نظرة إسلامية إلى ميزانية عام 2019 (مترجم)
نظرة إسلامية إلى ميزانية عام 2019 (مترجم)

الخبر:   صدر قانون الميزانية لعام 2019 في الجمعية الوطنية التركية الكبرى في 22 تشرين الثاني/نوفمبر 2018. مع اقتراح للميزانية مقدم من الرئاسة، حيث تم تخصيص 949 مليار و25 مليون و615 ألف ليرة تركية للإدارة العامة ضمن نطاق الميزانية العامة، وخصصت 73 مليار و771 مليون و848 ألف ليرة تركية لإدارة الميزانية الخاصة و6 مليارات و536 مليون و982 ألف ليرة تركية تم اعطاؤها للهيئات التنظيمية والإشرافية.

0:00 0:00
Speed:
December 29, 2018

نظرة إسلامية إلى ميزانية عام 2019 (مترجم)

نظرة إسلامية إلى ميزانية عام 2019

(مترجم)

الخبر:

صدر قانون الميزانية لعام 2019 في الجمعية الوطنية التركية الكبرى في 22 تشرين الثاني/نوفمبر 2018. مع اقتراح للميزانية مقدم من الرئاسة، حيث تم تخصيص 949 مليار و25 مليون و615 ألف ليرة تركية للإدارة العامة ضمن نطاق الميزانية العامة، وخصصت 73 مليار و771 مليون و848 ألف ليرة تركية لإدارة الميزانية الخاصة و6 مليارات و536 مليون و982 ألف ليرة تركية تم اعطاؤها للهيئات التنظيمية والإشرافية.

التعليق:

يتم قبول مشروع قانون الميزانية المقدم إلى الحكومة من الحكومة اعتباراً من شهر تشرين الثاني/نوفمبر من كل عام بالتصويت بعد فتح باب المناقشة في الجمعية العامة للبرلمان. وبما أن هناك مناقشات تجري في الجمعية العامة بشأن التفاصيل، فهناك أيضا مناقشات حول جدول أعمال تركيا. وشهدت مفاوضات الميزانية هذا العام أيضا مشاهد قاسية ومقاتلة مسيئة بين الممثلين. ونتيجة لذلك، تم قبول مشروع قانون الموازنة الخاص بحزب العدالة والتنمية الذي يوفر الأغلبية في البرلمان بمساعدة "مقدم الدعم" التابع له بـ 335 صوتاً مؤيداً.

يتم وضع إطار ميزانية تركيا في ثلاثة أقسام رئيسية؛ إدارة الميزانية العامة، وإدارة الميزانية الخاصة، والإدارة التنظيمية والإشرافية. وعليه، فإن إجمالي مبلغ 2019 هو تريليون و29 ملياراً و334 مليونا و445 ألف ليرة تركية ما يعادل (194 مليارا و214 مليون دولار). من إجمالي المبلغ تم حجز 117 مليارا و337 مليون ليرة تركية (22 مليارا و139 مليون دولار) لنفقات الفائدة، تم حجز 247 مليارا و302 مليونا و546 ألف ليرة تركية لنفقات الموظفين. من المفترض أنه ضمن نطاق ميزانية عام 2019 سيتم جمع 966 مليارا و672 مليونا و787 ألف ليرة تركية (182 مليارا و391 مليون دولار) من العائد الضريبي وسيكون هناك عجز في الميزانية قدره 62 مليارا و661 مليونا و658 ألف ليرة تركية ( 11 مليارا و823 مليون دولار)

بتحليل ميزانية 2019 بمنظور إسلامي، يمكن قول ما يلي:

1- في النظام الديمقراطي، فإن الجزء الأكبر من النفقات يعتمد على العائدات الضريبية. يتم تعويض العجز في الموازنة المذكورة أعلاه من فوائد القروض. ووفقاً للشروط الإسلامية، فإن الضرائب ليست موارد دائمية. ولا يتم جمعها على الإطلاق من الفقراء ومن أولئك الذين هم تحت مستوى المعيشة.

2- في الحدود الإسلامية، لا تؤخذ الفوائد بأي حال من الأحوال. عدا عن كون مصروفات الدولة من الفوائد ويتم جمعها من الرعايا. لأنه، تحت أي ظرف من الظروف، الفائدة الربوية حرام. نفقات الفائدة الربوية شاركت في الميزانيات طوال فترة الجمهورية التركية. حتى الآن، تم جمع تريليونات من الليرات من الناس من أجل الفوائد الربوية، وقد تم منح هذا المبلغ إلى كل من البنك المركزي والمالك الأجنبي في البنك الدولي وصندوق النقد الدولي. في حين يئن الناس بمرارة تحت عبء الفوائد، فإن المصرفيين ومصاصي الدماء أغنوا أنفسهم وأصبحوا لعبة في يد المستعمرين.

بالإضافة إلى نفقات الفائدة الربوية، اعتباراً من تشرين الأول/أكتوبر 2018، اضطر 32 مليوناً من أهل تركيا إلى الديون. اعتباراً من شهر تشرين الثاني/نوفمبر، يبلغ إجمالي رصيد ائتمانات المستهلك 550 مليون ليرة تركية فقط. ولا يتم تضمين اعتمادات الشركات.

3- عند فحص بنود المصروفات، داخل النظام الاقتصادي الإسلامي لن يتم الإنفاق على الفوائد الربوية، وسوف يكون مبلغ النفقات منخفضاً للغاية. على سبيل المثال، تبلغ الميزانية المخصصة لوزارة المالية حوالي 419 مليارا و857 مليونا و267 ألف ليرة تركية (79 مليارا و218 مليون دولار). على الرغم من أنه سيكون هناك جمع وحساب للضرائب في الدولة الإسلامية تبعاً لاحتياجات وبعض نفقات المؤسسات، فإن النفقات لن تصل حتى إلى 1٪ من النفقات الجارية. أيضا في الدولة الإسلامية، لا يتم تضمين بنود النفقات مثل رئاسة إدارة الهجرة، رئاسة الاتحاد الأوروبي، إدارة اليانصيب الوطني ومعهد سوق رأس المال. باختصار، مع إعداد أرقام الموازنة لعام 2019 ونفقات الدولة الإسلامية في عام واحد، يمكن اعتبار أنه باستثناء النفقات العسكرية وتكاليف الجهاد، سيكون أقل من 1/20 من الأرقام الحالية. وبالتالي، لن تكون هناك حاجة لجمع الضرائب من الناس.

4- لا يوجد أي تنفيذ في الدولة الإسلامية لإعداد ميزانية سنوية وتقديمها إلى البرلمان للموافقة عليها. يتم تحديد عائدات الدولة الإسلامية وفق الشريعة، أي وفق أمر الله ورسوله. وبالمثل، فإن أنواع النفقات التي ستتحملها الدولة تحددها الشريعة أيضاً. وفقا للحكم الإسلامي، لا يمكن أن يكون هناك إنفاق بأي حال من الأحوال على المحرمات شرعا. لهذا، لا يمكن فصل ميزانية الدولة. وفقاً للشريعة الإسلامية، لا يجوز للأشخاص القيام بأعمال غير ضرورية. ومع ذلك، استنادا إلى الدخل الدائم للدولة الإسلامية، باستثناء الضريبة، من الممكن إنفاق الأموال على المناطق غير الأساسية إذا كان هناك أموال في خزينة الدولة.

5- الأرقام ودخل الفوائد في الموازنة هي الأرقام باستثناء الضرائب التي يتم جمعها من السلطات المحلية. فالبلديات لديها تنظيف البيئة والضرائب العقارية الخاصة بها والتي هي مفصولة عن الميزانية العامة. البلديات لديها ميزانيات الدخل والنفقات الخاصة بها. إذا تم إضافة مصاريف جميع البلديات التي هي نصف نفقات الموازنة العامة، فإن الضرائب التي يتم أخذها من الرعايا أكثر من اللازم. لا تختلف الأوضاع في الدول الأخرى عن تركيا. لذلك، فإن نجاة الأمة من هذا العبء الضخم، والبنود غير المشروعة لا يمكن أن يكون إلا من خلال إقامة الدولة الإسلامية وتطبيق الأحكام الإسلامية التي ستوفر لنا الهروب من الطغيان الضريبي. نسأل الله عز وجل أن يكرمنا بالعيش في ظل الخلافة الراشدة، وتطبيق أحكام الإسلام، في أقرب وقت ممكن.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حنفي يغمور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست