"سقوط حر" للاقتصاد اللبناني
"سقوط حر" للاقتصاد اللبناني

الخبر:   رويترز 2020/4/30 - يعتزم لبنان طلب مساعدة من صندوق النقد الدولي بعد أن وافق على خطة إنقاذ اقتصادي تنطوي على خسائر كبيرة لنظامه المصرفي، في الوقت الذي يستهدف فيه رسم مسار الخروج من أزمة تُعتبر أكبر تهديد للاستقرار منذ الحرب الأهلية في الفترة بين 1975 و1990.

0:00 0:00
Speed:
May 02, 2020

"سقوط حر" للاقتصاد اللبناني

"سقوط حر" للاقتصاد اللبناني

الخبر:

رويترز 2020/4/30 - يعتزم لبنان طلب مساعدة من صندوق النقد الدولي بعد أن وافق على خطة إنقاذ اقتصادي تنطوي على خسائر كبيرة لنظامه المصرفي، في الوقت الذي يستهدف فيه رسم مسار الخروج من أزمة تُعتبر أكبر تهديد للاستقرار منذ الحرب الأهلية في الفترة بين 1975 و1990.

التعليق:

مع بلوغ العملة الصعبة التي تحتاجها الحكومة اللبنانية لاستيراد بعض السلع وكذلك دفع ربا الديون السابقة، ومع تخلف لبنان للمرة الأولى في آذار/مارس عن دفع ما ألزم نفسه به من زيادات ربوية للمؤسسات الدولية، ومع فقدان الليرة اللبنانية لنصف قيمتها فإن تقارير الحكومة اللبنانية تصف ما يجري بأنه "سقوط حر" للاقتصاد، أي أنها تعترف بفشلها التام في إدارة شؤون البلاد.

وأما هذا التدهور الاقتصادي الشامل فقد اندفع الناس للتظاهر والاعتصام قبل الحجر الصحي الناتج عن تفشي فيروس كورونا عالمياً، ثم عادت الاحتجاجات بشدة في طرابلس الشمال وبعض المدن اللبنانية الأخرى، كلها تنادي برحيل الطبقة السياسية الفاشلة. ولم تستطع الحكومة اللبنانية التغطية على هذا الفشل الذريع بإطلاق موجة من الصراعات السياسية بين رئيس الوزراء الذي يظهر كواجهة لحزب إيران والرئيس عون ضد حاكم مصرف لبنان المركزي الذي يدافع عنه الحريري، وبغض النظر عن كون هذا الصراع حقيقياً بين أذناب الدول الاستعمارية المختلفة فإن هذا الصراع لم يحجب الشعب في لبنان عن قول كلمته: لترحل الطبقة السياسية بكافة رموزها.

وهذا الموقف الشجاع والواضح من الشعب اللبناني، حتى بغض النظر عن بعض استخداماته من بعض السياسيين، فإنه يعيد المشكلة إلى أصولها الأولى.

وهذه الأصول تقول بأن السياسيين ومن مختلف مشاربهم الحزبية والتبعية الخارجية فإنهم كلهم قد رتعوا في المال العام على مدى عقود، بحيث أصبح الهدر العام والفساد وسوء الحكم هي السمة البارزة للحكم في لبنان، وهي وإن كانت تشمل الأنظمة العربية كلها ويمكن أن تنفجر في أي بلد آخر غير لبنان إلا أن الشعب اللبناني كان سباقاً إلى قول الحقيقة بأن يرحل كافة السياسيين بكافة أنواعهم وبغض النظر عن الدولة التي هم عملاء لها، إذ لا يوجد في الحكم في لبنان رجال مستقلون يعملون لخدمة لبنان ومصالح شعبه، بل كلهم تابعون لجهات أجنبية، بعضهم عميل مباشر للدول الاستعمارية أمريكا وبريطانيا وفرنسا، وبعضهم عميل لعملاء هذه الدول مثل عملاء إيران وعملاء السعودية وغيرهم.

والحقيقة الماثلة اليوم آثارها بكل وضوح أمام اللبنانيين هي أن من أراد أن يعادي الله فإن الله سيقصمه، وكل تلك الطبقة السياسية حتى بمسميات أحزابها الإسلامية كانت تعادي الله عبر اتباع النظام الربوي في التعامل مع القروض والمؤسسات المانحة للدولار. وقد بلغ مستوى الربا في لبنان أزمة شديدة، إذ تدفع الدولة نصف إيراداتها السنوية على شكل ربا لتلك الديون، بمعنى أن الشعب اللبناني الدافع للضرائب يكد ويشقى من أجل أن تمتلئ جيوب أصحاب تلك القروض بالنقود التي حصلت من عرق جبين الشعب اللبناني، وهذا كله عبر سياسة ممنهجة من الطبقة السياسية برمتها.

وهذه الطبقة ترتع في الفساد، وما دام وضع أشخاصها ممتازاً فيكون شعارهم: لا يهمني إن مات الشعب اللبناني، وأحسنهم طريقة من يقول بأنه لم يتسبب في هذه الأزمة التي تعود جذورها لعقود من الزمن قبل أن يصبح رئيساً أو وزيراً أو مسؤولاً، ولكنه كحال رئيس الوزراء اليوم الذي يرى الأزمة ويرى أبعادها ولا بد أنه يفهم أن الربا هو بيت القصيد في الأزمة الاقتصادية في لبنان، فإنه لا يرى حلاً للخروج من الأزمة إلا عبر مزيد من القروض ومزيد من الربا، أي أنه يستمر في السير في الطريق ذاتها التي أوصلت البلاد لهذه الحافة الخطيرة.

والأغرب من كل ذلك أن هذا يتجلى في عصر الوقاحة السياسية، فلا أحد منهم يعترف بذنبه، ولا يقدم استقالته إلا ليخرج من باب حتى يدخل من الباب نفسه مرة أخرى، فهم لا يستحيون من فشلهم عبر عقود، ولا من فشل النظام الذي يتبعونه، ولا يقدمون كلمة "آسف" للشعب اللبناني، والتي من مفهومها ترك الحكم لمن لم تتلوث أيديهم ولا أيدي أحزابهم بهذا الهدر والفساد وسوء الإدارة، لذلك فإن طريق المسلمين لن يكون سهلاً بدفع هذه الطبقة السياسية إلى هاوية سحيقة، حتى لا يعود لها أثر البتة في حكم بلاد المسلمين في قادم الأيام، وحتى يتمكن المسلمون من ذلك فإن الطريق لا تزال مليئة بأشواك العصر الجبري.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

بلال التميمي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست