ميزانية السعودية كالعادة - ضبابية في الأرقام وتمويه بالتصريحات
ميزانية السعودية كالعادة - ضبابية في الأرقام وتمويه بالتصريحات

الخبر:   أكد وزير الإعلام الدكتور عواد العواد أن ميزانية 2019 تتميز بالشفافية والإفصاح. وأشار العواد خلال ملتقى الميزانية السعودية 2019 اليوم إلى أن ميزانية المملكة هدفها تحقيق التنمية وتشجيع المستثمر المحلي والأجنبي على العمل في المملكة. ولفت العواد إلى أن رؤية 2030 تسير وفقا لما هو مخطط لها. (صحيفة المواطن 2018/12/19م)

0:00 0:00
Speed:
December 24, 2018

ميزانية السعودية كالعادة - ضبابية في الأرقام وتمويه بالتصريحات

ميزانية السعودية كالعادة - ضبابية في الأرقام وتمويه بالتصريحات

الخبر:

أكد وزير الإعلام الدكتور عواد العواد أن ميزانية 2019 تتميز بالشفافية والإفصاح.

وأشار العواد خلال ملتقى الميزانية السعودية 2019 اليوم إلى أن ميزانية المملكة هدفها تحقيق التنمية وتشجيع المستثمر المحلي والأجنبي على العمل في المملكة. ولفت العواد إلى أن رؤية 2030 تسير وفقا لما هو مخطط لها. (صحيفة المواطن 2018/12/19م)

التعليق:

أعلنت وزارة المالية السعودية قبل أيام عما سمته أضخم ميزانية في تاريخ المملكة حيث يصل حجم الإنفاق فيها إلى 1.106 تريليون ريال، وقد اشتمل الإعلان على الكثير من المغالطات من نواحٍ عدة، نبين ما تيسر منها كما يلي:

1- إنه ليس بالإنجاز أن تزيد الميزانية هذا العام عن العام الماضي وهو في عرف الاقتصاديين أمر طبيعي بديهي، فأعداد السكان في ازدياد وبالتالي فإن الميزانية لا بد أن تكون بازدياد مطرد يتوافق مع التعداد السكاني بل وحتى تزيد عليه في حال كان هناك تحسن في النواحي الاقتصادية.

2- إن الميزانية "التاريخية" والتي ينسب الفضل فيها إلى إنجازات رؤية 2030 ما زالت تعاني من نفس أزماتها التي ما برحتها، فالرؤية في ذاتها ما زالت تعاني من إخفاقات تلو الإخفاقات، فالمشاريع المعلن عنها لتحقيق الرؤية منذ 2015 ما زالت حبرا على ورق، وفكرة اكتتاب أرامكو في الأسواق العالمية - على خطئها - تبخرت وذهبت أدراج الرياح، والمستثمرون الذين علقوا آمالهم على الانفتاح والمردود الاقتصادي الضخم هربوا خوفا على أموالهم ومصالحهم، وعلموا أن الناس في بلاد الحرمين حتى الآن لا يمكن أن يقبلوا بالمشاريع السياحية الإفسادية والبرامج الانفتاحية المنحرفة.

3- إن مشاريع الرؤية وبرامجها - والتي تعتمد عليها الميزانية في تحقيق نجاحاتها - ما زالت تجاهر في المعاصي أمام الناس، والتي كان آخرها سباق السيارات في الدرعية، والذي صاحبه حفلات الغناء الماجنة والاستعراضات الخليعة، وهو المشروع الذي وقع على كامل تفاصيله طوال ثلاثة أيام بلياليهن محمد بن سلمان ومجموعته من المعاونين والوزراء، وذلك ليزيدوا التأكيد للجميع بأنهم يوافقون على كل ما يحصل في هذه المناسبات وأنهم عازمو الخطا في تنفيذ ما يسعون إليه، وهنا نذكرهم جميعا بقول الله تعالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [سورة النور: 19].

4- إن إعلان الميزانية هذا، جاء وكالعادة لذر الرماد في العيون، فالمشاريع التنموية الحقيقية ما زالت غائبة وبعيدة كل البعد، كما أن الوعود التي أطلقتها الرؤية وأطلقها الوزراء من ورائها ما زالت أحلاما يكذبها الواقع، وجدير بالذكر أن وزير الإسكان كان قد وعد في عام 2017 أنه وبحلول عام 2019 سوف يكون بناء البيوت للرعايا خلال يومين، وهو ما دفع الناس في بلاد الحرمين بالتفاعل مع الموضوع بأنهم صاروا يعدون اليوم بعد اليوم لتذكير الوزير بحلول عام 2019 وأنه لم يبق على الوعد إلا قليلا.

5- لم تحقق الميزانية حتى الآن على صعيد الاعتماد على الموارد الداخلية أي شيء يذكر، فميزانية الدفاع ما زالت كسابقتها في أرقامها الفلكية والتي تذهب كل عام لأمريكا والغرب، وذلك لأن الحرب في اليمن ما زالت مستمرة طالما أن أمريكا لم تأمر بإيقافها، كما أن أرقام المبتعثين إلى الخارج في أمريكا وأوروبا ما زالت كما هي رغم وجود 30 جامعة حكومية و12 أهلية و13 كلية مختلفة و7 كليات عسكرية في البلاد، تستوعب ضعف عدد الجامعيين بل ربما أكثر، غير أن الأولولية في الوقت الحالي للحكومة هي المشاريع التغريبية وخدمة الغرب حتى لو كان على حساب الميزانية ومقدرات الأمة.

6- لا ننسى هنا أن نذكر أنه ما زالت جملة كبيرة من أرقام الميزانية في طي الكتمان لا يعرف مدخلها ولا مخرجها وخصوصا في ما يتعلق بالنفط وأسعاره ومبيعاته، وهو ما صار معروفا لدى العامة بأنه خارج حسابات الميزانية التي تعلن للشعب، وطبعا فالجميع يعرف لمن تذهب هذه الحسابات!

7- على أرض الواقع وبعيدا عن مقارنات الأرقام وضبابيتها، يمكن اختصار المشهد بسؤال أحد حضور مؤتمر إعلان الميزانية وهو أحد التجار المشهورين حين وجه سؤاله لوزير المالية عن حقيقة ما أعلنته وزارة المالية بأن النمو في الاقتصاد حقق 2.3% بينما كان رجل الأعمال يتساءل عن حقيقة هذا الرقم على أرض الواقع وهو يشاهد بأم عينه التجارة تكسد والناس يخسرون، فما كان من الوزير إلا أن أدخله في دوامة الجمل الرنانة والعبارات المنمقة التي لا تسمن ولا تغني من جوع أمام حقيقة يراها الناس ويحسونها كل يوم، وهي حقيقة أن الأوضاع الاقتصادية لا تسير على ما يرام، فإذا كانت الأمور على ما يرام كما تصفها الحكومة، وما دامت الميزانية في ارتفاع ونجاح كما يقولون، فلماذا لا يحس الناس بذلك؟ ولماذا لا يشعرون بمردود ذلك على معاشهم ويومياتهم؟

إن الضامن الوحيد لتحقيق أرقام حقيقية في ميزانية المسلمين، هو تطبيق شرع الله في ظل دولة الخلافة الراشدة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ماجد بن صالح – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست