوضات بين بوتين وأردوغان حول قمة سوتشي، عن أن تركيا لا تستطيع إنشاء منطقة أمنية في البلاد بدون موافقة بشار الأسد، وقالت ماريا زخاروفا ردا على سؤال حول المنطقة الأمنية التركية "إن مسألة وجود وحدة عسكرية تعمل بناء على سلطة دولة ثالثة وعلى أراضي دولة ذات سيادة وخاصة سوريا يجب أن تبت فيها دمشق بشكل مباشر"، وأضافت: "هذا هو موقفنا الأساسي"، وتظهر كل هذه التعابير أن كلا من إيران وروسيا قد دحضتا وأدانتا أي عملية عسكرية لتركيا في شرق الفرات، ومع ذلك، إذا تم إيلاء اهتمام دقيق للبيان الذي أدلى به لافروف، فإنه يمكن أن يكون مفهوما أن روسيا لا تعتبر حزب الاتحاد الديمقراطي منظمة إرهابية وكرر دعم روسيا، وكما هو معروف، هناك مكتب رسمي لحزب الاتحاد الديمقراطي في موسكو، وبجانب ذلك كانت هناك تفسيرات قدمت من قبل بشأن هذا الموضوع، وعلى الرغم من كل هذه التفسيرات، تحدث وزير الخارجية التركي جاويش أوغلو، الذي ذهب لحضور لجنة حقوق الإنسان التابعة للأمم المتحدة في جنيف، إلى سبوتنيك، أشار في خطابه إلى ما يلي حول المنطقة الأمنية في سوريا: "إنها خارج حدودنا، لذا ينبغي أن تقودها تركيا، ولكننا عملنا دائما مع روسيا وسنستمر بما في ذلك الأمن الروسي والقوات العسكرية"، وبهذه التوضيحات، أكد جاويش أوغلو أنهم سيواصلون تعاونهم مع روسيا، أي المضي قدما باتفاق أضنه. ومن جهة أخرى تريد روسيا إضفاء الشرعية على العلاقات التركية السورية، بينما أعربت من ناحية ثانية عن عدم موافقتها على عملية تركيا في شرق الفرات في سوريا.

وخلال قمة سوتشي التي عقدت الأسبوع الماضي، صرح روحاني بأنه يشاطر روسيا الرأي نفسه ولم يتقبل أمر تركيا بالمضي قدما في العملية العسكرية ضد حزب الاتحاد الديمقراطي في شرق الفرات، وبعبارة أخرى، تقوم الدولتان بمماطلة تركيا في هذا الموضوع. أراد أردوغان الاستفادة من عملية الانتخابات المحلية المقبلة في آذار/مارس. ولكن الأمور لم تسر على ما يرام كما هو متوقع، ولم تسمح له أمريكا بإجراء عملية لأنها تحتاج حاليا إلى حزب الاتحاد الديمقراطي، وتستخدم أمريكا حزب الاتحاد الديمقراطي كفيلق وكذلك تركيا لتحقيق أرباحهما الخاصة، ولذلك فإن أمريكا ستواصل استغلال تركيا وحزب الاتحاد الديمقراطي طالما أن الظروف سانحة، لا يهم رغبة أردوغان ومسؤولية الأجانب بشن عملية ضد حزب الاتحاد الديمقراطي، كله سيكون عبثا طالما أمريكا لا تريد ذلك، هذا لأن أردوغان قد سلم تماما قوته كلها إلى أمريكا، تصريحات أردوغان حول هذه المسألة لا تساوي قشة بالنسبة لأمريكا، وكالعادة، فإن إجراءات أردوغان هي مجرد عاصفة رعدية جافة، كثير من الكلام بدون أفعال.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست