مصر بين كذب حكامها ووقوع أهلها فريسة الجوع والفقر والمرض
مصر بين كذب حكامها ووقوع أهلها فريسة الجوع والفقر والمرض

الخبر:   نقلت اليوم السابع الخميس 2019/8/8م، أن وزيرة التخطيط والمتابعة والإصلاح الإداري، عرضت خلال اجتماع مجلس الوزراء اليوم برئاسة الدكتور مصطفى مدبولي عدداً من المؤشرات الاقتصادية المهمة، حيث أكدت أن التضخم انخفض إلى 7,8%، مقابل 8,9% خلال الشهر السابق، و13% في الشهر نفسه من العام الماضي، لافتة إلى أن هذا مؤشر جيد، يؤكد أن هناك تزايداً في الإنتاج، وضبطاً للأسواق، كما أوضحت الوزيرة أن البطالة انخفضت في الربع الثاني من العام الجاري لتصل إلى 7,5% مقارنة بـ8,1% في الربع الأول، ما يؤكد أن السياسات الاقتصادية التي تنتهجها الدولة تسير في الاتجاه الصحيح، فيما أعلن البنك المركزي المصري اليوم الخميس، أن معدل التضخم الأساسي تراجع إلى 5.9% على أساس سنوي في تموز/يوليو من 6.4% في حزيران/يونيو.

0:00 0:00
Speed:
August 12, 2019

مصر بين كذب حكامها ووقوع أهلها فريسة الجوع والفقر والمرض

مصر بين كذب حكامها ووقوع أهلها فريسة الجوع والفقر والمرض

الخبر:

نقلت اليوم السابع الخميس 2019/8/8م، أن وزيرة التخطيط والمتابعة والإصلاح الإداري، عرضت خلال اجتماع مجلس الوزراء اليوم برئاسة الدكتور مصطفى مدبولي عدداً من المؤشرات الاقتصادية المهمة، حيث أكدت أن التضخم انخفض إلى 7,8%، مقابل 8,9% خلال الشهر السابق، و13% في الشهر نفسه من العام الماضي، لافتة إلى أن هذا مؤشر جيد، يؤكد أن هناك تزايداً في الإنتاج، وضبطاً للأسواق، كما أوضحت الوزيرة أن البطالة انخفضت في الربع الثاني من العام الجاري لتصل إلى 7,5% مقارنة بـ8,1% في الربع الأول، ما يؤكد أن السياسات الاقتصادية التي تنتهجها الدولة تسير في الاتجاه الصحيح، فيما أعلن البنك المركزي المصري اليوم الخميس، أن معدل التضخم الأساسي تراجع إلى 5.9% على أساس سنوي في تموز/يوليو من 6.4% في حزيران/يونيو.

التعليق:

معلوم أن الأوضاع المعيشية الآن في مصر تسير من سيئ إلى أسوأ في ظل هذا النظام وقراراته الكارثية، وزيادة أسعار السلع والخدمات بشكل فج يتحمله الناس وحدهم في ظل تدني الدخول بشكل ملحوظ، ثم تخرج علينا الحكومة معلنة انخفاض مستوى التضخم، فعن أي انخفاض يتحدثون؟!

إن التضخم هو مفهوم يُستخدم للإشارة إلى الحالة الاقتصاديّة، والتي تتأثر بارتفاع أسعار السلع والخدمات، مع حدوث انخفاض في القدرة الشرائيّة المرتبطة بسعر صرف العملة، وهنا قد يقول قائل إن سعر صرف الجنيه المصري قد ارتفع أمام الدولار واليورو ولو بنسبة ضئيلة، نعم لقد ارتفع سعر صرف الجنيه المصري وبغض النظر عن أسباب ارتفاعه ومع وجود اكتشافات جديدة لحقول غاز وغيره، ومع ما يعلن عنه من مشاريع ضخمة وعملاقة حسب ما تعلن وسائل إعلام النظام آخرها مجمع السماد في العين السخنة، وما أعلن الرئيس المصري عنه من مشاريع مستقبلية، كل هذا كان من الطبيعي أن يؤثر في أسعار السلع والخدمات بالانخفاض لا بالزيادة كما نرى الآن، وكأن الحكومة ترى انخفاض التضخم في ارتفاع أسعار السلع وعدم قدرة الناس على حيازتها!

إن ما يعانيه أهلنا في أرض الكنانة سببه الرئيس هو تطبيق النظام الرأسمالي والخضوع الكامل لقرارات صندوق النقد الدولي وتوصياته لقاء ما يمنحه للدولة من قروض لا تحتاجها مصر ولا يراها أهلها وتستخدم في مشاريع لا طائل منها ولا تعود بالنفع إلا على الرأسماليين والمتنفذين وأعوان النظام، وما يقوم به النظام وما يعلنه لا يخرج عن كونه مسكنات وخداعاً لأهل مصر ليتوهموا أن هناك تنمية، ولكنها غير ملحوظة وتلتهمها مصروفات الدولة، وهو ما ألمح إليه الرئيس المصري في حفل افتتاح مجمع الأسمدة بالعين السخنة قائلا (قلت إننا بنحتاج موازنة حوالي تريليون دولار لدولة بحجم مصر، فلقيتها في الجورنال لحل مشاكل مصر بنحتاج لتريليون دولار، وده مش صح، أنا بتكلم عن مصروف مش بتكلم عن حل مشكلات، دولة فيها 100 مليون، مصروفها السنوي ترليون دولار)، دون أن يوضح ما هي تلك المصروفات التي تحتاج لتريليون دولار بينما تقلص الدولة نفقاتها على رعاياها بشكل ملحوظ فضلا عن زيادة الأسعار واستحداث ضرائب ورسوم تلتهم ما يتبقى من دخولهم، اللهم إلا إذا كانت لسداد أقساط القروض التي لم ير منها أهل مصر شيئا. ولا ريب أن في كلمات الرئيس المصري عن التريليون دولار إشارة أنه يسعى مستقبلا ليدفع أهل مصر هذا التريليون دولار سنويا.

إن الرأسمالية الحاكمة هي أصل الداء ولن ينفع معها أي إصلاح ولا علاج لها سوى البتر واقتلاعها من جذورها ففي ظلها وفي ظل الفشل الإداري لحكامها العملاء وخضوعهم لقرارات وتوصيات البنك الدولي تعد مصر بلد النيل أكبر مستورد للقمح في العالم بحسب تصريح وزير الزراعة لصحيفة رأي اليوم في 2019/3/9م، بخلاف بدء استيراد الأرز بعد تخفيض حجم المساحة المخصصة لزراعته بدعوى تقليل استهلاك المياه!

يا أهل مصر الكنانة شعبا وجيشا، إن مصر وبحدود سايكس بيكو الضيقة ليست فقيرة ولا عاجزة ولا محتاجة لتلك القروض ولن تنفعها علاجات وقرارات البنك الدولي بل هي في غنى عنه وعن توصياته وعن عملائه وعن كل ما يأتي من جهته، ففيها من الخيرات والثروات ما يؤهلها لأن تكون دولة عظمى إن لم تكن الدولة الأولى، فقط إذا وجدت إدارة مخلصة تحمل مشروعا بديلا لرأسمالية الغرب العفنة، خلافة راشدة على منهاج النبوة، دولة أساسها العقيدة الإسلامية، تقطع يد الغرب العابثة في بلادنا وتطبق اقتصاد الإسلام، وتدير الثروات لمصلحة مصر والأمة، وتعيد زراعة المحاصيل الاستراتيجية، وتشجع على الصناعات وخاصة الثقيلة منها حتى نستغني عن الغرب، وتنهي الاعتماد على الدولار وغيره من الورق الذي لا قيمة له في ذاته، وتعتمد على الذهب والفضة، وكما قلنا هذا كله لن يحدث إلا بتطبيق الإسلام كاملا شاملا في دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وحتى تقام هذه الدولة تحتاج إلى احتضانكم لمن يحملون مشروعها كاملا بينكم جاهزا للتطبيق فورا، ونصرة صادقة لما يحملون من أبنائكم وإخوانكم المخلصين في جيش الكنانة، نصرة تعيد عز الإسلام ومجده وخلافته للوجود وتنهي عقود هيمنة الغرب على بلادنا ونهبه لثرواتنا وخيراتنا ودحره خائبا إلى عقر داره إن بقي له عقر دار، اللهم عجل بها وبأنصارها واجعل مصر حاضرتها واجعلنا من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست