ترامب مع الجدار في مقابل إغلاق الحكومة الأمريكية  (مترجم)
ترامب مع الجدار في مقابل إغلاق الحكومة الأمريكية  (مترجم)

أدى وعد ترامب بأمريكا العظمى محاطة بجدار، إلى أطول إغلاق حكومي تقدم عليه الحكومة الأمريكية، ولا مؤشر لنهاية تلوح في الأفق. وذكرت CNBC في الخامس عشر من كانون الثاني/يناير في تقرير لها تحت عنوان: "لمَ من غير المحتمل أن يقوض الديمقراطيون فكرة جدار ترامب الحدودي في وقت يستمر فيه أطول إغلاق حكومي؟" بأن الإغلاق كان في يومه الرابع والعشرين.

0:00 0:00
Speed:
January 17, 2019

ترامب مع الجدار في مقابل إغلاق الحكومة الأمريكية (مترجم)

ترامب مع الجدار في مقابل إغلاق الحكومة الأمريكية

(مترجم)

الخبر:

أدى وعد ترامب بأمريكا العظمى محاطة بجدار، إلى أطول إغلاق حكومي تقدم عليه الحكومة الأمريكية، ولا مؤشر لنهاية تلوح في الأفق. وذكرت CNBC في الخامس عشر من كانون الثاني/يناير في تقرير لها تحت عنوان: "لمَ من غير المحتمل أن يقوض الديمقراطيون فكرة جدار ترامب الحدودي في وقت يستمر فيه أطول إغلاق حكومي؟" بأن الإغلاق كان في يومه الرابع والعشرين.

التعليق:

سُجل الرقم القياسي السابق لأطول فترة إغلاق للحكومة الأمريكية بمدة 21 يوماً من 1995-1996. والآن، تم كسر هذا الرقم، وما تبقى هو معرفة متى وكيف سينتهي الجمود بين الكونغرس والرئاسة. كيف وصل الأمر لهذه النقطة أمر معروف جيدا. في كل عام، يجب على الرئيس والكونغرس الاتفاق على خطة للميزانية، وغالباً ما يكون هناك خلاف، وتستمر هذه العملية خلال السنة المالية الأمريكية الجديدة التي تبدأ في تشرين الأول/أكتوبر، مع موافقة الكونغرس على تمديدات التمويل المؤقتة إلى أن يتم التوصل إلى اتفاق أو تنهار المفاوضات. في هذه الحالة يتوقف "التمويل التقديري" وبذلك ينفد مال ورواتب الإدارات الحكومية والموظفين المتضررين. ولا تتأثر بعض دوائر الحكومة، لأن تمويلها لا يتطلب موافقة سنوية، ولكن بعد الفشل في التوصل إلى اتفاق هذا العام، حصل 800 ألف موظف فيدرالي على شيك أجر فارغ مقابل 0.00 دولار، مع عمل دون أجر، أو الجلوس في المنزل، فيما يكافح العديد منهم لدفع الفواتير.

رفض الديمقراطيون مطالب ترامب بتوفير 5 مليارات دولار مقابل جداره الحدودي في المكسيك، وفي وقت ما دعا ترامب قادة الكونجرس الديمقراطيين: نانسي بيلوسي وتشاك شومر إلى البيت الأبيض وقال لهم: "أنا فخور بإغلاق الحكومة من أجل أمن الحدود. سأكون أنا الشخص الذي أغلقها، لن ألومكم على ذلك... سوف آخذ الوشاح، سأكون الشخص الذي أغلقها"، وكان الإغلاق هو ما فعله حقا!

على الرغم من أن الجدار الحدودي يبدو وكأنه موضوع الخلاف غير القابل للتحقيق بين هذين الطرفين من الحكومة، إلا أن الحقيقة غائمة نوعاً ما. في الواقع، تم الكشف في وقت ما عن أن الورقة الرابحة مستعدة للتسوية على الجدار. وقد صرح زعيم الجمهوريين في مجلس الشيوخ، ميتش ماكونيل، بأن الرئيس "مرن" بشأن تمويل الجدار الحدودي، ما يتناقض مع تهديداته الجريئة السابقة بإغلاق الحكومة إذا لم تتم الموافقة على جداره. إذن ما الذي أدى إلى تراجع إمكانية التنازل؟ إنهم مؤيدوه، أو ما يسمى في السياسة الأمريكية "قاعدته".

بعد سماع المرونة المفاجئة لترامب، كتبت آن كولتر، وهي كاتبة محافظة، مقالة عن ترامب تحمل عنوان: "رئيس بلا شجاعة في بلاد بلا جدار". وقد كشفت عن فشله في الوفاء بوعده بجدار، وهو ما أسماه محام محافظ آخر داعم لترامب - إد رولنز: "أكثر خطاب يملؤه الخوف قدمه الرئيس على الإطلاق". وقد حذرته آن كولتر بأن عليه: "... أن يعلم أنه إذا لم يبن الجدار، فليس لديه فرصة لإعادة انتخابه وستكون فرصة تعرضه للخزي التام مائة في المئة"، وحذرت إد رولنز بأنه: "يجب على ترامب أن يكون حذرا... أنصاره يهتمون بهذا. ستعاديه قاعدته إذا ما مشى بعيدا".

مهددا بفقدان حب الشريحة الوحيدة من الناس الذين من الممكن أن يحبوه، ويبقوه في السلطة، فإن الطريقة الوحيدة التي كان يمكن لترامب أن يختارها هي التصعيد بالمزيد من التهديدات والثبات. وقال: "سنضطر إلى إغلاق الحدود الجنوبية بالكامل إذا لم يعطنا الديمقراطيون المعوِّقون المال لإنهاء بناء الجدار"، وبعد ذلك هدد بإعلان "حالة الطوارئ"، ومع ذلك ما زال الديمقراطيون في الكونغرس متماسكين ضده. والآن يلوم كل طرف الطرف الآخر على الإغلاق، وكما قالت CNBC: "يلوم عدد أكبر من الأمريكيين ترامب على الإغلاق أكثر من لومهم الديمقراطيين في الكونغرس، مع وضع خط تحت السبب الذي يجعل الحزب يظن أن له اليد العليا"، ويبدو أن الإغلاق يمكن أن يستمر حتى تنقلب استطلاعات الرأي ضد الديمقراطيين أو أن تظهر إشارات قاعدة ترامب الشعبية له بأنه أثبت نفسه وتسمح له أن يلين مرة أخرى ليقاتل في يوم آخر.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست