رفع الرسوم الصحية ظلم واستبداد بالشعب
رفع الرسوم الصحية ظلم واستبداد بالشعب

الخبر:   قرر رئيس الجمهورية الإندونيسية جوكو ويدودو (جوكووي) رفع الرسوم الصحية للجنة التنفيذية للتأمين الصحي مرة أخرى، حيث تم حساب هذه الزيادة اعتباراً من 1 تموز/يوليو 2020. فقد استند هذا القرار إلى قرار رئيس الدولة رقم 64 لعام 2020 بشأن التعديل الثاني لقرار رئيس الدولة رقم 82 لعام 2018 فيما يتعلق بالتأمين الصحي. وقد تم تغيير عدد من آليات المساهمة في القواعد الجديدة، بما في ذلك مسألة عقوبة 5٪ لأولئك الذين يتأخرون في دفع الاشتراكات بدءاً من عام 2021. وقالت وزيرة المالية السيدة سري مولياني إندراواتي إن السياسة المتعلقة بزيادة مساهمات عضوية اللجنة التنفيدية للتأمين الصحي بدءاً من 1 تموز/يوليو 2020 كانت محاولة للحفاظ على استمرار برنامج التأمين الصحي الوطني. وقالت: "تتعامل الحكومة مع الظروف من ناحية لمساعدة الفئات الضعيفة، ولكن من ناحية أخرى يجب أن يكون برنامج التأمين الصحي مستمرا، فإذا لم تدفع للمستشفيات مثل ما حدث حتى الآن، فلن تكون هناك خدمات للمجتمع أيضاً" (تيمبو، 16 أيار/مايو).

0:00 0:00
Speed:
May 20, 2020

رفع الرسوم الصحية ظلم واستبداد بالشعب

رفع الرسوم الصحية ظلم واستبداد بالشعب

الخبر:

قرر رئيس الجمهورية الإندونيسية جوكو ويدودو (جوكووي) رفع الرسوم الصحية للجنة التنفيذية للتأمين الصحي مرة أخرى، حيث تم حساب هذه الزيادة اعتباراً من 1 تموز/يوليو 2020. فقد استند هذا القرار إلى قرار رئيس الدولة رقم 64 لعام 2020 بشأن التعديل الثاني لقرار رئيس الدولة رقم 82 لعام 2018 فيما يتعلق بالتأمين الصحي. وقد تم تغيير عدد من آليات المساهمة في القواعد الجديدة، بما في ذلك مسألة عقوبة 5٪ لأولئك الذين يتأخرون في دفع الاشتراكات بدءاً من عام 2021. وقالت وزيرة المالية السيدة سري مولياني إندراواتي إن السياسة المتعلقة بزيادة مساهمات عضوية اللجنة التنفيذية للتأمين الصحي بدءاً من 1 تموز/يوليو 2020 كانت محاولة للحفاظ على استمرار برنامج التأمين الصحي الوطني. وقالت: "تتعامل الحكومة مع الظروف من ناحية لمساعدة الفئات الضعيفة، ولكن من ناحية أخرى يجب أن يكون برنامج التأمين الصحي مستمرا، فإذا لم تدفع للمستشفيات مثل ما حدث حتى الآن، فلن تكون هناك خدمات للمجتمع أيضاً" (تيمبو، 16 أيار/مايو).

التعليق:

اللجنة التنفيذية للتأمين الصحي هي اللجنة القائمة ببرامج الضمان (الاجتماعي) في القطاع الصحي وهو أحد البرامج الخمسة في هذا النظام المطبق في إندونيسيا وهي التأمين الصحي، والتأمين لحوادث العمل، والتأمين للشيخوخة، وتأمين للمعاشات التقاعدية، وتأمين الوفاة. وقد بدأ العمل لهذا القطاع منذ 1 كانون الثاني/يناير 2014.

ومعلوم أن نظام الضمان (الاجتماعي) الوطني الذي قامت بتطبيقه اللجنة التنفيذية للتأمين الصحي حالياً هو نقل المسؤولية للتأمين الصحي من مسؤولية الدولة إلى كاهل الشعب بحيث أجبرت الحكومة كافة الشعب على المشاركة في برامجها. وبالتالي، يُطلب من جميع الشعب دفع رسوم أو أقساط شهرية، وإذا لم يدفعوا، فلن يحصلوا على الخدمة الصحية، وإذا تأخروا في الدفع تم تغريمهم أيضاً.

وبعد مرور خمس سنوات من تطبيق هذا النظام، بدلاً من أن تحل المشكلة الصحية فقد تراكمت المشاكل لهذه اللجنة خاصة ما يتعلق بالعجز في الميزانية، ففي عام 2017، بلغت قيمة العجز في الميزانية 1.6 تريليون روبية، وتضخم ذلك إلى 9.1 تريليون روبية في 2018 و15.5 تريليون روبية في 2019.

بناء على هذا حاولت الحكومة الإندونيسية رفع الرسوم الصحية، واتخذت قراراً برفعها استناداً إلى قرار رئيس الدولة برقم 75 عام 2019، ولكن ألغت المحكمة العليا هذا القرار بموجب المرسوم رقم 7 / P / HUM / 2020.

فمن خلال القرار الجديد حاولت الحكومة الإندونيسية رفع الرسوم الصحية على الرغم من الإلغاء لمرة أولى، بحجة الحفاظ على استمرار برنامج التأمين الصحي الوطني. نعم، فقد كان مقدار الزيادة التي ألغتها المحكمة العليا أكبر قليلاً من الزيادة في هذا القرار الجديد. حيث نص قرار الرئيس الجديد على رفع رسوم المشاركين المستقلين من الدرجة الأولى إلى 150.000 روبية، من 80.000 روبية حالياً، ورفع رسوم المشاركين المستقلين من الدرجة الثانية إلى 100000 روبية، من 51000 روبية الحالية، ورفع رسوم المشاركين المستقلين من الدرجة الثالثة من 25.500 روبية إلى 42.000 روبية.

لا شك أن هذا القرار الجديد لرفع الرسوم الصحية هو شكل من أشكال الاستبداد والبؤس للشعب، حيث اتخذ القرار في خضم هذا الوباء، بحيث يعاني العمال غير الرسميين من ظروف اقتصادية صعبة للغاية. نعم، يبدو أن الحكومة قد فقدت حسها السليم ورأفتها بشعبها، فبدلا من أن تتفهم حالة شعبها وأن تكون وفية لتلبية احتياجات شعبها، أخذت الحكومة سياستها المؤسفة والظالمة.

وأصل كل هذا الظلم هو الأخذ بالمبدأ الرأسمالي الذي وضع الصحة في منظور التجارة وليس في منظور الخدمة، وبالتالي أصبحت الصحة كسلعة، لذلك يُطلب من الناس الدفع مقابل صحتهم. أما دعم الصحة وتوفيرها من الحكومة فيعتبر انتهاكا! وهذا يختلف بشكل واضح مع نظرة الإسلام التي جعلت الصحة من الحاجات الأساسية التي يجب على الدولة توفيرها لرعيتها مجانا وبشكل لائق وأفضل لأنها تعتبر خدمات لازمة للرعية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أدي سوديانا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست