تغيير العملة السودانية هو هروب من المشكلة الاقتصادية
تغيير العملة السودانية هو هروب من المشكلة الاقتصادية

الخبر: كشف القيادي باللجنة الاقتصادية لقوى الحرية والتغيير عادل خلف الله عن موافقة رئيس مجلس الوزراء د.عبد الله حمدوك على مقترحها الخاص بتغيير العملة، وقال خلف الله لـ(الجريدة): (قوى التغيير متمسكة بتغيير العملة بغض النظر عن تكلفتها لأنها ضرورية للإصلاح الاقتصادي والاستقرار السياسي والأمني)، وشدد على أنه بدون تغيير العملة لن يتحقق مناخ إيجابي لتحقيق إصلاحات اقتصادية لجهة أن أكثر من 90% من عرض النقود موجود خارج الجهاز المصرفي أو مكتنز لدى قوى النظام البائد مما يؤكد أهمية استصدار عملة جديدة، ورفضت وزير المالية المكلفة د. هبة محمد لجوء الحكومة لتغيير العملة لارتفاع تكلفتها والتي تبلغ 400 مليون دولار ووصفت تغيير العملة بأنه غير فعال وتجميلي كالمكياج. (صحيفة الجريدة 2020/9/17م)

0:00 0:00
Speed:
September 18, 2020

تغيير العملة السودانية هو هروب من المشكلة الاقتصادية

تغيير العملة السودانية هو هروب من المشكلة الاقتصادية


الخبر:


كشف القيادي باللجنة الاقتصادية لقوى الحرية والتغيير عادل خلف الله عن موافقة رئيس مجلس الوزراء د.عبد الله حمدوك على مقترحها الخاص بتغيير العملة، وقال خلف الله لـ(الجريدة): (قوى التغيير متمسكة بتغيير العملة بغض النظر عن تكلفتها لأنها ضرورية للإصلاح الاقتصادي والاستقرار السياسي والأمني)، وشدد على أنه بدون تغيير العملة لن يتحقق مناخ إيجابي لتحقيق إصلاحات اقتصادية لجهة أن أكثر من 90% من عرض النقود موجود خارج الجهاز المصرفي أو مكتنز لدى قوى النظام البائد مما يؤكد أهمية استصدار عملة جديدة، ورفضت وزير المالية المكلفة د. هبة محمد لجوء الحكومة لتغيير العملة لارتفاع تكلفتها والتي تبلغ 400 مليون دولار ووصفت تغيير العملة بأنه غير فعال وتجميلي كالمكياج. (صحيفة الجريدة 2020/9/17م)

التعليق:


في الوقت الذي يعاني فيه السودان من تدني قيمة الجنيه السوداني وما يصاحبه من ارتفاع مهول في أسعار جميع السلع والخدمات والذي ينعكس على الناس جوعا وفقراً وعوزاً، في هذا الموقف الحرج تتخذ الدولة إجراءات هزيلة ومعالجات كسيحة لا علاقة لها بأصل المشكلة، فتارة تقوم بإلقاء اللوم على تجار العملة فتقوم بملاحقتهم واعتقالهم نكثا لما كانت تعيبه على النظام السابق باتخاذ هذه الإجراءات، وتارة تتخذ فزاعة النظام البائد "شماعة" لتبرر فشلها، ها هي بعد مشاورات ولقاءات واجتماعات مع اللجنة الاقتصادية لقوى الحرية والتغيير تخرج بحل جديد حسب زعمها وهو تغيير العملة لإدخال الكتلة النقدية إلى النظام المصرفي لإيقاف المضاربة في الدولار والتجسس على الحركة المالية للناس، وهذا القرار لن يحل المشكلة للأسباب التالية:


أولاً: إن تغيير العملة لن يجبر التجار المرتبطين بالنظام البائد حسب زعمهم إلى إيداع أموالهم في البنوك وإنما سيؤدي إلى المضاربة في السوق الموازي للدولار من هؤلاء التجار لتحويل أموالهم إلى العملة الأجنبية تجنباً لإيداعها في بنوك الدولة وهو ما سيزيد من الطلب على الدولار وبالتالي زيادة سعره.


ثانياً: إن المصارف والبنوك التي تريد الدولة إدخال الأموال إليها هي أس الداء، فهي تتعامل بالربا الممحوق المحرم الذي تأكل أموال الناس به بالباطل عن طريق التحايل على الربا فتفقر البلاد والعباد.


ثالثاً: إن مشكلة انخفاض سعر الجنيه السوداني ليست متعلقة بوجود الكتلة النقدية خارج النظام المصرفي وانما المشكلة هي في زيادة الكتلة النقدية وذلك لأن الدولة تقترض من البنك المركزي لسداد مرتبات الموظفين ما يعني أن الدولة تقوم بطباعة العملة بكميات كبيرة دون غطاء لها من العملة الأجنبية.


رابعا: إن الدولة تعطل الإنتاج وتحارب المنتجين عن طريق سياسات تدميرية كفرض ضرائب باهظة تجعل المنتجات السودانية لا تستطيع أن تنافس في السوق العالمية أو بقرارات جائرة من المسؤولين فقد أوقفت الدولة الصادرات للمنتجات السودانية مثل السمسم والفول السوداني بقرار صادر من وزير الصناعة (صحيفة الصيحة)، كما أوقف وزير الثروة الحيوانية تصدير الماشية إلى دول الخليج وذلك بعد أن أطلق الوزير شائعة بأن الماشية مصابة بمرض الحمى الصدعية مما أدى إلى نفوق أكثر من 25 ألف رأس من الماشية جوعا وعطشا بعد أن تم إرجاعها إلى السودان وتحمل خسارتها التجار (وكالة سونا للأنباء).


إن علاج مشكلة تدني سعر العملة المحلية علاجاً جذريا يكون بالآتي:


1/ فك الارتباط بالدولار نهائيا وأن تقيم الدولة جميع تعاملاتها الخارجية والداخلية بشكل مستقل عن الدولار.
2/ الرجوع إلى قاعدة الذهب والفضة كغطاء للعملة، وإيقاف جميع التعاملات بالأوراق النقدية دون غطاء.
3/ إيقاف جميع الجبايات غير الشرعية التي تفرض على التجار بشكل فوري.
4/ أن تشجع الدولة المنتجين مثل المزارعين والمصنعين وذلك بدعمهم برأس المال حتى يتمكنوا من الإنتاج.
5/ إيقاف التعاملات مع جميع المنظمات والمؤسسات الاقتصادية الدولية الاستعمارية وعدم الانصياع إلى روشتاتهم.


ولكن هذه القرارات لن تقوم الدول الوطنية الموجودة اليوم باتخاذها لأنها تتعارض مع مصالح الدول الكبرى وهذه الدويلات ما وجدت إلا للحفاظ على مصالحهم، ولكن هذه القرارات تحتاج إلى دولة مبدئية ذاتية، دولة لا تلهث خلف الدول الاستعمارية الحاقدة على الإسلام والمسلمين، دولة تتخذ من الإسلام أساساً لانطلاقها وتكون حريصة على مصالح رعاياها لا على رعايا الدول الأجنبية، وهي دولة المسلمين؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي ملأت الأرض عدلا وخيراً وستملؤها من جديد قريباً بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أكرم سعد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست