توقّع جائحة الجوع مصاحب لوباء كورونا العواقب الحتمية لنظام عالمي رأسمالي
توقّع جائحة الجوع مصاحب لوباء كورونا العواقب الحتمية لنظام عالمي رأسمالي

الخبر: في الخامس من أيار/مايو، ذكرت وسائل الإعلام أن مدير الشؤون الإنسانية في الأمم المتحدة، مارك لوكوك، حذر من أن عدد الأشخاص الذين يتضورون جوعاً حتى الموت يمكن أن يتضاعف بحلول نهاية العام بسبب التداعيات الاقتصادية لإدارة جائحة فيروس كورونا من جانب الحكومات في جميع أنحاء العالم.

0:00 0:00
Speed:
May 14, 2020

توقّع جائحة الجوع مصاحب لوباء كورونا العواقب الحتمية لنظام عالمي رأسمالي

توقّع جائحة الجوع مصاحب لوباء كورونا
العواقب الحتمية لنظام عالمي رأسمالي
(مترجم)


الخبر:


في الخامس من أيار/مايو، ذكرت وسائل الإعلام أن مدير الشؤون الإنسانية في الأمم المتحدة، مارك لوكوك، حذر من أن عدد الأشخاص الذين يتضورون جوعاً حتى الموت يمكن أن يتضاعف بحلول نهاية العام بسبب التداعيات الاقتصادية لإدارة جائحة فيروس كورونا من جانب الحكومات في جميع أنحاء العالم. وفي نيسان/أبريل، حذر تقرير لبرنامج الغذاء العالمي التابع للأمم المتحدة من أن العالم يواجه "جائحة الجوع" بسبب الأزمة، مع احتمال المجاعات في ثلاثين دولة يمكن أن تضاعف عدد الأشخاص الذين يعانون من الجوع الحاد، ودفع أكثر من ربع مليار شخص (265 مليوناً) إلى حافة المجاعة. وصرح مدير برنامج الأغذية العالمي، ديفيد بيسلي، بأن العالم قد يواجه مجاعات متعددة "ذات أبعاد كتابية في غضون بضعة أشهر قصيرة" وأن "هناك خطراً حقيقياً من احتمال وفاة عدد أكبر من الناس من التأثير الاقتصادي لكوفيد 19 أكثر من الفيروس بحد ذاته". وقد ردد كلماته خيرت تجوسيم، نائب الرئيس الإقليمي لشرق أفريقيا في لجنة الإنقاذ الدولية، الذي صرح بأن آثار إجراءات الإغلاق "قد تسبب معاناة أكثر من المرض نفسه". وقد منعت عمليات الإغلاق الوطنية المفروضة على مختلف السكان قدرة الناس على شراء السلع الأساسية، وجففت العمل وتسببت في خسارة مفاجئة لدخل الملايين الذين كانوا يعيشون بالفعل عن طريق الكسب اليومي. كما أن لديها إمكانات عالية لتعطيل الإنتاج الزراعي والتسبب في مشاكل في نقل الأغذية إلى الأسواق.


من بين البلدان العشرة التي تم تحديدها على أنها معرضة بشكل خاص لخطر المجاعة بسبب سوء إدارة الأزمة، كان نصفها في البلاد الإسلامية وهي: اليمن وأفغانستان والسودان وسوريا ونيجيريا. في لبنان، تحدى الناس في طرابلس أفقر مدنها، إجراءات الإغلاق في وقت سابق من هذا الشهر، بسبب الجوع الذي يستعر في أحيائها، مع حشود ضخمة تضرب البنوك بسبب الغضب الشديد ضد الحكومة بسبب إدارتها الإجرامية للاقتصاد والوباء. وكتب صحفي من صحيفة "إنديبندنت" البريطانية التي تغطي الأحداث في البلاد، "هنا في أفقر أحياء ثاني أكبر مدينة في لبنان، تأتي إمكانية الإصابة بفيروس كورونا في المرتبة الثانية بعد التأكد من المجاعة".

التعليق:


إن هذه المجاعات التي هي من صنع الإنسان والناجمة عن إجراءات إغلاق كوفيد 19 التي تفرضها الحكومات، تضخم ببساطة المشاكل الاقتصادية الأليمة التي كانت موجودة بالفعل في ظل النظام الرأسمالي الكارثي الذي يتم تنفيذه داخل الدول في جميع أنحاء العالم. حتى قبل هذا الوباء، كانت أزمة الجوع تجتاح العالم بالفعل. فوفقاً لوكالة الإغاثة الدولية ميرسي، يموت 9 مليون شخص من الجوع كل عام (أي ما يقرب من 25000 شخص كل يوم) - أكثر من عدد الوفيات بسبب الإيدز والملاريا والسل مجتمعة. وذكرت الوكالة أيضا أن واحداً من كل تسعة أشخاص في العالم ينامون جوعى كل ليلة. ويعاني 20٪ من الأطفال حول العالم من نقص التغذية؛ وكل 10 ثوان يموت طفل من الجوع. ومع ذلك، تنص ميرسي أيضاً على أن هناك 17٪ من الغذاء المتاح لكل شخص على مستوى العالم عما كان عليه قبل 30 عاماً، وإذا تم توزيعه بالتساوي سيكون كافياً لكل شخص على قيد الحياة اليوم للحصول على سعرات حرارية أكثر من الحد الأدنى المطلوب للصحة المناسبة - تسليط الضوء على فائض الطعام بدلاً من النقص في العالم. هذا المستوى الإجرامي من المجاعة العالمية هو ببساطة ثمرة سامة أخرى للرأسمالية وعدم المساواة الهائلة التي يخلقها في الوصول إلى الثروة والموارد الأخرى، بما في ذلك الغذاء - بين الدول وداخلها. كيف يمكن أن يكون على سبيل المثال، أنه في نيجيريا أكبر اقتصاد في أفريقيا وأكبر مصدر للنفط في أفريقيا وحيث 40٪ تقريباً من مساحة أراضيها هي أرض صالحة للزراعة - أن 40٪ من سكانها يعيشون تحت خط الفقر، ويعيشون على أقل من دولار واحد في اليوم (بحسب المكتب الوطني للإحصاء)؟ إنها نتيجة لعقود من السياسات الرأسمالية المعيبة وكذلك الفساد المستشري الذي قادها إلى أن تصبح واحدة من أفضل الدول في العالم المعرضة للمجاعة. كل هذا دليل بما فيه الكفاية على الطبيعة السيئة للنظام الرأسمالي الذي يدمر الاقتصاد ويفقر السكان ولا يصلح للغرض فيما يتعلق بحكم الإنسانية.


علاوة على ذلك، كانت إجراءات الإغلاق الشاملة المفروضة داخل بلادنا الإسلامية نتيجة لمحاولة يائسة لمنع الإفراط في خدمات الرعاية الصحية المتداعية التي عانت عقوداً من نقص التمويل المزمن، مرة أخرى بسبب اقتصاداتها الرأسمالية المعيبة وعدم مبالاة الأنظمة غير الإسلامية المتعاقبة لاحتياجات شعوبهم. تجاهلت هذه الحكومات تماماً التأثير الكارثي الذي ستحدثه مثل هذه القيود الواسعة على شعوبها، واختاروا بدلاً من ذلك "نسخ ولصق" استجابة للدول الرأسمالية الغربية التي أغرقت أيضاً ملايين رعاياها في الجوع والكارثة المالية، أو اتبعت نصيحة منظمة الصحة العالمية بشكل أعمى، وهي مؤسسة ولدت أيضاً من رحم نظام عالمي رأسمالي. لقد فشلوا بشكل فادح في تقييم الآثار الواسعة النطاق على السكان أو اتخاذ خطوات للتخفيف بشكل فعال من الآثار الاقتصادية المعوقة عليهم.


أيها المسلمون! إلى متى سنتبع المسار الرأسمالي الذي يؤدي إلى لا مكان سوى الكارثة؟ إلى متى سنقبل بهذه الأنظمة الفاسدة والمفلسة فكريا التي لا تهتم برفاهنا كي تحكمنا؟ وإلى متى سنفشل في رؤية أن خلاصنا من الظلم والمعاناة لا يكمن إلا في إعادة تأسيس نظام الله، الخلافة على منهاج النبوة، الذي يجسد وحده المبادئ والقوانين السليمة لحكم الجنس البشري بنجاح لأنه من عند العليم الحكيم. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاء الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [الجاثية: 18]. في حين إن الخلافة لا تزال غائبة عن بلادنا، فإن أمتنا والبشرية، لن تعرف سوى الاضطهاد والمعاناة. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى * وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾. [طه: 123-124]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
د. نسرين نواز
مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست