وزير خارجية تونس يبرر اتفاقية "الأليكا" الاستعمارية
وزير خارجية تونس يبرر اتفاقية "الأليكا" الاستعمارية

قال وزير الشؤون الخارجية، خميس الجهيناوي، إنه لن يتم إمضاء اتفاق التبادل الحر الشامل والمعمق (الأليكا) مع الاتحاد الأوروبي دون إجراء مفاوضات بين الطرفين. وأكد وزير الشؤون الخارجية، في تصريح لحقائق أونلاين على هامش منتدى مجلة حقائق، إن تونس ستقترح عدة شروط ومبادئ في مفاوضاتها المتعلقة باتفاق "الأليكا" ومنها التدرج في عملية التبادل دون أن يفرض الاتحاد الأوروبي إجراءات سريعة على تونس ومنها التكافؤ بين الطرفين الأوروبي والتونسي.

0:00 0:00
Speed:
May 02, 2019

وزير خارجية تونس يبرر اتفاقية "الأليكا" الاستعمارية

وزير خارجية تونس يبرر اتفاقية "الأليكا" الاستعمارية

الخبر:

قال وزير الشؤون الخارجية، خميس الجهيناوي، إنه لن يتم إمضاء اتفاق التبادل الحر الشامل والمعمق (الأليكا) مع الاتحاد الأوروبي دون إجراء مفاوضات بين الطرفين.

وأكد وزير الشؤون الخارجية، في تصريح لحقائق أونلاين على هامش منتدى مجلة حقائق، إن تونس ستقترح عدة شروط ومبادئ في مفاوضاتها المتعلقة باتفاق "الأليكا" ومنها التدرج في عملية التبادل دون أن يفرض الاتحاد الأوروبي إجراءات سريعة على تونس ومنها التكافؤ بين الطرفين الأوروبي والتونسي.

وستنطلق الجولة الرابعة من المفاوضات، بين تونس والاتحاد الأوروبي، بشأن اتفاق التبادل الحر الشامل والمعمق "الأليكا"، يوم 29 نيسان/أبريل لتتواصل إلى يوم 3 أيار/مايو 2019.

وأفاد الوزير بأن تونس ستطلب من الاتحاد الأوروبي مساعدة مالية وفنية هامة لتمكين القطاعات التي سيشملها اتفاق "الأليكا"، ومنها الفلاحة، من مجابهة المنافسة المرتقبة من الجانب الأوروبي. (حقائق أونلاين)

التعليق:

بعد أن أسقط الكافر المستعمر وعلى رأسه بريطانيا دولة الخلافة التي كانت تحمي المسلمين وتذود عنهم وعن دينهم وأرضهم وثرواتهم أصبحت بلاد المسلمين بلا حماية ولا رعاية، فأصبحت مستباحة في سيادتها وأرضها ومقدراتها، وتونس كجزء من أمة الإسلام كانت تحت راية الخلافة عزيزة منيعة، أما اليوم فقد صارت تحت حكم العملاء مفتوحة على مصراعيها لمنظمات الدول الغربية وخاصة "الاتحاد الأوروبي" ومنظماته الاستعمارية وشركاته الناهبة ترتع فيها وتوقع عقودا لتقنين النهب ولإحكام القبضة والارتهان.

إن اتفاقية التبادل الحر والمعمق والشامل مع الاتحاد الأوروبي والتي شرعت تونس في إجراء المفاوضات على توقيعها منذ 2014 ليست قرارا ذاتيا من السلطة هنا كما يريد أن يقنعنا بذلك وزير الشؤون الخارجية خميس الجهيناوي، ولا تدخل ضمن خطوات الحكومات المتعاقبة لإخراج البلاد من الأزمة الاقتصادية، بل هي جزء من مسار ارتهاني تعيشه تونس في علاقتها مع الاتحاد الأوروبي منذ إدراجها كشريك تجاري زمن حكم الهالك بورقيبة إلى توقيع اتفاقية الشراكة معه سنة 1995 فترة حكم الهارب بن علي، والتي تعتبر حجر الزاوية لاتفاقية التبادل الحر الشامل والمعمق "الأليكا" المزمع توقيعها في كانون الأول/ديسمبر 2019 كما وعد رئيس الحكومة يوسف الشاهد.

إن اتفاقية الشراكة مع الاتحاد الأوروبي سنة 1995 هي عبارة عن إيجاد منطقة تجارية حرة بين الجهتين تمت خلالها إزالة التعريفات الجمركية عن بعض المنتوجات الأوروبية لتسهيل دخولها للسوق التونسية إلى أن تمت إزالة هذه التعريفات عن كل المنتوجات الصناعية الأوروبية سنة 2008 ومن ثم تم إدراج تونس كشريك تجاري متميز من الاتحاد الأوروبي تحضيرا لمفاوضات اتفاقية التبادل الحر والمعمق والشامل (الأليكا) والتي تؤسس لإيجاد اقتصاد في بلادنا على منوال الاقتصاد الأوروبي يقوم على دعم القطاع الخاص وتركيز المؤسسات الأجنبية لبعث استثماراتها في تونس، سيراً تاماً في مخططات الاستعمار الأوروبي الذي تنهب شركاته الكبرى ثروة البلاد فتزداد بهذه الاتفاقية من تغولها ودخولها في تفاصيل القطاعات كالفلاحة والصحة والنقل وغيرها من المجالات الحيوية نظرا للشروط التي ستوقع عليها السلطة في اتفاقية ''الآليكا''، وهي عبارة عن تغييب رعاية الدولة للمؤسسات العامة ورفع يدها عنها وترك البلاد مفتوحة للمؤسسات الأجنبية في تقديم الخدمات وبيع المنتوجات بشكل أيسر وأسهل من ذي قبل.

تؤسس هذه الاتفاقية لاستعمار مباشر للبلاد من خلال تركيز الشركات والمؤسسات الأوروبية في جزئيات النسيج الاقتصادي في بلادنا وجعلها وجها لوجه أمام صغرى المؤسسات التونسية والذي سينتج عنه القضاء على كل مقدرات البلاد من ثروة فتنهب وشركات فتفلس وتغلق... ففي الفلاحة سيضطر صغار الفلاحين لبيع أراضيهم أو لتأجيرها والعمل فيها لفائدة الشركات الفلاحية الكبرى.

إن تحضيرات توقيع الاتفاقية هي إملاءات من الاتحاد الأوروبي وليست مفاوضات كما تروج لذلك السلطة، وهي قبول حكام تونس الموظفون للاتحاد الأوروبي بكل شروطها الاستعمارية في انتهاك تام لسيادة البلاد وبيع لها وتسليم لمقدراتها الطاقية والبشرية وغيرها للمؤسسات الأجنبية، فعن أي تكافؤ يتحدث السيد الوزير؟!

لن يوقف نزيف الارتهان لسياسة الاتحاد الأوروبي هؤلاء الحكام الرويبضات ولا من سايرهم من منظمات وقيادات، فكلهم يدورون في فلك دول الاتحاد الأوروبي يأتمرون بأمرهم وينتهون بنهيهم، بل سيوقف هذا النزيف دولة الخلافة على منهاج النبوة التي ستقيم علاقات مع الدول الأجنبية في التجارة وغيرها على أساس حمل دعوة الإسلام لا على أساس شروطهم والتي ستكون راعية لحقوق الناس حافظة لممتلكاتهم وحامية لثروات المسلمين من التسلط عليها بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي حزب التحرير

عمر العربي

عضو حزب التحرير/ ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست