وزير فرنسا في تونس: حين يتحوّل الجلاّد إلى ضحيّة!
وزير فرنسا في تونس: حين يتحوّل الجلاّد إلى ضحيّة!

الخبر:   جدّد رئيس الحكومة هشام المشيشي خلال استقباله بقصر الحكومة بالقصبة مساء يوم الجمعة 06 تشرين الثاني/نوفمبر 2020 وزير الداخلية الفرنسي جيرالد دارمانان، إدانته المطلقة للعملية الإرهابية التي جدت بمدينة نيس الفرنسية. وأكد المشيشي حسب بلاغ لرئاسة الحكومة استعداد تونس للتعاون والتنسيق الثنائي مع فرنسا في مجال مكافحة الإرهاب والمتابعة القضائية لكل المتورطين في مثل هذه الأفعال، مشددا في السياق ذاته التزام تونس بالتنسيق حسب المعاهدات المبرمة بين البلدين بخصوص الحد من الهجرة غير الشرعية. ...

0:00 0:00
Speed:
November 08, 2020

وزير فرنسا في تونس: حين يتحوّل الجلاّد إلى ضحيّة!

وزير فرنسا في تونس: حين يتحوّل الجلاّد إلى ضحيّة!

الخبر:

جدّد رئيس الحكومة هشام المشيشي خلال استقباله بقصر الحكومة بالقصبة مساء يوم الجمعة 06 تشرين الثاني/نوفمبر 2020 وزير الداخلية الفرنسي جيرالد دارمانان، إدانته المطلقة للعملية الإرهابية التي جدت بمدينة نيس الفرنسية. وأكد المشيشي حسب بلاغ لرئاسة الحكومة استعداد تونس للتعاون والتنسيق الثنائي مع فرنسا في مجال مكافحة الإرهاب والمتابعة القضائية لكل المتورطين في مثل هذه الأفعال، مشددا في السياق ذاته التزام تونس بالتنسيق حسب المعاهدات المبرمة بين البلدين بخصوص الحد من الهجرة غير الشرعية.

من جانبه نقل وزير الداخلية الفرنسي تقدير السلطات الفرنسية لتضامن تونس مع فرنسا على إثر العمليات الإرهابية التي جدت في فرنسا، مثمنا التعاون التونسي مع بلاده في مجال مكافحة الإرهاب الذي ضرب في فرنسا كما في تونس. ودعا دارمانان في الآن ذاته إلى توحيد الجهود والتنسيق المشترك للحد من هذه الظاهرة وإيجاد حلول كفيلة بمعالجة أسبابها الحقيقية (شمس أف أم)

التعليق:

يبدو أن فرنسا قد وجدت ضالتها في عملية مدينة نيس الأخيرة للخروج من أزمة الإساءة إلى النبي ﷺ وما ألحقته بها من أضرار مادية ومعنوية، لتحاول على إثرها حمل لواء مكافحة الإرهاب في المنطقة اقتداء برأس الكفر أمريكا وطمعا في الحصول على تعاطف دولي وحشد الدعم الأوروبي الكافي لعكس الهجوم على البلاد الإسلامية ومنها تونس، منطلق شرارة ثورة الأمة.

وبعد أن تجاوز الاهتمام الإعلامي الواسع بعملية نيس الاهتمام حتى بعملية ذبح الأستاذ صاحب الرسوم المسيئة نفسه، فضلا عن موضوع التبني الرسمي للإساءة من رئيس فرنسا، طوي ملف الإساءة إلى الإسلام الذي يُراد تصدير الأزمة إليه، وطويت معه صفحة الإساءة إلى نبي الإسلام أيضا، ليصبح موضوع الساعة هو عملية نيس التي تفترض بل تصر على أن يكون منفذها شاباً عشرينياً فارّاً بجلده من تونس عبر إيطاليا بحثا عن عمل، وهي الرواية التي تمكن فرنسا من الاستثمار في الإرهاب وتحويله إلى رأسمال سياسي تكسب من خلاله بعض النقاط على حساب الحكام العاجزين في تونس، وتخفف عبره حجم الضغط الداخلي والخارجي الذي خلفه موضوع الإساءة إلى نبي الإسلام، بل لعل ذلك يعطيها جرعة إضافية من الأكسجين تمكّنها من المضيّ قُدما في سياسة استهداف مسلمي فرنسا عبر اختلاق قضية ما أسماه ماكرون (بالانفصالية الإسلامية).

في هذا الإطار تحديدا، يأتي وزير داخلية فرنسا جيرالد دارمانان إلى تونس من أجل فرض الرواية الفرنسية وابتلاع السكين بدمها في قضية نيس، حتى تثبت علينا تهمة تصدير الإرهاب إلى فرنسا، مع أنها هي صانعة الإرهاب. وهكذا، لم يخب ظن فرنسا في حكام تونس، الذين راحوا يضعون أنفسهم وسائر أبناء شعبهم في قفص الاتهام، ويتعهدون أمام أسيادهم باتخاذ الإجراءات اللازمة لمكافحة الإرهاب، دون أن يجرؤ أحد منهم على التشكيك في الرواية الفرنسية ولو من بعيد.

منذ سنوات قليلة صدر في فرنسا كتاب بعنوان "الرئيس لا يجدر أن يقول ذلك"، تضمن اعترافا صريحا للرئيس السابق هولاند بأنه أجاز لأجهزة الاستخبارات الخارجية تنفيذ أربع عمليات اغتيال على الأقل، عندها لم نجد أحدا من حكامنا ومسؤولينا يطرح تساؤلا حول ضحايا هذه الاغتيالات في بلد تعددت فيه الاغتيالات السياسية بعد الثورة، مع أن هوية المنفذ معلومة، بل مع أن المجرم الحقيقي قد شهد على نفسه متباهيا بجرائمه على الملأ. فهل تريد اليوم فرنسا الاستعمارية أن تفرض علينا تصديق خبر مردود رواية ودراية وفي سجلها تاريخ حافل بالجرائم، هي عند المسلمين جرح غائر لا يندمل؟!

إن آخر دولة يمكن لها الحديث عن موضوع الإرهاب وإعطاء غيرها دروسا في حقوق الإنسان هي فرنسا التي شيدت بجماجم ضحايا مستعمراتها المتاحف والكنائس، والتي اشتهرت مخابراتها الرسمية بثقافة قطع الرؤوس، حتى غدا الإرهاب سياسة رسمية للدولة، وأزكمت رائحة جرائمها أنوف شعوب القارة الأفريقية.

إن الموقف الصحيح والسويّ الذي يجب أن يتعامل به حاكم مسلم مع دولة فرنسا، هو ذاك الذي اتخذه السلطان عبد الحميد رحمه الله إثر محاولة اعتزام فرنسا عرض مسرحية مسيئة للنبي ﷺ، والذي تلخصه مقولته الشهيرة: "سأقلب الدنيا على رؤوسكم إذا لم توقفوا تلك المسرحية". وعليه، فإن جرائم فرنسا، لا توقفها حكومات عاجزة ودول كرتونية صنعت بأيدي الاستعمار وتحت أعينه، بل ستوقفها دولة الخلافة على منهاج النبوة، التي بشّر بها سيد الأنبياء والمرسلين سيدنا محمد ﷺ، قريبا بإذن الله، ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. وسام الأطرش – ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست