تنحي الرؤساء لا ينهي الفساد، فهو لا يسقط نظاما ولا يقيم للإسلام سلطانا
تنحي الرؤساء لا ينهي الفساد، فهو لا يسقط نظاما ولا يقيم للإسلام سلطانا

الخبر:   أعلنت لجنة برلمانية تونسية، الأربعاء، أنها تدرس طلبا تقدّم به عدد من النواب، يقضي بتنحّي رئيس الحكومة إلياس الفخفاخ عن منصبه، وتفويض صلاحياته لأحد الوزراء، إلى حين انتهاء التحقيقات المتعلقة بقضيته. جاء ذلك خلال الاجتماع الأول للجنة البرلمانية الخاصة بالتحقيق في شبهة "تضارب المصالح" للفخفاخ، بعد إعلان رئيس البرلمان راشد الغنوشي تشكيلها رسميا، الثلاثاء. ...

0:00 0:00
Speed:
July 08, 2020

تنحي الرؤساء لا ينهي الفساد، فهو لا يسقط نظاما ولا يقيم للإسلام سلطانا

تنحي الرؤساء لا ينهي الفساد، فهو لا يسقط نظاما ولا يقيم للإسلام سلطانا

الخبر:

أعلنت لجنة برلمانية تونسية، الأربعاء، أنها تدرس طلبا تقدّم به عدد من النواب، يقضي بتنحّي رئيس الحكومة إلياس الفخفاخ عن منصبه، وتفويض صلاحياته لأحد الوزراء، إلى حين انتهاء التحقيقات المتعلقة بقضيته.

جاء ذلك خلال الاجتماع الأول للجنة البرلمانية الخاصة بالتحقيق في شبهة "تضارب المصالح" للفخفاخ، بعد إعلان رئيس البرلمان راشد الغنوشي تشكيلها رسميا، الثلاثاء.

وقال رئيس اللجنة عياض اللومي، في تصريحات صحفية على هامش الاجتماع، إن "مطلب تنحي الفخفاخ جدّي ستنظر فيه اللجنة، وبعد يومين أو ثلاثة أيام ستقدم تقريرا أوليّا حول عملها". وتابع: "اللجنة ستنظر في محورين، وهما: تضارب المصالح، وشبهات الفساد في الصفقات المتعلقة بشركات رئيس الحكومة، التي تنافي قانون الصفقات العمومية".

وأوضح اللومي، أن "هناك شبهات حقيقية بأن كرّاس الشروط (للحصول على الصفقة) وُضعت على مقاس الشركات التي يمتلك الفخفاخ أسهما ومصالح فيها، كما أن هناك عقودا أبرمت وهو (الفخفاخ) بصدد أداء مهامه". (وكالة الأناضول للأنباء).

التعليق:

عشر سنوات عجاف مضت تقريبا على انطلاق شرارة ثورة الأمة من تونس، ولا يزال حكام تونس، وإعلام تونس، وكل من يوالي الاستعمار في تونس يدفع نحو إطالة عمر النظام الفاسد منذ هروب رأس النظام، مع أن الفساد المستشري في هذا البلد صار أوضح من أن يشار إليه بالبنان.

الفساد في الحقيقة، هو سمة ملازمة للنظام الرأسمالي وخاصية ثابتة فيه، بل هو الأكسجين المطيل لعمره والمحافظ على بقائه جاثما على صدور هذا الشعب الممحوق، ولذلك لا يُنتدب للإبقاء على حالة التردي السياسي والتبعية الاقتصادية إلا من هو من جنس النظام، ومن يقبل المتاجرة بقضايا الشعوب ضمن لعبة يسمونها "اللعبة الديمقراطية"، يتلاعبون فيها بمصائر الشعوب، وأكبر دليل على هذه الحقيقة هو عدد الحكومات التي تعاقبت على اغتصاب إرادة الشعب وتحويل وجهة ثورته منذ أيامها الأولى، تحقيقا لإرادة الكافر المستعمر الذي يريد إخماد جذوتها نهائيا بإفراغ المشروع الإسلامي من محتواه وحصره في تمثيل الإسلاميين المعتدلين للنظام الفاسد، حتى ييأس الجميع من التغيير فضلا عن إمكانية قيامه على أساس الإسلام.

في هذا الإطار، يتحدث "اللومي" عن الفساد متناسيا ملفات الفساد التي تلاحق رئيس حزبه (قلب تونس) و"تضارب المصالح" التي خلّفها امتلاكه لقناة تلفزونية تدعم خياراته السياسية، ليحدثنا اليوم من خلال لجنة يرأسها عن شبهة تضارب المصالح التي يواجهها رئيس الحكومة الحالي، وهي ليست الأولى ولن تكون الأخيرة في هذا النظام الفاسد، فقد سبقتها شبهات بل ملفات فساد كبيرة ومؤكدة، تم غلقها نهائيا خدمة لمصلحة لوبيات المال والأعمال ولبقاء النظام الرأسمالي في بلادنا، وقد سبق وأن تحداهم حزب التحرير بفتح ملف نهب حقل "ميكسار" للغاز الطبيعي وعجزوا عن ذلك خوفا من أسيادهم الإنجليز.

الأدهى من ذلك، أن يصور بعضهم إمكانية إسقاط المكلف بمهمة رئاسة الحكومة، بأنه انتصار للديمقراطية التي تتيح للبرلمان محاسبة الحاكم، أو أن إسقاط الحكومة سيحل المشكل، وكأنها منّة ديمقراطية، مع أن المحاسبة من أوكد الواجبات التي أكدها الإسلام. قال ﷺ: «سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ وَنَهَاهُ، فَقَتَلَهُ».

وهكذا يتقاسم الرؤساء الثلاثة الأدوار، ويتنافسون فيما بينهم على حسن الاستجابة لأوامر المسؤول الكبير، لتقدم كل سلطة خدماتها للجهات الاستعمارية، فتخوض مع الخائضين وعينها على كسب ودّ الكفار المستعمرين، في ظل استبشار بريطاني واضح بمسار العمل البرلماني كما جاء على لسان نائب رئيس البعثة البريطانية بتونس "توماس إدوارد ماتلوك" منذ أسبوع فقط إثر لقائه ببعض رؤساء اللجان، مع أنه عمل يلحق بأصحابه غضب الله سبحانه فضلا عن ضنك العيش، فهو يقوم أساسا على التشريع من دون الله ووضع تشريعات تتصالح مع الفساد الذي حذرنا منه رب العباد، وقوانين رأسمالية وربوية جائرة لا علاقة لها بالإسلام لا في أصوله ولا في فروعه، بل لم تقم عليها ولو شبهة دليل شرعي يسقط الإثم عمن خان الأمانة، وكأننا أمّة بلا دين ولا تاريخ ولا حضارة ولا تشريع ولا نمتلك أكبر المدونات الفقهية والتشريعية، أو ليس في ذمتنا رسالة للناس أجمعين!! فهل صار شعار هؤلاء البرلمانيين: "اللهم لا عيش إلا عيش الدنيا"؟! قال تعالى: ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾.

ولذلك، من أراد إنهاء مسار الفساد، فعليه بالعمل مع العاملين الجادين على إسقاط نظام الفساد، وإقامة دولة الحق والعدل، دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة بإذن الله، ففيها الصلاح والإصلاح وبها يعود السلطان للأمة، ونحن على ذلك قادرون بإذن الله، ﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس وسام الأطرش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست