يا صالح المغامسي... لماذا قلت شيئا وغابت عنك أشياء؟
يا صالح المغامسي... لماذا قلت شيئا وغابت عنك أشياء؟

المغامسي ردا على المنادين بإعادة "خلافة العثمانيين": لم تكن هناك أصلا خلافة حتى تعود -      رادا على المنادين بإعادة "خلافة الدولة العثمانية" مؤكدا على أنه لم تكن لبني عثمان خلافة أصلا حتى تعود... كلمة خليفة هنا تقال تجاوزا يعني مجازا، والحق أن الخلفاء 4، أبو بكر وعمر وعثمان وعلي رضوان الله عليهم جميعا، الراشدون ولا خلافة بعدهم إلى يومنا هذا لم تقم خلافة بالمعنى الشرعي.

0:00 0:00
Speed:
April 26, 2019

يا صالح المغامسي... لماذا قلت شيئا وغابت عنك أشياء؟

يا صالح المغامسي... لماذا قلت شيئا وغابت عنك أشياء؟

الخبر:

المغامسي ردا على المنادين بإعادة "خلافة العثمانيين": لم تكن هناك أصلا خلافة حتى تعود

-      رادا على المنادين بإعادة "خلافة الدولة العثمانية" مؤكدا على أنه لم تكن لبني عثمان خلافة أصلا حتى تعود... كلمة خليفة هنا تقال تجاوزا يعني مجازا، والحق أن الخلفاء 4، أبو بكر وعمر وعثمان وعلي رضوان الله عليهم جميعا، الراشدون ولا خلافة بعدهم إلى يومنا هذا لم تقم خلافة بالمعنى الشرعي.

-      وتابع قائلا: "الخلافة ليست ملكا يتوارث، ومعاوية رضي الله عنه وأرضاه جعلها في بني أمية يعني البيت السفياني ثم البيت المرواني وكذلك بنو العباس توارثوها توارثا وهذا ليس بممنوع شرعا، يعني الشرع لم يجعل حدا معينا لقضية كيف يكون الملك وإنما ما يقوم به أمر الناس.."

-      وأضاف: "الخلافة بمعناها الشرعي الذي نقول إن هذا خليفة المسلمين حقا فلا تصدق على آل عثمان ولا تصدق على بني العباس ولا تصدق على بنى أمية حتى بنو عثمان كانوا يتوارثون الملك وكذلك كان بنو العباس وبنو أمية، فهذا حكم يمكن أن يحسن وقد لا يحسن يصلح الله به أو لا يصلح الله به لكن ليست الخلافة المقصودة شرعيا وإنما هو ملك.."

-      وأردف: "ولذلك يقال في حق معاوية رضي الله عنه أنه أول ملوك المسلمين، لو قدر أن معاوية جعل الأمر بعده في غير ابنه لكانت خلافة لكن معاوية هو الذي أخذ البيعة لابنه يزيد قبل أن يموت ولهذا قلنا يجوز شرعا لكنه ليس الخلافة المنشودة التي يقولها الناس". (موقع سي إن إن العربي 2019/4/21م) نقلا عن لقاء في قناة إم بي سي

التعليق:

في ظل الحرب الكلامية والإعلامية بين تركيا والسعودية - وهي التي لا يجني منها المسلمون إلا التشاحن على البغضاء والكراهية - وفي ظل تصاعد أصوات المنادين بإعادة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة كما وعد بها نبينا محمد صلى الله عليه وسلم ولهفة نفوس المسلمين واشتياقهم إلى عودتها، وفي ظل الظروف العصيبة التي تمر على الأمة الإسلامية، يأتي كلام الشيخ المغامسي ليخلط الحابل بالنابل ويشكل على الناس في أمر دينهم بل وحتى في فرض شرعي اعتبره العلماء تاج الفروض وهو الحكم الشرعي بالخلافة.

أولا: فإن القول إن الخلافة الأموية والعباسية والعثمانية هي ملك متوارث هو قول صحيح وينطبق عليها الوصف بأنها إساءة تطبيق للحكم الشرعي، صار الأمر فيها متوارثاً للأبناء والأحفاد، وقد سماها الرسول صلى الله عليه وسلم "ملكا عاضا" وقد سمى عليه الصلاة والسلام ما يأتي بعدها بالملك الجبري، وهو الأمر الذي نعيش عليه الآن في ظل حكام الضرار في زماننا هذا، وقد بشر الرسول صلى الله عليه وسلم بأن الملك الجبري يتبعه خلافة راشدة على منهاج النبوة، فلماذا جاء الشيخ على ذكر الملك العضود وأغفل أمر الملك الجبري، وخذّل الناس عن طلب عودة الخلافة على منهاج النبوة وهي التي بشر بها نبينا الكريم صلى الله عليه وسلم؟!. ولا أظنه قد نسي أو لم يعلم، فمثله يحفظ الحديث ويفقه، فلماذا تثاقل لسانه عن قول كلمة الحق؟!

ثانيا: إن الخلط على الناس في موضوع عودة الخلافة العثمانية أم عودة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، هو أمر ظاهر ولا يخطئ فيه إلا جاهل أو متعمد، فالمطالبة بعودة الخلافة العثمانية أمر لا يكاد يذكر، بل إن أصحاب الأمر في تركيا نفسها لم يقولوا يوما بعودة الخلافة لا العثمانية ولا غيرها، بل إنهم قطعوا على أنفسهم العهود والمواثيق أنهم لا يسعون لذلك أبدا، فلماذا يأتي إنكار الشيخ على ما هو ليس بموجود؟! إن الجواب واضح، فأصوات المطالبين بعودة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة أرقت مضاجع الحكام الجبريين، وآذت مسامعهم، وساءهم ما يصلهم عنها، ولذلك يطلقون أبواقهم الإعلامية لكي تبعد الناس عنها وتشوش الأجواء بضرب الأفكار ببعضها وتسميمها ولكن هيهات أن يصلوا إلى مبتغاهم وقد أظهر الله الحق لعباده، وهنا نذكر الشيخ بقوله تعالى في سورة البقرة: ﴿وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾.

ثالثا: فإن الخلافة بمعناها الشرعي أنها رئاسة عامة لجميع المسلمين في الدنيا، تقوم على رعاية شؤون الناس بالإسلام في الداخل وحمله إلى البشرية كافة في الخارج، فهي ليست ملكية ولا جمهورية ولا إمبراطورية ولا اتحادية بل هي دولة خلافة يقوم نظام الحكم فيها على أربع قواعد وهي (السلطان للأمة، والسيادة للشرع، ونصب خليفة واحد فرض على المسلمين، وللخليفة وحده حق تبني الأحكام الشرعية) وهي بمعناها الشرعي لا تكون إلا لخليفة واحد لقوله صلى الله عليه وسلم: «إذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ، فَاقْتُلُوا الآخَرَ مِنْهُمَا» رواه مسلم، ولم يرد في الشرع أنه يجوز أن يكون الأمر غير ذلك، ولم يجعل الله الأمر للناس يختارون فيه كيف يشاؤون، والقول بأن "الشرع لم يجعل حداً معينا لقضية كيف يكون الملك" هو قول باطل ولا أساس له في الإسلام، بل إن الرسول صلى الله عليه وسلم أوضح للناس هذا الأمر بكل تفاصيله والصحابة الكرام من بعده طبقوه وساروا على هدي نبيهم فيما أرشدهم إليه في هذا الأمر، فكيف يقال بعد ذلك إن الأمر للناس يختارون فيه ما يشاؤون؟! بل وكيف للشيخ أن يقول إن ما لا ينطبق عليه المعنى الشرعي للخلافة وهي الملك ثم يقول بأنها تجوز شرعا؟ أيصير ما ليس شرعيا شرعيا؟! أم هو جمع للمتناقضات؟!

أخيرا فإن الرسول صلى الله عليه وسلم في حديث الأمراء كما جاء في مسند أحمد، قد اختصر الأمر كله حين قال: «تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلاَفَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا، فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلاَفَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةٍ. ثُمَّ سَكَتَ». فهل بعد هذا البيان من بيان وهل بعد هذا القول من قول؟! والله لا يكون بعد الملك الجبري هذا إلا خلافة راشدة على منهاج النبوة، عمل لها من عمل، وتهاون عن العمل لها من تهاون، ولكن من تخاذل وخذل؟!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ماجد الصالح – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست