سلسلة الوفيات في مستعمرات طاجيكستان  (مترجم)
سلسلة الوفيات في مستعمرات طاجيكستان  (مترجم)

توفي 14 سجيناً بسبب التسمم أثناء نقلهم من مستعمرات المديرية العامة لتنفيذ العقوبات في وزارة العدل في طاجيكستان، الواقعة في مدن خودزاند وإستارافشان، في مستعمرة دوشنبه ونورك ويافان، بحسب تقارير الإدارة العامة لتنفيذ العقوبات التابعة لوزارة العدل. فوفقاً للنسخة الرسمية، في 7 تموز/يوليو من هذا العام، أثناء نقل 128 سجيناً في ثلاث حافلات لنقل السجناء، قام أحد السجناء بتوزيع 3 أرغفة خبز على 16 سجيناً، وبعد ذلك بدأ هؤلاء الأسرى الستة عشر يشعرون بالغثيان والدوار والقيء، ونتيجة لذلك فقدوا وعيهم، وبعد ذلك تمكنوا من إنقاذ اثنين فقط من السجناء، وتوفي 14 سجينا.

0:00 0:00
Speed:
August 29, 2019

سلسلة الوفيات في مستعمرات طاجيكستان (مترجم)

سلسلة الوفيات في مستعمرات طاجيكستان

(مترجم)

الخبر:

توفي 14 سجيناً بسبب التسمم أثناء نقلهم من مستعمرات المديرية العامة لتنفيذ العقوبات في وزارة العدل في طاجيكستان، الواقعة في مدن خودزاند وإستارافشان، في مستعمرة دوشنبه ونورك ويافان، بحسب تقارير الإدارة العامة لتنفيذ العقوبات التابعة لوزارة العدل. فوفقاً للنسخة الرسمية، في 7 تموز/يوليو من هذا العام، أثناء نقل 128 سجيناً في ثلاث حافلات لنقل السجناء، قام أحد السجناء بتوزيع 3 أرغفة خبز على 16 سجيناً، وبعد ذلك بدأ هؤلاء الأسرى الستة عشر يشعرون بالغثيان والدوار والقيء، ونتيجة لذلك فقدوا وعيهم، وبعد ذلك تمكنوا من إنقاذ اثنين فقط من السجناء، وتوفي 14 سجينا.

التعليق:

النبأ المقلق حول الموت الجماعي للسجناء في الأشهر الأخيرة، للأسف، بدأ ينظر إليه على أنه من الأشياء الطبيعية. ومن الجدير بالذكر أنه خلال الـ 8 أشهر الماضية في حادثين في المستعمرات الطاجيكية في خودشاند وفهدت، مات أكثر من مائة شخص في ظروف مشكوك فيها. ومع كل هذا، يبقى ما يحدث دون إيلاء الاهتمام الواجب من المنظمات الدولية لحقوق الإنسان، والتي تُظهر مرة أخرى طبيعتها الحقيقية كأدوات سياسية لبلدان الغرب الرائدة.

تثير النسخة الرسمية للحادث الجديد، مثل الحادثة السابقة، الكثير من الأسئلة من أقارب الضحايا والجمهور. لذلك، على سبيل المثال، قالت والدة أحد القتلى الـ14، ساودات سولخوفا، للصحفيين إنها اكتشفت موت ابنها بعد تسليم الجثة.

وقد قالت الأم، كان رأس ابني في كيس بلاستيكي. وعند إزالته، كانت الحقيبة مغطاة بالدم. أعلم أنه، كقاعدة عامة، يتم إجراء تشريح للجثة لتوضيح تشخيص الوفاة. ولكن لماذا تم فتح الجمجمة، إذا مات نتيجة التسمم؟ كسر الأنف، كان من المستحيل التعرف على ابني الجميل... قلت إن ابني لم يتعرض للتسمم، لقد فعلوا شيئاً له... بدأت في عمل فيديو، لكن (السلطات) أخذت الهاتف مني. قالوا إنه لا يمكن القيام بذلك. ظهره كان أسود، كما لو كان يُعذب بواسطة التيار الكهربائي. قيل هذا من قبل الرجل الذي غسله.

في هذه الأثناء، أدرك العديد من الخبراء بلا شك نسخة النظام، متمسكين بحقيقة أنه لا يغطي سوى الظروف الحقيقية للمأساة، لأنه لم يتم تسمم جميع السجناء الذين تم نقلهم في هذا اليوم، ولكن 16 شخصاً فقط، على الرغم من أنهم جميعاً كانوا 128 سجيناً يأكلون الخبز من المصدر نفسه. يشار إلى أن الـ112 سجينا المتبقين لم يتعرضوا حتى لأمراض.

تجدر الإشارة إلى أنه في الحوادث التي وقعت في خودزهاند وفهدات أدين فيها معظم الضحايا بموجب مواد دينية، وهذه المرة كان ثلاثة من القتلى في هذه الفئة.

يربط بعض المحللين تدهور حقوق السجناء في نظام السجون في طاجيكستان بتعيين منصب جديد لرئيس جديد للإدارة الرئيسية لتنفيذ الأحكام الجنائية بوزارة العدل في طاجيكستان منصورجن عمروف في تشرين الثاني/نوفمبر من العام الماضي الذي شغل منذ عام 2008 منصب نائب رئيس إدارة تنفيذ الأحكام الجنائية في طاجيكستان. تشير المعلومات الداخلية الواردة من مستعمرات طاجيكستان إلى أن النظام قد قرر تشديد نظام السجناء بجدية، مما يضيق إلى الحد الأقصى إمكانات دعوة الناشطين الإسلاميين، الذين يبلغ عددهم في إجمالي عدد السجناء حوالي 20٪. ومن الواضح أن الإصلاحات قد بدأت فقط، كما يتضح من بيان وزير العدل في طاجيكستان رستم شهمورود المؤرخ في 16 تموز/يوليو، والذي صرح فيه بأن رئيس إدارة تنفيذ الأحكام الجنائية اتخذ تدابير لتصحيح المدانين "الإرهابيين"، لكن هذا العمل لم يؤد إلى النتائج المرجوة. حيث قال: "ومع ذلك، يمكنني أن أقول بشكل مباشر إنه مع عدد المدانين الذين لن نعمل في هذا الاتجاه، من المستحيل تصحيحهم وإعادة تثقيفهم من خلال إجراء محادثات. أنا لم أر هذا. من الصعب للغاية العمل مع هذه الفئة من المدانين. في الأحداث الأخيرة، أظهر هؤلاء المدانون طبيعتهم الحقيقية والتزامهم بالتطرف".

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد منصور

إعداد وحدة الإنتاج الفني في المناطق الناطقة بالروسية
التابعة للمكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست