وباء فيروس كورونا قد يكون إخباراً للغرب أكثر من غيرهم
وباء فيروس كورونا قد يكون إخباراً للغرب أكثر من غيرهم

الخبر:   وفقاً لمنظمة الصحة العالمية، قد تكون حالات فيروس كورونا في حالة ازدياد هائل خارج الصين. وفقاً لمقال نشرته (ستات نيوز): حذر المدير العام لمنظمة الصحة العالمية يوم السبت من أن انتقال فيروس كورونا الجديد خارج الصين قد يزداد وأن على البلدان الاستعداد لهذا الاحتمال. وقال تيدروس أدهانوم غيبريسوس في مؤتمر صحفي في جنيف "لقد أصبح يسير ببطء الآن، لكنه قد يتسارع". "على الرغم من أنه لا يزال بطيئاً، فهناك فرصة سانحة أمامنا يجب أن نستخدمها إلى أقصى حد من أجل الحصول على نتيجة أفضل، والعمل على إبطائه وإيقافه". جاء تحذير تيدروس بعد أن أعلنت السلطات الصحية في سنغافورة أنها شخصت العدوى لدى رجل لم يسبق له أن سافر إلى الصين وليس له صلة معروفة بحالات أخرى في سنغافورة. ...

0:00 0:00
Speed:
February 12, 2020

وباء فيروس كورونا قد يكون إخباراً للغرب أكثر من غيرهم

وباء فيروس كورونا قد يكون إخباراً للغرب أكثر من غيرهم

 (مترجم) 

الخبر:

وفقاً لمنظمة الصحة العالمية، قد تكون حالات فيروس كورونا في حالة ازدياد هائل خارج الصين.

وفقاً لمقال نشرته (ستات نيوز): حذر المدير العام لمنظمة الصحة العالمية يوم السبت من أن انتقال فيروس كورونا الجديد خارج الصين قد يزداد وأن على البلدان الاستعداد لهذا الاحتمال.

وقال تيدروس أدهانوم غيبريسوس في مؤتمر صحفي في جنيف "لقد أصبح يسير ببطء الآن، لكنه قد يتسارع". "على الرغم من أنه لا يزال بطيئاً، فهناك فرصة سانحة أمامنا يجب أن نستخدمها إلى أقصى حد من أجل الحصول على نتيجة أفضل، والعمل على إبطائه وإيقافه".

جاء تحذير تيدروس بعد أن أعلنت السلطات الصحية في سنغافورة أنها شخصت العدوى لدى رجل لم يسبق له أن سافر إلى الصين وليس له صلة معروفة بحالات أخرى في سنغافورة.

"يبقى السؤال: هو ما إذا كنا في آخر مراحل الفيروس ومعدل الإصابة - خارج الصين - قد يقل، أو ما إذا كنا نرى السير الطبيعي للمرض. ما زال سابقا لأوانه أن نعرف" قال رايان.

وحذر خبير الأمراض الوبائية، مايكل أوسترهولم، أنه من غير الحكمة استنتاج أنه لمجرد أن العالم لم يشهد بعد تفشي المرض في بلدان أخرى أن ذلك لن يحدث. وقال: إن الأمر يحتاج إلى عدة أجيال من انتقال العدوى - وهي حالة تنتقل إلى اثنين آخرين، ثم تصيب اثنين آخرين وما إلى ذلك - قبل أن تتفشّى.

وقال أوسترهولم، مدير مركز أبحاث وسياسات الأمراض المعدية بجامعة مينيسوتا: "ما نشاهده هو أن مجتمع الصحة العامة يحاول اللحاق بسرعة الفيروس".

التعليق:

ندعو بالرحمة والسلامة من الله للأمة الإسلامية من هذا المرض. ومع ذلك، بينما يتوقع الكثيرون أن تكون البلدان النامية الأقل استعداداً، فقد تكون في الواقع الدول الغربية الرأسمالية المتقدمة هي الأكثر معاناةً من أي وباء عالمي، للأسباب التالية:

أولاً: إن الرأسمالية تعطي الأولوية للمنفعة المادية على كل المخاوف الأخرى. فكرياً، يعتبرون أنه من المنطقي أن يتصرف الفرد من أجل مصلحته الذاتية فقط. تُعتبر الاهتمامات الإنسانية أو الأخلاقية أو الروحية غير عقلانية، وهي نتيجة للعواطف والخرافات. نتيجة لذلك، يفشل الغرب في تعبئة الموارد بفعالية من أجل الاهتمامات غير التجارية. تتردد شركات الأدوية في تمويل الأبحاث حول الأمراض الجديدة عندما تكون غير متأكدة من استيعاب السوق المحتمل. وعلى الرغم من أن الجميع يعلمون أن الحجر الصحي ضروري لمنع الأوبئة، إلا أن الغرب بطيء في اتخاذ مثل هذه الإجراءات خشية إعاقة النمو الاقتصادي.

ثانياً: الرأسمالية، بعقيدتها الليبرالية العلمانية، تقوض العلاقات المجتمعية. لا يتم إعطاء الأسرة الأساسية أي اعتبار خاص على أي نوع آخر من المؤسسات المجتمعية، والناس غير ملزمين قانوناً بدعم الأسرة والأقارب، إلا بدرجة معينة بما يخص الأطفال الصغار. بدون علاقات مجتمعية قوية، الضعفاء في المجتمع يُتركون دون دعم إنساني فعال، ويُنقل عبء رعايتهم إلى خدمات التكافل الحكومية. ولكن مع التراجع المستمر في هيكل الأسرة الغربية جيلاً بعد جيل، يتزايد العبء على خدمات التكافل الحكومية باستمرار على الرغم من إيرادات الميزانية المتزايدة باستمرار التي يتم تخصيصها لهذه الخدمات. في جميع الدول الغربية، تعد الميزانية المخصصة لميزانية هذه الخدمات الآن هي الأضخم، أكثر بكثير من الميزانية الدفاعية، حتى في القوة العظمى الأمريكية.

كل هذا يتناقض مع الدول (غير الغربية) التي لم تخترقها الرأسمالية بهذا العمق بعد. في البلدان الإسلامية، على وجه الخصوص، على الرغم من تآكل العلاقات المجتمعية بسبب التأثير الغربي، لكن ما تزال هذه العلاقات أقوى بكثير وأكثر استقراراً مما هي عليه في الغرب، وبالتالي فإن أولئك المرضى في المجتمع يتمتعون عموماً بدعم اجتماعي قوي ممن هم حولهم ويمكنهم أن يعتمدوا عليها.

لقد جعل الإسلام الأسرة نواة العلاقات المجتمعية الدائمة، وأضاف الأصدقاء المقربين والجيران قياساً عليها. يقول الله سبحانه وتعالى في القرآن الكريم: ﴿إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاء ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾ [النحل: 90] 

وعن أبي هريرة عن الرسول r قال: أَنَّ رَجُلاً قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ، فَقَالَ r: «لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنْ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ» صحيح مسلم، وعن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله r: «خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ».

ومن المعروف أيضاً أن المسلمين أسسوا العديد من الصناديق الخيرية من أجل رفاهية الأفراد، وأن الكثير منهم لا يزالون يؤدون وظائفهم. كل هذا يساعد في توضيح السبب، حتى في واقع غياب تطبيق الإسلام، فإن البلاد الإسلامية غالباً ما تكون متفوقة على الغرب في نواح كثيرة. لكن البلاد الإسلامية سوف تحقق ازدهارها الكامل من خلال إقامة الدولة الإسلامية؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة وقيادة العالم بأسره وحماية البشرية جمعاء.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

#كورونا

#Corona

#Covid19

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست