تمجيد أنظمة الكفر أظلمت قلوبهم  (مترجم)
تمجيد أنظمة الكفر أظلمت قلوبهم  (مترجم)

إن المهاجرين واللاجئين في تركيا ليسوا أكثر من مجرد مسألة انتخابات، وقبل انتخابات 23 حزيران/يونيو، وعد وزير الداخلية سليمان سويلو بأن يستبدل لافتات تركية بجميع لافتات الشركات العربية وترحيل أكثر من 50 ألف مهاجر، وقال إنهم يتعاملون مع مسألة الهجرة أكثر من مسألة الإرهاب والمخدرات؛ وأنهم قبضوا على أكثر من 122 ألف مهاجر غير شرعي هذه السنة. "السوريون سيلتزمون بالقواعد مثلما ألتزم أنا"، و"يجب على الجميع الامتثال لقواعدنا". "سوف نتعامل مع أولئك الذين لا ينتظمون، بما يقتضيه الوضع"، "الجميع سوف يلتزم بالنظام والقواعد" و"نحن لا نسمح بإخلال النظام العام"، وقد استخدم التعابير الاستيعابية وكراهية الأجانب، ومن جهة أخرى، استخدم أكرم إمام أوغلو، مرشح حزب الشعب الجمهوري في إسطنبول، المعروف بأنه عنصري ومعادٍ للإسلام والسوريين، عبارات مثل: "هناك عائلات مصابة بصدمات، أطفال حزينون. وبالنسبة للحل العاجل للمشاكل، سندعم الأطفال والنساء والأسر نفسياً وأخلاقياً في هذه العملية". وبغض النظر عن خطابه، فإنه يهدف أيضاً إلى ترحيل الأجانب، ولا سيما السوريين، في أقرب وقت ممكن.

0:00 0:00
Speed:
June 24, 2019

تمجيد أنظمة الكفر أظلمت قلوبهم (مترجم)

تمجيد أنظمة الكفر أظلمت قلوبهم

(مترجم)

الخبر:

إن المهاجرين واللاجئين في تركيا ليسوا أكثر من مجرد مسألة انتخابات، وقبل انتخابات 23 حزيران/يونيو، وعد وزير الداخلية سليمان سويلو بأن يستبدل لافتات تركية بجميع لافتات الشركات العربية وترحيل أكثر من 50 ألف مهاجر، وقال إنهم يتعاملون مع مسألة الهجرة أكثر من مسألة الإرهاب والمخدرات؛ وأنهم قبضوا على أكثر من 122 ألف مهاجر غير شرعي هذه السنة. "السوريون سيلتزمون بالقواعد مثلما ألتزم أنا"، و"يجب على الجميع الامتثال لقواعدنا". "سوف نتعامل مع أولئك الذين لا ينتظمون، بما يقتضيه الوضع"، "الجميع سوف يلتزم بالنظام والقواعد" و"نحن لا نسمح بإخلال النظام العام"، وقد استخدم التعابير الاستيعابية وكراهية الأجانب، ومن جهة أخرى، استخدم أكرم إمام أوغلو، مرشح حزب الشعب الجمهوري في إسطنبول، المعروف بأنه عنصري ومعادٍ للإسلام والسوريين، عبارات مثل: "هناك عائلات مصابة بصدمات، أطفال حزينون. وبالنسبة للحل العاجل للمشاكل، سندعم الأطفال والنساء والأسر نفسياً وأخلاقياً في هذه العملية". وبغض النظر عن خطابه، فإنه يهدف أيضاً إلى ترحيل الأجانب، ولا سيما السوريين، في أقرب وقت ممكن.

التعليق:

نحن نعرف هذا النوع من الخطابات جيدا من أوروبا وغيرها من الدول الغربية، ويتصدر تدفق اللاجئين دائماً جدول أعمال الدول الأوروبية، ومطالبتهم بالحلول السياسية في برلماناتهم ووسائل الإعلام وكل فرصة لهم تأخذ أشكالاً أكثرعدوانية، واللسان الذي يستخدمونه لا يكشف فقط عن زيف قيمهم مثل الحرية والمساواة وحقوق الإنسان، بل يولد كراهية الأجانب وكراهية الإسلام بأبعاد قاسية. "إغلاق طرق الهجرة إلى أوروبا"، "الحد من مساعدات الاتحاد الأوروبي للاجئين في أوروبا"، بهذا تتجه السياسة الداخلية والخارجية، التي لها ما يبررها من خلال مفاهيم الاستيعاب، والاندماج، والتوافق. إن شعبية السياسيين، الذين يدعون أنه يجري تعريب أوروبا ونشر الإسلام فيها، وأن "الناس لا تزال عاطلة عن العمل"، في حين إن "الثقافة الأجنبية تهيمن على الثقافة الخاصة"، وهي تنمو يوما تلو الآخر. فهذا الخطاب يناسب الغرب الكافر، فالغرب نفسه هو الذي يتسبب في تشريد الناس من خلال سياسته الاستعمارية القمعية وحروبه، ويتركهم للبؤس من خلال استغلال ثرواتهم، بينما يحتفظ بالإضافة إلى ذلك بإحصاءات عن حساباته المتعلقة بالأرباح والخسائر، وأولئك الذين ساعدوا في النجاح السياسي الأجنبي للغرب هم الحكام والسياسيون الخونة وعديمو الشخصية في البلاد الإسلامية، الذين ينفذون سياسة الغرب الكافر المهينة على أهل البلد والمهاجرين المضطهدين في بلاد الإسلام.

وإلى جانب هذه التهديدات التي وُجّهَت ضد السوريين، يعيش اليوم أكثر من 50 ألف لاجئ (غير شرعي) من أوزبيكستان وطاجيكستان وقرغيزستان في تركيا، وعلى الرغم من أنهم موجودون في تركيا لمدة 7-8 سنوات في المتوسط، فإنهم محرومون من أية حقوق، ولا يستطيعون إرسال أطفالهم إلى المدارس، ولا يمكنهم الاستفادة من الخدمات الصحية ولا يمكنهم العمل، وبالإضافة إلى ذلك، يُحتجز آلاف اللاجئين الأوزبيك والقرغيز والإيغور، بمن فيهم النساء والأطفال، في مراكز الإعادة للوطن في جميع أنحاء تركيا، بعضهم مسجون، وبعضهم الآخر في مراكز الإعادة للوطن، التي صممت للإقامة لفترات قصيرة، لأكثر من سنة. لقد اعتنق النظام التركي سياسة أسياده الاستعماريين لدرجة أنه يتحدث الآن بالكلام نفسه عن أولئك المضطهدين، الذين لجأوا إلى تركيا، كما يفعل في كل قضية أخرى، على الرغم من كونهم جزءاً من الشعب المسلم، فإن قلوبهم أظلمت مع ظلام أنظمة الكفر التي تمجدها، والأسوأ من ذلك هو أن ناخبي حزب العدالة والتنمية لم يظهروا أي رد فعل على هذه العبارات من وزير الداخلية، سليمان سويلو. ومع ذلك، كان المسلمون يهزّون وسائل الإعلام ووسائل التواصل الإلكتروني عندما ينطق حزب الشعب الجمهوري أو أطراف أخرى بهذه العبارات، من أجل حماية إخوانهم وأخواتهم السوريين.

إنه لمن المؤلم جدا أن نرى كيف يفتح الحكام علينا كل الطرق أمام الكفار للتغلب والسيطرة علينا، على الرغم من أن الله سبحانه وتعالى بين بوضوح في سورة النساء الآية 141: ﴿وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾ أي أنه سبحانه وتعالى حرم أن يكون للكفار على المؤمنين أي سلطان، لذا يجب على المسلمين أن يفهموا معنى هذه الكلمات بشكل جيد وأن يعجلوا في أمر السياسيين بما هو صحيح وخير وأن يمنعوهم مما هو خاطئ.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

زهرة مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست