تمويل ضخم من صندوق النقد الدولي لإنقاذ الاستعمار الاقتصادي العالمي للغرب
تمويل ضخم من صندوق النقد الدولي لإنقاذ الاستعمار الاقتصادي العالمي للغرب

الخبر:   قال متحدث باسم صندوق النقد الدولي يوم الخميس إن إجمالي 18 مليار دولار تمت الموافقة عليها حتى الآن لمساعدة عشرات الدول في تحمل آثار جائحة فيروس كورونا. وقال جيري رايس، رئيس قسم الاتصالات بصندوق النقد الدولي، في مؤتمر صحفي افتراضي: "منذ بداية نيسان/أبريل تقريباً حتى 6 أيار/مايو، أمس، وافقنا على تمويل 50 دولة في إطار مرافق الطوارئ هذه". "إنه صندوق النقد الدولي يتحرك بسرعة غير مسبوقة وبطريقة غير مسبوقة لمواجهة هذا التحدي غير المسبوق، الذي نواجهه جميعاً بالطبع". ...

0:00 0:00
Speed:
May 18, 2020

تمويل ضخم من صندوق النقد الدولي لإنقاذ الاستعمار الاقتصادي العالمي للغرب

تمويل ضخم من صندوق النقد الدولي لإنقاذ الاستعمار الاقتصادي العالمي للغرب

(مترجم)

الخبر:

قال متحدث باسم صندوق النقد الدولي يوم الخميس إن إجمالي 18 مليار دولار تمت الموافقة عليها حتى الآن لمساعدة عشرات الدول في تحمل آثار جائحة فيروس كورونا.

وقال جيري رايس، رئيس قسم الاتصالات بصندوق النقد الدولي، في مؤتمر صحفي افتراضي: "منذ بداية نيسان/أبريل تقريباً حتى 6 أيار/مايو، أمس، وافقنا على تمويل 50 دولة في إطار مرافق الطوارئ هذه". "إنه صندوق النقد الدولي يتحرك بسرعة غير مسبوقة وبطريقة غير مسبوقة لمواجهة هذا التحدي غير المسبوق، الذي نواجهه جميعاً بالطبع".

وقال إن أكثر من 100 دولة طلبت أو أعربت عن اهتمامها بالمساعدة من صندوق النقد الدولي منذ بداية أزمة كوفيد 19.

وقال إن الصندوق زاد من إمكانية الوصول إلى مرافق الطوارئ الخاصة به - تسهيلات الائتمان السريع وأداة التمويل السريع - لتلبية الطلب العالمي المتوقع البالغ 100 مليار دولار.

وأوضح رايس أن المساعدة الطارئة لكوفيد-19 لا يمكن مقارنتها ببرامج صندوق النقد الدولي العادية لأن الأموال لم تكن مرتبطة بشروط معينة.

"والأهم من ذلك أن هذه التسهيلات تسمح للصندوق بتقديم المساعدة الطارئة دون الحاجة إلى برنامج كامل. لذا، فهي لا تتبع شرطية صندوق النقد الدولي المعتادة".

ولضمان (عدم) إساءة استخدام الأموال، قال إنه طُلب من الدول الأعضاء الالتزام باستخدام الأموال فقط للأغراض العاجلة المتعلقة بكوفيد 19. (وكالة الأناضول)

التعليق:

توضح عمليات الإنقاذ الضخمة لصندوق النقد الدولي ضد فيروس كورونا مقدار التمويل المتاح من خلال هذه المؤسسة فقط لدعم الاقتصاد العالمي. حتى إن رئيسة صندوق النقد الدولي كريستالينا جورجيفا تحدثت عن استعدادها لاستخدام تريليون دولار كامل متاح للبنك، بينما دعا قادة غربيون آخرون إلى زيادة تمويل صندوق النقد الدولي بشكل أكبر. ويتم توفير تمويل كوفيد 19 لصندوق النقد الدولي بشكل كامل دون أي شروط، حيث طلبت جورجيفا فقط أن تستخدم البلدان هذا التمويل على أفضل وجه. والسؤال هو لماذا يتوفر هذا التمويل الضخم في الوقت الحالي ولكنه غير متاح لدعم دول العالم الثالث في التخفيف من حدة الفقر المزمن، وتحسين الرعاية الصحية والتعليم، وتعزيز الأمن الغذائي، أو إنقاذ 10٪ من سكان العالم الذين يقول البنك الدولي المنظمة الشقيقة لصندوق النقد الدولي، بأنهم يعيشون في فقر مدقع؟ الجواب على ذلك هو أن صندوق النقد الدولي والبنك الدولي لم يتم إنشاؤهما لدعم الرفاهية والازدهار العالميين ولكن للحفاظ على النظام الاستعماري الذي يدعم اقتصادات الغرب.

قبل الحرب العالمية الثانية، طورت الدول الأوروبية إمبرياليات واسعة، استخرجت من البلاد المستعمَرة الموارد واليد العاملة الرخيصة، بينما باعتهم المصنوعات الغربية بأسعار عالية، مما أدى إلى استنزاف ثروة البلاد المستعمرة أيضاً. إنه الترتيب نفسه الذي استمر على نطاق عالمي بعد نهاية الإمبرياليات الرسمية، مع استمرار الدول الغربية في استغلال الثروة والموارد والقوى العاملة لبقية العالم. الغرض من صندوق النقد الدولي والبنك الدولي، الذي تم إنشاؤه في عام 1944 كبديل للأنظمة الاقتصادية الإمبريالية الرسمية، هو تثبيت النموذج الإمبريالي العالمي الجديد. بمرور الوقت، يؤدي استنزاف الثروة المفرط إلى عدم الاستقرار الاقتصادي المحلي. إن دور صندوق النقد الدولي في هذا الأمر سياسي أكثر منه اقتصادي. يتدخل صندوق النقد الدولي عندما يصبح عدم الاستقرار المحلي غير قابل للإدارة سياسياً، ويقدم التمويل الفوري للحكومات السياسية الضعيفة. ومن خلال "الشروط" المرتبطة بهذه القروض، يضمن صندوق النقد الدولي استمرار تنفيذ النظام الاقتصادي الرأسمالي في هذه البلدان ومجموعة معينة من السياسات التي تضمن استمرار استغلال هذه الدول. وهذا يشمل تحديد أولويات الصادرات، والسماح بتدفقات رأس المال الدولية المجانية، وتوجيه الإنفاق نحو البنية التحتية الضخمة المخصصة للتجارة الدولية بدلاً من التنمية المحلية.

إن اعتماد الغرب على الاستعمار الاقتصادي هو نتيجة لتطبيقهم للنظام الاقتصادي الرأسمالي الفاشل. يخلق هذا النظام صعوداً في النشاط الاقتصادي في البداية ولكن الإنتاجية الاقتصادية تنخفض مع تطور النخبة الغنية للغاية على حساب بقية السكان. لا يمكن لهذه النخبة الصغيرة أن تولد مقدار النشاط الاقتصادي المطلوب للحفاظ على جميع السكان. وبالتالي من الضروري النظر إلى الخارج. إن حالة الدول الغربية الآن هي أنها تعتمد حتى على الخارج للمنتجات المصنعة.

تم تطبيق الإسلام لأكثر من ألف عام، وطوال هذه الفترة بنى اقتصاداً مرناً وديناميكياً مدعوماً حقاً بالنشاط الاقتصادي المحلي القوي. في الواقع، قاد الاقتصاد الإسلامي العالم وهو سبب أساسي للازدهار المتزايد للغرب قبل أن يتحولوا إلى الاستعمار، حيث اعتمدت الدول الغربية على التجارة مع البلاد الإسلامية. يقول الله سبحانه وتعالى في القرآن الكريم: ﴿هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ﴾ [الملك: 15]

بإذن الله، سيشهد العالم قريباً إقامة دولة الخلافة على منهاج النبي r التي توحد البلاد الإسلامية تحت قيادتها، وترفض تدخل الكافر الأجنبي، وتطبق الشريعة الإسلامية، وتعيد بناء حضارة رائدة عالمياً تكون مصدر سلام ورخاء للبشرية جمعاء.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست