مصر تغرق بالفيضانات وفرعونها مشغول ببناء القصور!
مصر تغرق بالفيضانات وفرعونها مشغول ببناء القصور!

الخبر:شهدت مصر في الأيام القليلة الماضية هطول أمطار غزيرة، وجراء ذلك تحولت شوارع وأنفاق ومطار القاهرة إلى برك مائية، وأصبحت السيارات غير قادرة على الحركة كما شوهد في أحد الفيديوهات، وشوهدت الجرافات وهي تقوم بنقل الناس من مكان إلى آخر، كما أن مطار القاهرة الدولي لم ينج من الأمطار، بل دخلت الأمطار إلى مبنى الركاب رقم واحد كما أفادت وكالات الأنباء، وإزاء ذلك قرر رئيس الوزراء المصري تعليق الدراسة في المدارس والجامعات لصعوبة التنقل في القاهرة الكبرى، أما في المحافظات الأخرى فقد هطلت الأمطار بغزارة في محافظة السويس ودمياط والزقازيق والإسكندرية، وفي الإسكندرية غمرت المياه منطقة المنشية، وأغلقت المحال التجارية. وقد عبر الكثير من المغردين عن سخريتهم مما يجري في مصر بهاشتاج "مصر تغرق بشبر مية".

0:00 0:00
Speed:
October 31, 2019

مصر تغرق بالفيضانات وفرعونها مشغول ببناء القصور!

مصر تغرق بالفيضانات وفرعونها مشغول ببناء القصور!


الخبر:


شهدت مصر في الأيام القليلة الماضية هطول أمطار غزيرة، وجراء ذلك تحولت شوارع وأنفاق ومطار القاهرة إلى برك مائية، وأصبحت السيارات غير قادرة على الحركة كما شوهد في أحد الفيديوهات، وشوهدت الجرافات وهي تقوم بنقل الناس من مكان إلى آخر، كما أن مطار القاهرة الدولي لم ينج من الأمطار، بل دخلت الأمطار إلى مبنى الركاب رقم واحد كما أفادت وكالات الأنباء، وإزاء ذلك قرر رئيس الوزراء المصري تعليق الدراسة في المدارس والجامعات لصعوبة التنقل في القاهرة الكبرى، أما في المحافظات الأخرى فقد هطلت الأمطار بغزارة في محافظة السويس ودمياط والزقازيق والإسكندرية، وفي الإسكندرية غمرت المياه منطقة المنشية، وأغلقت المحال التجارية. وقد عبر الكثير من المغردين عن سخريتهم مما يجري في مصر بهاشتاج "مصر تغرق بشبر مية".

التعليق:


إن هطول الأمطار بغزارة هو أمر طبيعي في كل أنحاء العالم، وليس ذلك بالأمر الغريب بتاتا، ومعلوم أن هذا الأمر يقع في الدائرة التي تسيطر على الإنسان، فهو لا يملك دفعها أو التقليل منها أو السيطرة عليها، وهو ما يطلق عليه بدائرة القضاء، وأما ما يقع في الدائرة التي يسيطر عليها الإنسان فهو أن يأخذ هذا الإنسان بالأسباب وأن يُعِد للأمر عدته، لا أن يكتفي بالاتكاء وإلقاء اللوم على دائرة القضاء ليبرر تقصيره! فما يقع في الدائرة التي يسيطر عليها الإنسان هو أن يعمل على بناء بنية تحتية قوية تعمل على التخفيف من أضرار هطول الأمطار الغزيرة كشبكات المجاري الكبيرة التي تقوم بتصريف المياه إلى البحر مثلا أو إلى مناطق بعيدة حتى لا يتأذى الناس ولا تشل حياتهم كلما هطلت الأمطار، وهناك دول في العالم يكاد المطر لا يتوقف فيها أغلب أيام العام وليس في فصل الشتاء فقط، ومع ذلك فلم نسمع ولم نر الشوارع تغرق ولا المدارس أو الجامعات تغلق أبوابها، بل الحياة تستمر فيها بشكل عادي وطبيعي، وما ذلك إلا لأنهم أخذوا بالأسباب وأعدوا للأمر عدته.


أما في بلاد المسلمين قاطبة حيث الفساد السياسي المستشري، ونهب الأموال هو السمة الغالبة على كل من يتقلد مسؤولية، فلم تعد رفاهية البلاد وتقدمها وراحة أبنائها تشغل بال هؤلاء الساسة، وسواء مات الناس من الفقر أو الأمراض فالأمر عند الساسة سيّان، وسواء غرقت بلاد المسلمين بالفيضانات أو احترقت بالحرائق فالأمر عندهم أيضا سيّان، لأن الشعوب وراحتها وحسن رعايتها هي آخر ما يفكر به هؤلاء الطواغيت، قاتلهم الله أنى يؤفكون! وإن هناك بلادا حباها الله بثروات شتى، لا تعد ولا تحصى، كبلاد الحرمين الشريفين، إلا أنه كلما نزل فيها المطر فإننا نرى العجب العجاب، مدناً تغرق وحياة تشل ووسائل مواصلات تتعطل بسبب الأمطار، فما الذي يمنع حكامها السفهاء من بناء بنية تحتية لتصريف المياه؟! ألم يكفهم ما نهبوه من أموال الأمة منذ أن سُلطوا عليها؟! وما الذي يمنع فرعون مصر السيسي من الاهتمام برعاية الناس وتسهيل حياتهم بدل التضييق عليهم بالضرائب ومص دمائهم؟ أليس هذا أولى من بناء القصور الفارهة؟! وما الفائدة من هذه القصور وأبناء الكنانة يعيشون فيما يشبه القبور؟!


لقد أصبح الحديث عن الفواجع في أرض الكنانة وللأسف شيئا عاديا، فلا يكاد يمر يوم دون أن نسمع بفاجعة هناك، ومع ذلك فإن فرعونها وحكومته ما زالوا في غيهم سادرون ولا لآهات الناس يتحركون، يوم تغرق فيه عبّارة، ويوم تسقط فيه عمارة، ويوم نسمع بحريق، ويوم تغرق مصر كلها بالأمطار، وقبل يومين اثنين سمعنا بفاجعة تتفطر لها القلوب، حيث قام مراقب أحد القطارات بتخيير شابين بين أن يدفعا ثمن تذكرة القطار أو أن يغادرا القطار حالا، فقفزا من القطار فوقع أحدهما تحت عجلات القطار ومات، وكسرت يد الثاني ولا حول ولا قوة إلا بالله، فمن المسؤول عن هذه المآسي؟ أليس نظام السيسي القذر هو المسؤول الأول؟


رحم الله الفاروق عمر الذي كان يخشى أن يحاسبه الله إن لم يسوِ الطريق للحيوانات، أما في زمن الرويبضات من الحكام العملاء فلم يَعُدْ للمسلم حقوق ولا قيمة، ولم يعد لدمه حرمة، بل هو مستباح لا عصمة له، فإن لم يقتله الكفرة، قتله عملاؤهم من الحكام، وإن لم يقتلوه عاملوه معاملة العبيد!


أيها الإخوة، لم يعد خافيا على أحد أنه طالما بقينا نحكم من هذه الشرذمة القذرة من الحكام فلن تقوم لنا قائمة، ولن ترفع لنا راية، ولن تكون لنا غاية، ولن تتحقق لنا نهضة، وإن تغييرهم وتنصيب خليفة راشد كعمر رضي الله عنه هو الحل الذي لا حل غيره، خليفة يسوس المسلمين بالإسلام، ويسهر على راحتهم، ويقاتل عدوهم ويحمي بلادهم، ويقسم ثروات بلادهم بينهم بالعدل والسوية، ألا لمثل هذا فليعمل العاملون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمد أبو هشام

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست