يجب أن يكون تغيير النظام من باطل إلى حق، وليس من باطل إلى باطل! (مترجم)
يجب أن يكون تغيير النظام من باطل إلى حق، وليس من باطل إلى باطل! (مترجم)

الخبر:   طلب الرئيس التركي رجب أردوغان من المجلس الاستشاري البحث في مشاكل النظام الرئاسي. وبعد عودته من قمة مجموعة العشرين، صرح أردوغان بأنه يريد مقابلة رئيس حزب الحركة القومية دولت بهجتلي لدراسة تقرير المجلس الاستشاري، ومناقشة "مشاكل النظام الجديد وأجزائه التي يجب تعديلها". على الرغم من التأكيد على أن كلا قادة الحزب يفضلون استمرار النظام، إلا أن الهدف هو تقوية النظام، وأنه سيكون هناك تبادل للآراء خاصة حول النظام الداخلي للبرلمان وقوانين التعديل، من أجل تعزيز التشريعات والتنفيذ. (وكالات)

0:00 0:00
Speed:
July 13, 2019

يجب أن يكون تغيير النظام من باطل إلى حق، وليس من باطل إلى باطل! (مترجم)

يجب أن يكون تغيير النظام من باطل إلى حق، وليس من باطل إلى باطل!

(مترجم)

الخبر:

طلب الرئيس التركي رجب أردوغان من المجلس الاستشاري البحث في مشاكل النظام الرئاسي.

وبعد عودته من قمة مجموعة العشرين، صرح أردوغان بأنه يريد مقابلة رئيس حزب الحركة القومية دولت بهجتلي لدراسة تقرير المجلس الاستشاري، ومناقشة "مشاكل النظام الجديد وأجزائه التي يجب تعديلها". على الرغم من التأكيد على أن كلا قادة الحزب يفضلون استمرار النظام، إلا أن الهدف هو تقوية النظام، وأنه سيكون هناك تبادل للآراء خاصة حول النظام الداخلي للبرلمان وقوانين التعديل، من أجل تعزيز التشريعات والتنفيذ. (وكالات)

التعليق:

في حين إن أردوغان نفسه أعطى تعليمات بالتحقيق في المشاكل في النظام الرئاسي بعد انتخابات بلدية إسطنبول، فقد أشار ضمنياً إلى وجود مشاكل متعلقة بالنظام. من ناحية أخرى، دعا رئيس حزب الشعب الجمهوري، كمال كيليجدار أوغلو، إلى العودة إلى النظام البرلماني وتعديل دستوري، خلال أول اجتماع جماعي لحزبه بعد انتخابات إسطنبول. باختصار، بعد فوز حزب الشعب الجمهوري في انتخابات إسطنبول، أصبح "تغيير النظام" سريعاً على الأجندة السياسية لتركيا. في الواقع، فإن الصراع بين أولئك الذين لديهم رغبة قوية في تغيير النظام، وأولئك الذين يدافعون عن وجود النظام الرئاسي الحالي؛ هو صراع هيمنة قذر بين المستعمر الكافر الإنجليزي الذي أنشأ النظام البرلماني على أنقاض الخلافة العثمانية ويريد إحياء هذا النظام، والمستعمر الكافر الأمريكي الذي جعل النظام الرئاسي في مكان النظام البرلماني، ليكون في صالح حكومة حزب العدالة والتنمية. وهذا الموقف لا يمكن تفسيره بشيء آخر غير هذا. عندما يكون أي تغيير من النظام البرلماني إلى النظام الرئاسي، أو التحول من النظام الرئاسي إلى النظام البرلماني على المحك، لا ينبغي لنا القلق بشأن التغيير فيما يتعلق بالنموذج الحكومي، ولكن يجب أن نهتم فعلياً بما يحكمنا وإلى ما نحن مدعوون إليه.

إن التغيير الذي على وشك أن يتحقق ليس من باطل إلى حق، وإنما من باطل إلى باطل. بعبارة أخرى؛ مصدر كل من النظام البرلماني والنظام الرئاسي، الذي قدم لنا تغييره باعتباره حتميا، هو ذاته متمثلا بالديمقراطية. على الرغم من حقيقة أن تغيير النظام في خطر، فإن مصدر النظام الحاكم الذي نُدعى إليه هو الديمقراطية. لطالما دفع المسلمون ثمن حرب الهيمنة التي قادها الكافر المستعمر في البلاد الإسلامية، وسوف يستمرون في دفع الثمن. لذلك، بما أن المسلمين هم الذين يعانون من دوامة الأزمات المالية ويتحملون التكاليف في جميع الأحوال، فلن يهم ما إذا كان الأمر متعلقا بالنظام البرلماني أم النظام الرئاسي...

نحن، المالكين الحقيقيين لهذه البلاد القديمة، لم نتعلم عن آفة الديمقراطية من الكتب. تعرفنا على واقعها كمصدر للأذى من خلال العيش في ظل أنظمتها المطبقة علينا. وها نحن نتجرع سمومها منذ سنوات، وتُقدم للمسلمين على أنها فكرة إسلامية. ومع ذلك، فإن المؤمن لا يلدغ مرتين من الجحر ذاته، ولا ينبغي له أن يلدغ... قال رسول الله r: «لا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ». [رواه البخاري ومسلم] وبالتالي فإن الواجب علينا أن نرفض كل أنواع أنظمة الحكم القائمة على الديمقراطية، بكل قوتنا وذاتيتنا ومعتقداتنا، لأن هذا نابع من عقيدتنا. بالإضافة إلى ذلك، فإننا لم نستفد يوما من الديمقراطية. فسجل الجرائم للديمقراطية ليس نظيفاً على الإطلاق. فمنذ وجودها، أنتجت الشر فكانت مصنع شرٍّ، ونشر للفساد في كل مكان وصلت إليه. هل هذا ما أصابتنا به الديمقراطية من داء وليس ما ستصيبنا به في المستقبل؟ إن الديمقراطية في حد ذاتها هي مصدر الأذى. وفي الواقع، فإن الشباب الذين استحوذت عليهم فكرة الحرية والحداثة، والتي هي ثمار الغرب المريرة، والذين ساهمت الديمقراطية في ابتعادهم عما يرضي ربهم، يقدمون فكرة أكثر من كافية عن ماهية الديمقراطية... الصور البائسة للشباب، وهم ممددون على الأرض في محطات الحافلات أو الطرق أو الشوارع، بسبب جرعة زائدة من المخدرات هي النسخة المصورة للديمقراطية. والتصرفات اللاأخلاقية، التي يجرؤ المثليون جنسيا على عرضها في الشوارع حيث يلعب أطفالنا، هي أيضا بسبب فكرة الديمقراطية عن الحرية. إن الجروح التي تسببها الديمقراطية، والآثار التي خلفتها في القلوب والحياة كثيرة للغاية ولا يمكن عدها. باختصار، الديمقراطية هي مصدر الشقاق والأذى. وبالتالي، فإن التغييرات النموذجية التي تستند إلى الديمقراطية لن توفر أي خير للشعب التركي.

إننا نعلم أي نظام حكم هو الذي سيحقق الخير للمسلمين، وحتى للإنسانية جمعاء؛ ونحن نحاول نقل وجهة نظرنا للجميع في كل وقت وحين. قبل بضع سنوات، أثناء الانتقال من النظام البرلماني إلى النظام الرئاسي، قلنا الحقيقة ووضحنا نظام الحكم المطلوب، وما زلنا نقول في كل وقت يتاح. إن الأنظمة القائمة على الديمقراطية لم تقدم للبشرية شيئاً غير الفوضى وعدم الاستقرار. اليوم، الأمة في حاجة إلى بداية حياة إسلامية تتمتع فيها بالاستقرار والثقة في الذات، وليس نظاماً قديماً مهترئا عفا عليه الزمن يُحاول أن يتم تجميله بالوهم. نظام العيش في الإسلام هو الضامن الوحيد للاستقرار والسلامة.

نعم، لا بد من إجراء تغيير للنظام. فهناك حاجة إلى التغيير إلى نظام تُجعل فيه السيادة دون قيد أو شرط للشريعة. هناك حاجة لوضع الأفضلية لنموذج حكم يطبق الإسلام، الذي يمتلك حلولا مناسبة للطبيعة البشرية قادرة على حل مشاكل الأمم في كل مجالات الحياة. هذه الأمور كلها لا يمكن تحقيقها إلا بإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وليس من خلال الأنظمة الرئاسية أو البرلمانية القائمة على الديمقراطية.

لمثل هذا، فليعمل العاملون...

لمثل هذا، فليتنافس المتنافسون...

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله إمام أوغلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست