نَبْنِي مِنَ الأَقْوَالِ قَصْراً شَامِخاً وَالْفِعْلُ دُونَ الشَّامِخَاتِ رُكَامُ
نَبْنِي مِنَ الأَقْوَالِ قَصْراً شَامِخاً وَالْفِعْلُ دُونَ الشَّامِخَاتِ رُكَامُ

جاء في الكلمة التي ألقاها وزير الخارجية التركي مولود جاويش أوغلو في انطلاق الدورة الأربعين لحقوق الإنسان التابعة للأمم المتحدة التي مقرها جنيف في سويسرا، في إشارة منه إلى انتهاكات الصين لحقوق المسلمين الإيغور: (التقارير التي تشمل أدلة على انتهاك حقوق المسلمين في الإقليم بمن فيهم الأتراك الإيغور مثيرة للقلق وفي مقدمتها تقرير لجنة القضاء على التمييز العنصري التابعة للأمم المتحدة).

0:00 0:00
Speed:
February 27, 2019

نَبْنِي مِنَ الأَقْوَالِ قَصْراً شَامِخاً وَالْفِعْلُ دُونَ الشَّامِخَاتِ رُكَامُ

نَبْنِي مِنَ الأَقْوَالِ قَصْراً شَامِخاً وَالْفِعْلُ دُونَ الشَّامِخَاتِ رُكَامُ

الخبر:

جاء في الكلمة التي ألقاها وزير الخارجية التركي مولود جاويش أوغلو في انطلاق الدورة الأربعين لحقوق الإنسان التابعة للأمم المتحدة التي مقرها جنيف في سويسرا، في إشارة منه إلى انتهاكات الصين لحقوق المسلمين الإيغور: (التقارير التي تشمل أدلة على انتهاك حقوق المسلمين في الإقليم بمن فيهم الأتراك الإيغور مثيرة للقلق وفي مقدمتها تقرير لجنة القضاء على التمييز العنصري التابعة للأمم المتحدة).

كما جاء في تقييمه للأوضاع هناك أيضا قوله: (مع قبولنا بحق الصين في مكافحة (الإرهاب)، نتطلع لاحترامها حقوق الأتراك الإيغور وبقية المجموعات المسلمة، نعتقد أنه يجب التمييز بين الإرهابيين والأبرياء)، ومن خلال تصريحاته هذه تمنى جاويش أوغلو من الصين أن تحترم حقوق الأتراك الإيغور وبقية المسلمين في حرية الاعتقاد والدين ضمن الحريات العالمية لحقوق الإنسان. (www.timeturk.com 2019/02/25).

التعليق:

إن اعتداءات الصين على المسلمين الإيغور في تركستان الشرقية؛ من قتل وتعذيب واضطهاد، ما هي إلا انعكاسات طبيعية للحقد والكراهية التي يحملها النظام الصيني تجاه الإسلام والمسلمين بسبب القيم والمعتقدات التي يؤمن بها المسلمون، بالإضافة إلى أن حقد الصينيين واعتداءاتهم على المسلمين ليس بأمر جديد، وذلك لأن أول اعتداء للصين على المسلمين في تركستان الشرقية يعود إلى ما قبل مئات السنين، حيث كان أول اعتداء في العام 1760م، وهنا ما يجب تنبيه المسلمين عليه هو موقف وكلام تركيا أمام نظام الصين الكافر، تركيا التي لطالما ادعت على لسان مسؤوليها أنها تمثل الإسلام والمسلمين في كل دول العالم، المدافعة والمنافحة عن قضايا الأمة.

بالنظر والتدقيق في تصريحات وزير الخارجية التركي نجد فيها الكثير من التناقضات.

فقد تحدث عن قبوله حق الصين في مكافحة (الإرهاب)، ثم طلب التفريق بين (الإرهابيين) والأبرياء... الآن نوجه السؤال لجاويش أوغلو: في مكافحة الصين (للإرهاب) مَن عليها أن تكافح؟ ومن هم (الإرهابيون) الذين قصدتهم؟ والأهم من ذلك كله من هم الأبرياء الذين تحدثت عنهم؟ في الأصل إن الإجابة على ذلك بسيطة جدا، فـ(الإرهابيون) في نظر الصين هم جميع المسلمين، أي كل من قبل بالدين الذي أنزل رحمة للعالمين، دين الهداية الإسلام، ديناً له هو (إرهابي) في اعتقاد الصين.

وبالتوازي مع الاجتماع الذي حضره جاويش أوغلو، اجتمعت في بكين وفود من حزب الوطن مع الحزب الشيوعي الصيني وجاء على لسان الأمين العام للحزب الشيوعي الصيني يو وين "إن الدول الغربية تستهدف بشكل مقصود سياسات الصين العرقية، في الوقت نفسه هي الدول نفسها التي تقف ضد تطور تركيا، لذلك يمكن لتركيا أن تتخذ من الصين نموذجا ومثالا لها في مكافحة (الإرهاب)" (www.tr.sputniknews.com 2019/02/25)

بهذا الشكل أصبح واضحا وجليا كم أن موقف تركيا من الاعتداءات الوحشية للصين على المسلمين الإيغور، كم أنه موقف مزيف، كما أنه أصبح واضحا تماما من تقصد بـ(الإرهابيين)، كما نرى أيضا مدى تأثر الصين بكلام جاويش أوغلو عن حقوق الإنسان والتمييز العنصري.

من هذا كله نصل إلى نتيجة مفادها أن جميع تصريحات النظام التركي عن الانتهاكات التي تقوم بها الصين بحق المسلمين الإيغور ما هي إلا جعجعات فارغة لا تغني من فقر ولا تسمن من جوع، وأكبر دليل على أن انتقادات النظام التركي للوحشية والظلم الذي يتعرض له المسلمون الإيغور على يد الصين هي انتقادات كاذبة، هو أن النظام التركي يمارس الاضطهاد نفسه بحق حملة الدعوة المخلصين من شباب حزب التحرير في تركيا؛ العشرات من الشباب المخلصين في دعوتهم إلى الله والذين لا يقومون بأي عمل من أعمال (الإرهاب) لا المادية ولا المعنوية، شباب لم يحملوا إلا الفكر السليم والعقيدة الصحيحة يزج بهم النظام التركي في غياهب سجونه، ومن هذا كله نرى أن كلام جاويش أوغلو والنظام التركي؛ كلامهم وادعاءاتهم بأنهم هم المدافعون والمنافحون عن الإسلام والمسلمين، هي ادعاءات بعيدة كل البعد عن حقيقة أفعالهم وتصرفاتهم، ويا له من قول معبر وكأنه قيل فيهم تماما (نبني من الأقوال قصرا شامخا والفعل دون الشامخات ركام)، المعنى من ذلك إذا لم تتفق أقوال الإنسان مع أفعاله فهذا يعني أن هذا الإنسان إما جاهل أو غافل أو أحمق أو مراوغ أو مخادع خائن يخدع الناس بكلامه البراق، ليس له أي تفسير آخر، وفي كلام الحق سبحانه وتعالى التصوير الكامل لهؤلاء الناس حيث يقول تعالى في كتابه العزيز: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ *  كَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ [الصف: 2-3].

الخلاصة: على المسلمين والأمة الإسلامية إدراك أن العزة والشرف وطريق الخلاص لا يمكن البحث عنها عند الأعداء، لكن دائما وأبدا العزة والكرامة هي بيد الجليل العزيز، وطريق الخلاص الذي بينه الله للمسلمين خاصة وللإنسانية جمعاء إنما هو بطاعة الله سبحانه ورسوله صلى الله عليه وسلم، وليس إلا دولة الخلافة الراشدة هي التي سوف توحد المسلمين تحت راية واحدة وتحفظ دماء المسلمين وأموالهم وأعراضهم، وحسب الحديث الذي جاء في صحيح مسلم عن رواية أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رمضان أبو فرقان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست