تعديل قوانين الأسرة في السودان وجنة إبليس الموعودة!
تعديل قوانين الأسرة في السودان وجنة إبليس الموعودة!

الخبر:   كشفت لينا الشيخ وزيرة العمل في مخاطبة، احتفالاً باليوم العالمي للفتاة، عن قانون العنف المبني على النوع توطئة لإجازته والعمل الجاري في الاستراتيجية القومية لإنهاء بتر الأعضاء التناسلية والاستراتيجية القومية لإنهاء زواج الطفلات التي شارفت على الانتهاء، بجانب إجازة الخطة 13/25 للمرأة والأمن والسلام والإجراءات القياسية للتصدي للعنف المبني على النوع مشيرة إلى خطورة ذلك على تعليم البنات وفرص العمل المتساوي والحياة الكريمة مستقبلاً، كما أشارت للعنف القائم المتفشي والذي يحميه القانون مشيرة لمصادقة السودان على اتفاقية إطارية للعنف الجنسي في مناطق النزاعات لتمكين النساء اقتصادياً. وأكدت أن وزارتها منذ بداية الفترة الانتقالية قامت بالإشراف على إصلاح القوانين والسياسات المتعلقة بالجنسين مشيرة إلى تعديل القانون الجنائي ليتوافق مع اتفاقية حقوق الطفل والقوانين الدولية الأخرى. (صحيفة أخبار اليوم 12 تشرين الأول/أكتوبر2020م).

0:00 0:00
Speed:
October 13, 2020

تعديل قوانين الأسرة في السودان وجنة إبليس الموعودة!

تعديل قوانين الأسرة في السودان وجنة إبليس الموعودة!

الخبر:

كشفت لينا الشيخ وزيرة العمل في مخاطبة، احتفالاً باليوم العالمي للفتاة، عن قانون العنف المبني على النوع توطئة لإجازته والعمل الجاري في الاستراتيجية القومية لإنهاء بتر الأعضاء التناسلية والاستراتيجية القومية لإنهاء زواج الطفلات التي شارفت على الانتهاء، بجانب إجازة الخطة 13/25 للمرأة والأمن والسلام والإجراءات القياسية للتصدي للعنف المبني على النوع مشيرة إلى خطورة ذلك على تعليم البنات وفرص العمل المتساوي والحياة الكريمة مستقبلاً، كما أشارت للعنف القائم المتفشي والذي يحميه القانون مشيرة لمصادقة السودان على اتفاقية إطارية للعنف الجنسي في مناطق النزاعات لتمكين النساء اقتصادياً.

وأكدت أن وزارتها منذ بداية الفترة الانتقالية قامت بالإشراف على إصلاح القوانين والسياسات المتعلقة بالجنسين مشيرة إلى تعديل القانون الجنائي ليتوافق مع اتفاقية حقوق الطفل والقوانين الدولية الأخرى. (صحيفة أخبار اليوم 12 تشرين الأول/أكتوبر2020م).

التعليق:

السؤال الذي يفرض نفسه: ما العلاقة بين وزارة العمل وتعديل قوانين الأسرة؟

فوزيرة العمل أصبح عملها الأساسي هو تنفيذ قرار الجمعية العامة للأمم المتحدة الصادر عام 2020م الذي تضمن ما سمِّي إعلان الألفية، وهو رؤية تجمع ثمانية أهداف، المتدبر فيها يرى مطابقة بينها وبين عمل وزارة العمل.

 والمتمعن في أهداف الألفية يرى أنها تعطي منظمة الأمم المتحدة صلاحيات واسعة للتدخل في كل العالم، وكل شؤون الدول والشعوب عبر توقيع مثل هذه الاتفاقيات؛ حقوق الطفل والاتفاقية الإطارية للعنف الجنسي وغيرها من الاتفاقيات التى ذكرتها الوزيرة، والعلاقة وثيقة وواضحة بين جهود الوزيرة؛ فقانون العنف المبني على النوع والاستراتيجية القومية لإنهاء زواج الطفلات والاتفاقية الإطارية للعنف التي تمت المصادقة عليها وقانون حقوق الطفل... جميعها من بين أهداف الألفية التي فرضتها الأمم المتحدة.

فالهدف الخامس من أهداف الألفية مثلاً ينص على تحقيق المساواة بين الجنسين والتمكين لجميع النساء والفتيات...، ورغم أن ذلك لم يحقق أية حياة كريمة للمرأة في الغرب لكن الوزيرة تصرّ على إصلاح القوانين ومواءمتها مع القوانين الدولية زاعمة أن ذلك سيحقق التمكين الاقتصادي ويقضي على عقبات تعليم البنات وفرص العمل المتساوي!

وكل هذه القوانين مستوحاة من حضارة الغرب، بل هي تجسيد لنظرة سقيمة فيما يتعلق بعلاقة الرجل بالمرأة وما ينبثق عنها وما يترتب عليها، وهي نظرة تقوم على استغلال المرأة تحت شعارات المساواة والتحرر، واتخاذ تلك الشعارات ذريعة للوصول إلى المرأة واستغلالها وإبعادها عن عملها الأصلي بوصفها أماً وربة بيت، لتدمير الأسرة.

المدقق في القوانين التي قالت الوزيرة إن وزارتها تقوم بالإشراف على إصلاحها وتعديلها لتتوافق مع القوانين الدولية يجد أنها جميعها لأهداف وغايات تتعلق بأفكار ومفاهيم، منها عقائد وأحكام شرعية تتعلق بحقوق وواجبات مثل الحريات العامة؛ كالحرية الشخصية التى تحل للمرأة كل ما حرمه الله تعالى وتجعل حقوق وواجبات المرأة خاضعة للمساواة بين الجنسين، في الزواج والطلاق والميراث؛ استهدافاً للنظام الاجتماعي في الإسلام على وجه الخصوص.

وبجهود الوزيرة تحقق للغرب ما يصبو إليه من غايات؛ فبدلاً من تحقيق أهداف أهل السودان من العدالة والعيش الكريم أخذت تطبق وجهة نظر الغرب الاجتماعية بالاحتيال والخداع ماثلة في القوانين المحلية، وستفرض بسلطة القانون والدولة، والترويج لها بشكل تدريجي عبر مناهج التعليم التي أُقصي عنها النظام الاجتماعي في الإسلام خاصة مقرر الصف الأول ثانوي، وعبر برامج الإعلام الخبيثة التي تستضيف نسويات يقمن باللازم من التحريفات وأباطيل مثل برنامج "ما في مشكلة" الذي تبثه قناة النيل الأزرق، وبرنامج "الأسرة" في قناة الخرطوم وغيرها من برامج الاحتيال والترويض التي تحارب مفاهيم الإسلام، بوسائل وأفكار ومسميات كثيرة منها الموضة والتحرر، فتصور الإسلام على أنه إرهاب وتطرف، وتزمت وتخلف...، وتمعن في التضليل والخداع بخطط تفصيلية لدس السم في الدسم لتنفيذ حضارة الغرب، وهنا تكمن الشياطين، بل تنشط وترتع بمسميات جمعيات حقوق المرأة والعنف ضد المرأة...الخ.

والحقيقة هي أن هذه الأهداف مجرد شعارات تخفي خلفها الاستغلال والهيمنة الغربية، وقد اتخذ موضوع التنمية وتمكين المرأة الاقتصادي أداة وإطاراً يضم داخله جنة إبليس الموعودة!

إن أي تعديل يمس قانون سن الزواج هو مقدمة لما بعده، وهو طاعة للكافر المستعمر وليس معالجة لزيادة حالات الطلاق كما تروج له الجمعيات النسوية، والسبب الحقيقي لارتفاع حالات الطلاق هو ضعف التقوى والفساد الذي استشرى بين الناس بسبب البرامج التي ترعاها الدول الغربية وتنفذها الحكومة والتي تهدف إلى إفساد الذوق العام للمجتمع وسلخ المسلمين عن دينهم وقيمهم بذريعة الحرية الشخصية التي جعلت المرأة تعيث في الأرض فسادا.

إن هذه الخطط الإجرامية لا بد لكل غيور على دينه وعرضه من تسليط الضوء عليها وتوضيح ما فيها من خطر عظيم على الأمة الإسلامية ليتحمل كل منا مسؤوليته، ولنقف جميعاً في وجه العابثين المجرمين الذين يشمئزون من أحكام الإسلام ويأنسون بمقررات الأمم المتحدة!! فقفوا موقفاً يحبه الله ورسوله، ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة عبد الجبار (أم أواب)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست