رمضان والحمل الثقيل!
رمضان والحمل الثقيل!

الخبر: هلَّ رمضان على المسلمين يوم الجمعة الأول من رمضان لعام 1441هـ، الموافق 24 نيسان 2020م.

0:00 0:00
Speed:
April 26, 2020

رمضان والحمل الثقيل!

رمضان والحمل الثقيل!


الخبر:


هلَّ رمضان على المسلمين يوم الجمعة الأول من رمضان لعام 1441هـ، الموافق 24 نيسان 2020م.

التعليق:


لقد جاء رمضان هذا العام في وقت لم يكن المسلمون والعالم أشد حاجة منه إليه، تتسارع فيه الأحداث وتتقلب الظروف بشكل قوي، لا يكاد العالم يلتقط أنفاسه من حدث حتى يغرق في حدث آخر. فأمريكا قتلت سليماني قائد فيلق القدس في إيران وخلقت أزمة أرعبت بها العالم تحسبا من حرب مفتعلة مع إيران في الشرق الأوسط، وشهدت إدلب غارات وحشية متتالية أودت بحياة آلاف من الناس الذين لا ذنب لهم إلا أنهم خرجوا ضد طاغوت سوريا. واشتد الصراع في اليمن وبلغ أشده في القتل والتدمير والتشريد والتجويع حتى أصبح حديث المحافل الدولية عن 3 ملايين يواجهون خطر المجاعة هناك عوضا عن القتل المباشر بآلة قتل استعمارية تمسك بها السعودية من جهة والإمارات من جهة أخرى. واحتدم الصراع والقتل العشوائي في ليبيا وكأنه عقاب دولي شرس للشعب في ليبيا الذي تخلص من عميل خائن في لحظة ضعف من الأسياد. فكانت طرابلس ومن فيها من المسلمين تحت قصف مستمر. وتجبر الهندوس على مسلمي كشمير يسومونهم سوء العذاب، واستعلى ملاحدة الصين على المسلمين الإيغور إلى أن جعلوهم آخر الأمر عرضة لوباء كورونا، وأصاب الطغيان مسلمي الروهينجا بشتى أنواع الظلم والتشريد والقتل.


وفي منحى آخر تم الإعلان عن صفقة قرن مخزية جاء بها ترامب ليهب من خلالها فلسطين بقدسها ومقدساتها والجولان بسهولها وهضابها ليهود هكذا هبة منه ومنحة، كما منح بلفور عام 1917 فلسطين وطنا قوميا ليهود. وعلى الصعيد الدولي قررت بريطانيا أخيرا الخروج من الاتحاد الأوروبي مرسلة رسالة للعالم مفادها أن الاتحاد الأوروبي الذي نشأ وترعرع ولم يبلغ سن الرشد أبدا قد شارف على الهلاك، ولا حاجة لبريطانيا أن تبقى فيه.


ثم جاءت ثالثة الأثافي، جائحة عالمية، بسبب انتشار وباء فيروس كورونا كوفيد-19 وتفشى في جميع دول العالم وقد أصاب حتى الآن أكثر من 2 مليون و750 ألف إنسان حول العالم، قضى نحبه منهم ما يقرب من 200 ألف شخص حتى الآن في مختلف دول العالم. وفرض على مئات الملايين حجرا قسريا في بيوتهم، وأوقف حركة التنقل برا وبحرا وجوا في مختلف بلاد العالم، وشل حركة التجارة والصناعة، وأوقف النشاط السياحي تماما، وأصبح العالم كله على شفير انهيار مالي واقتصادي وكساد عظيم. وأول كارثة اقتصادية جاءت لتضرب تجارة النفط حين هوى سعر برميل النفط الأمريكي إلى سالب 37 دولاراً يوم الاثنين 20 نيسان 2020. ولا تزال الكوارث تتوالى وتترى، وحسب منظمة الغذاء العالمية فإن أكثر من 60 مليون إنسان يتهددهم موت المجاعة بعد أن نجوا من موت كورونا.


هذه الأحداث كلها جاءت قبل حلول شهر رمضان الكريم، شهر البركة والخير. ولكنه جاء والمساجد في شتى أنحاء العالم مغلقة، وهي التي كانت تستقبله كل عام بالتهليل والتكبير والتسبيح، وتصدح المآذن في كل أنحاء الدنيا معلنة قدوم شهر الصيام والخير والقيام في المساجد. إلا أنه هذا العام دخل وحل كمن يدخل ويحل في مأتم؛ فلا أبواب المساجد مفتوحة، ولا صلوات الجماعة قائمة والتي كان دائما يشد من أسرها ويصف من صفوفها رمضان في كل وقت من أوقات الصلاة من الفجر إلى العشاء.


أي مقدم قدمت إليه يا رمضان هذا العام. وأي حمل ثقيل تحمله يكاد ينقض ظهرك، والأمة التي كانت تحتفل بقدومك وترجو أن يكون النصر في يومك السابع عشر كما هو بدر، أو يومك العاشر كما هو فتح مكة، أو ليلة السابع والعشرين ليلة القرآن والتنزيل، هذه الأمة يا رمضان لا زالت يلفها العجز، ويكبلها هذا النظام العالمي الجائر والذي يخلق الأزمات واحدة تلو الأخرى، ويجثم على صدرها حكام جور ليسوا من جنسها، تلعنهم ويلعنونها. لم يعد همك وجل اهتمامك أن يمسك الناس عن الطعام والشراب فحسب في أيامك المباركة، وإن كان هذا فرضا حقا، ولا حتى قيام الليل إيمانا واحتسابا، وإن كان هذا خيرا عميما. وليس أكبر همك الصدقات وإن كانت من أعلى الدرجات عند الله. أصبح الهم أكبر من كل ذلك، وأشد خطرا، وأصعب عملا، ولكنه أكبر وأعم أجرا.


حملك ثقيل هذا العام يا رمضان!


فالمطلوب هو إيقاظ النائم وإنهاض أمة غرقت في سبات وتعيش اليوم وكأنها في حلم عميق لا تدري أوله من آخره! والمطلوب هو تقوية أمة مستضعفة وربطها بحبل الله المتين لتسترد قوتها وعزها حتى تنفض الذل ووشائج العبودية لغير الله تعالى. المطلوب يا شهر القرآن أن تشد على أيدينا لنقوى على إقامة شرع الله وتطبيق أحكامه وإحياء سننه التي اجتثت من البلاد التي طالما كنت شهرها ومرتجى النصر في أيامك المباركة. المطلوب أن تعود الأمة فاعلا في العلاقات الدولية والقضايا المحلية والعالمية، وتفعل الخيرات، وتخلص البشر من شرور الفاعلين الحاليين - أمريكا وبريطانيا وروسيا والصين وأوروبا.


المطلوب اليوم أكثر من أي يوم مضى أن تستعيد الأمة خلافتها الراشدة، لتوحد صفوفها، وتعالج قضاياها، وتوحد ما بين حدودها، وتجلعها على أقل تعديل تصوم وتفطر في يوم واحد.


﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست