صراع الكونغرس الأمريكي مع الرئاسة حول سوريا يفضح حقيقة الديمقراطية الغربية والتفكير الأمريكي الاستراتيجي العظيم!
صراع الكونغرس الأمريكي مع الرئاسة حول سوريا يفضح حقيقة الديمقراطية الغربية والتفكير الأمريكي الاستراتيجي العظيم!

الخبر: إن الصدام داخل الحكومة الأمريكية مستمر بين شخصيات حكومية رفيعة المستوى وبين الرئيس الأمريكي دونالد ترامب حول قراره سحب القوات الأمريكية من سوريا، وبالتالي السماح للقوات التركية بأخذ مكانها.

0:00 0:00
Speed:
October 17, 2019

صراع الكونغرس الأمريكي مع الرئاسة حول سوريا يفضح حقيقة الديمقراطية الغربية والتفكير الأمريكي الاستراتيجي العظيم!

صراع الكونغرس الأمريكي مع الرئاسة حول سوريا
يفضح حقيقة الديمقراطية الغربية والتفكير الأمريكي الاستراتيجي العظيم!


(مترجم)


الخبر:


إن الصدام داخل الحكومة الأمريكية مستمر بين شخصيات حكومية رفيعة المستوى وبين الرئيس الأمريكي دونالد ترامب حول قراره سحب القوات الأمريكية من سوريا، وبالتالي السماح للقوات التركية بأخذ مكانها.


فبحسب الواشنطن بوست: وصفت السيناتور ليندسي غراهام (من الحزب الجمهوري)، يوم الخميس قرار الرئيس ترامب سحب القوات الأمريكية من شمال سوريا بأنه "أكبر خطأ يقترفه في رئاسته"، في الوقت الذي قام فيه أعلى ثلاثة جمهوريين رتبة في المجلس باتخاذ خطوات من أجل فرض عقوبات على تركيا بسبب اعتدائها العسكري على القوات الكردية الحليفة لأمريكا.


وقامت غراهام وهي واحدة من أكبر المدافعين عن ترامب، بالانفصال عنه عقب قراره المفاجئ سحب القوات الأمريكية العسكرية، وهي حركة أثارت موجة واسعة من الإدانات من الجمهوريين والديمقراطيين. وقد توغلت القوات التركية في هجماتها على الأكراد يوم الخميس.
وقد أشعلت غراهام الانتقادات التي أدانت ترامب بسبب قراره وانتقدت الرئيس التركي رجب طيب أردوغان في مؤتمر صحفي في كلية كيتاديل العسكرية في تشارلستون.


حيث قالت غراهام: "لقد تخلّى الرئيس عن الشعب الذي ساعدنا في القضاء على (داعش)، إن الفوضى تتكشف، وعندما أسمع الرئيس يقول "نحن سنخرج من سوريا" فعندها خطابي لك أن ما تفعله أسوأ مما فعله أوباما"، في مقارنة لترامب بنظيره السابق باراك أوباما. "عندما ترك أوباما العراق، اندلع الجحيم هناك، وإن كنت تعتقد، سيدي الرئيس، أن (داعش) لا يشكل تهديدا سوى لأوروبا، فأنت حقا لا تفهم (داعش). إن (داعش) يريد النيل منا جميعا. وليس فقط من أوروبا"...


وفي الوقت ذاته، أعلن الجمهوريون الثلاثة الأعلى رتبة - قائد الأقلية كيفن ماكارثي، وويب ستيف سكاليس، ورئيسة المؤتمر ليز تشيني - أعلنوا أنهم والعشرات غيرهم من زملائهم سيقدمون مقترح مشروع لفرض عقوبات على تركيا بسبب اعتدائها العسكري على القوات الكردية الحليفة لأمريكا.

التعليق:


على الرغم من استمراره في الهجوم على نظيره السابق، فإن الرئيس ترامب يواجه الضغوط السياسية نفسها حول سوريا والتي واجهها أوباما محليا وعالميا حول العراق وأفغانستان. والهجمات التي تشنّها السيناتور ليندسي غراهام على رئاسة ترامب لا تأتي من شخص واحد، وإنما تمثل معارضة كامل المؤسسة الأمريكية لخطط ترامب، والدليل على ذلك الدعم الواسع الذي تتلقاه غراهام من الكونغرس.


إن الهدف الحقيقي للوجود الأمريكي في سوريا ليس هزيمة تنظيم الدولة، والذي استُغل وجوده من أجل إعطاء أمريكا مزيداً من المبررات لاستمرار تدخلها. إن الهدف الحقيقي لأمريكا في سوريا هو هزيمة الثورة السورية، والذي تم تحقيقه من خلال تعاون عدد غير مسبوق من القوى في المنطقة، وخصوصا وجود روسيا بينهم، إضافة إلى إيران وتركيا والسعودية والإمارات والأردن، حيث تم تحقيق التوازن بينهم من خلال تعيين مناطق محددة لكل واحدة من هذه الدول لتحتويها. كما تواجدت القوات الأمريكية ولكن بشكل قليل جدا مقارنة بما كانت عليه في أفغانستان والعراق.


ومما لا شك فيه أن أمريكا هي القوة العظمى في العالم والأقوى عسكريا، حيث تمتلك ترسانة أسلحة لا مثيل لها في التاريخ البشري. إلا أن أمريكا توجد في الطرف الآخر من القارات مقارنة بأوروبا وآسيا وأفريقيا، وتعاني من تضاؤل قوتها بشكل ملحوظ عندما تحارب عن بعد. كما أن القوة الأمريكية هي بالأساس بحريّة، وبالتالي فهي تواجه عائقا آخر عندما تشترك بمعركة على اليابسة. وفي الوقت نفسه، فإن عودة الإسلام مجددا في نفوس الأمة الإسلامية بدعوته للجهاد سبب ذعرا لأمريكا من أن تُقدم على إرسال قواتها إلى بلاد المسلمين بأي عدد ملحوظ بعد الكوارث العسكرية التي تعرضت لها في العراق وأفغانستان.


إنها حقيقة من وجهة نظر أمريكا، أن الثورة السورية قد تم القضاء عليها، سامحة بذلك لترامب في المضي بالتعهد الذي التزم به في حملته الانتخابية بإنهاء الحروب الخارجية وبالتالي يتحقق له نجاح عظيم في السياسة الخارجية فقط في الوقت المناسب لحملة إعادة انتخابه العام القادم. إلا أن المؤسسة الأمريكية ترفض سحب القوات الأمريكية لثلاثة أسباب: الأول، إعادة دخول القوات التركية إلى سوريا سيهدد التوازن الداخلي الذي حاولت أمريكا تحقيقه في سوريا، مما يجعل الأمر أكثر صعوبة لانسحاب إيران وروسيا؛ ثانيا، إن التوسع التركي سيهدد التوازن الإقليمي حيث إن سوريا كما العراق أصبحت ضعيفة جدا مقارنة بتركيا؛ أما ثالثا، فبعد القيام بهذا الاستثمار الضخم على مدى العقد الماضي، فإن المؤسسة الأمريكية تتوق إلى وجود قاعدة عسكرية دائمة لها هناك ولن ترضى بانسحاب تام مهما كلف الأمر.


ومما لا شك فيه أن ترامب سيضطر للوصول إلى تسوية مع المؤسسة الأمريكية كما فعل أوباما قبله. حيث إن الديمقراطية الليبرالية الغربية ليست سوى وَهْم. فما الديمقراطية سوى خيال افتراضي لم يكن حقيقة أبدا، حتى في دول الإغريق التي هي منشأها. فنظام الحكم الغربي الحقيقي هو حكم الأقلية الرأسمالية، حيث يمسك بزمام الدول الغربية نخبة قليلة يهتمون بمصالحهم الخاصة. وأكبر ضغط على أي حاكم هو الشعب الذي سيخدمه. لكن في حالة نظام الحكم الغربي، فإنه بتوزيعه للسلطات، يضمن أن الفرع التنفيذي للحكومة يمكن السيطرة عليه واحتواؤه من قبل المشرعين والقضاة.


وبإذن الله تعالى فإن العالم سيشهد قريبا نموذجا مختلفا جدا من السياسات الخارجية والحكم من خلال إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. حيث سيكون للخليفة السلطة الكاملة في الدولة، حيث يمنع الإسلام وجود نخبة قوية في الدولة، من خلال جعل السياسة الخارجية منفصلة عن اعتبارات المصالح المادية. أما الضغط المحلي الوحيد الذي يتعرض له الخليفة فهو حق الأمة الإسلامية في محاسبته حتى لا يحيد أبدا عن التقوى. قال تعالى في القرآن الكريم: ﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّهُ إِلَيْكَ﴾ [المائدة: 49]


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي في حزب التحرير
فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست