مسلمون يتحولون إلى النصرانية لتأمين الجنسية في الهند
مسلمون يتحولون إلى النصرانية لتأمين الجنسية في الهند

الخبر:   أفادت ذي إيكونوميك تايمز في 23 تموز/يوليو 2020م أن تمرير قانون تعديل المواطنة من جانب البرلمان الهندي الذي يسمح لغير المسلمين من أفغانستان وباكستان والبنغال بالحصول على الجنسية الهندية، دفع العديد من المسلمين من أفغانستان وبورما (ميانمار) إلى التحول إلى النصرانية من أجل التقدم بطلب للحصول عليها. وبحسب البيانات الرسمية، هناك 150 إلى 160 ألف مسلم أفغاني يعيشون في دلهي، وبشكل رئيسي شرق كايلاش، ولاجبات ناجار، وأشوك ناجار، وأشرام. كما أن هناك ما يقرب من 40 ألف مسلم من الروهينجا في جميع أنحاء الهند، مع أكبر عدد يتمركزون في جامو وكشمير. وكان عدد كبير من هؤلاء المهاجرين يقيمون في الهند قبل عام 2012م ويدعون الآن أنهم من بنغلادش مع ادعائهم النصرانية. كما اعتبر مجلس حقوق الإنسان التابع للأمم المتحدة الهجرة إلى كندا وأوروبا واحدة من الأسباب التي تدفع إلى مثل هذه التحولات.

0:00 0:00
Speed:
August 05, 2020

مسلمون يتحولون إلى النصرانية لتأمين الجنسية في الهند

مسلمون يتحولون إلى النصرانية لتأمين الجنسية في الهند

(مترجم)

الخبر:

أفادت ذي إيكونوميك تايمز في 23 تموز/يوليو 2020م أن تمرير قانون تعديل المواطنة من جانب البرلمان الهندي الذي يسمح لغير المسلمين من أفغانستان وباكستان والبنغال بالحصول على الجنسية الهندية، دفع العديد من المسلمين من أفغانستان وبورما (ميانمار) إلى التحول إلى النصرانية من أجل التقدم بطلب للحصول عليها. وبحسب البيانات الرسمية، هناك 150 إلى 160 ألف مسلم أفغاني يعيشون في دلهي، وبشكل رئيسي شرق كايلاش، ولاجبات ناجار، وأشوك ناجار، وأشرام. كما أن هناك ما يقرب من 40 ألف مسلم من الروهينجا في جميع أنحاء الهند، مع أكبر عدد يتمركزون في جامو وكشمير. وكان عدد كبير من هؤلاء المهاجرين يقيمون في الهند قبل عام 2012م ويدعون الآن أنهم من بنغلادش مع ادعائهم النصرانية. كما اعتبر مجلس حقوق الإنسان التابع للأمم المتحدة الهجرة إلى كندا وأوروبا واحدة من الأسباب التي تدفع إلى مثل هذه التحولات.

التعليق:

إن أخبار تحول مسلمين إلى النصرانية لتجنب الاضطهاد من الكفار عارٌ على حكام المسلمين وجيوشهم بشكل خاص والمسلمين بشكل عام. كل يوم يمر تصبح فيه الحاجة إلى الخلافة أكبر وأكثر، وغيابها جعل أعداء الإسلام يضطهدون ويقتلون أبناء وبنات الأمة من الشرق إلى الغرب ومن الشمال إلى الجنوب. وقد شجع تصاعد الكراهية مؤخراً ضد الإسلام والمسلمين حتى البلدان الوديعة والناقصة وغير الإسلامية على تحدي المسلمين بحقوق المواطنة، ونهب ممتلكاتهم، وتدنيس أماكن عبادتهم، والسخرية من النساء المسلمات وإعدام الرجال دون محاكمة. وقد أجبر ذلك بعض المسلمين على ترك دينهم والدخول في النصرانية أو الهندوسية من أجل البقاء وتجنب ردة الفعل على كونه على دين الإسلام الذي تكرهه الأغلبية.

يرتبط تركيز الهند على منح الجنسية للشعب الأفغاني بالمصلحة الجيوسياسية للهند في المنطقة. ومع ذلك، فإن الرغبة في الحصول على هذه الجنسية غائبة إلى حد كبير بالنسبة لمسلمي الروهينجا وهذا يرجع إلى عدم وجود مثل هذه المصالح الجيوسياسية أو الدبلوماسية في بورما أو شرق آسيا. يبدو اهتمام لجنة حقوق الإنسان التابعة للأمم المتحدة بجنسية العرقيات الصغيرة المضطهدة أكثر إثارة للقلق إذا أصبحوا نصارى مقارنة بالاضطهاد الذي يتعرضون له عندما كانوا مسلمين! لو كانت هناك ذرة مما يسمونه "حقوق الإنسان" لما كانت هناك أزمة روهينجا في الأساس.

إن رد حكام المسلمين لاضطهاد المسلمين في بورما، والهند، وسوريا، واليمن، وأفغانستان، وأفريقيا، وغيرها من البلاد، بقوة عظمى وجيش معدومة، ولا نراهم يفعلون شيئاً يتجاوز الكلام! لديهم خيار عسكري لمهاجمة هؤلاء المجرمين، ولديهم خيارات اقتصادية لفرض حظر على النفط، ولديهم خيارات دبلوماسية لإغلاق طرقهم البحرية والجوية الاستراتيجية وغيرها من الوسائل للضغط على هذه الدول المعادية لإنهاء الاضطهاد، لكنهم يلهثون وراء إرضاء سيدهم الاستعماري ولو على حساب سخط الله ورسوله ﷺ والمؤمنين. مثل هذا الرد من حكام المسلمين أعطى الظالمين موافقة ضمنية للمضي قدما في المزيد من الاضطهاد.

إن التابعية في الإسلام متأصلة لكل فرد من كل خلفية دينية أو عرقية يرغب في العيش تحت ظل الشريعة. الحق في المأكل والملبس والمأوى واجب على الخليفة توفيره لكل من يحمل التابعية سواء أكان مسلماً أم غير مسلم، وذلك لأن النبي ﷺ قال: «لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ بَيْتٌ يَسْكُنُهُ وَثَوْبٌ يُوَارِي عَوْرَتَهُ وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ»، رواه الترمذي وقال: حديث حسن صحيح. للأسف ترك المسلمون نظام الحكم الإسلامي وأغرتهم العلمانية إلى حد أنه بدلاً من إزالة الظلم من الأرض أصبحوا هم بأنفسهم يتعرضون للقمع، ويجب أن نفهم أن الصحابة أخضعوا الإمبراطوريات الرومانية والفارسية ليس بالديمقراطية أو العلمانية ولكن من خلال تبني نظام الحكم الإسلامي، الخلافة، واتباع السياسة الخارجية الإسلامية أي الدعوة والجهاد.

إننا ندعو جيوش المسلمين إلى إنهاء كل هذه الاضطهادات بإقامة الخلافة على منهاج النبي ﷺ. كما ننصح إخواننا وأخواتنا الذين يلجؤون إلى مثل هذه الحد من الاستيئاس أن يصبروا ولهم الأجر والفرج من الله سبحانه وتعالى. إن الحياة في هذه الدنيا هي ابتلاء واختبار وإننا جميعا نعيش في ابتلاءات واختبارات مختلفة، كما قال الله سبحانه وتعالى في القرآن الكريم ﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً﴾. كما يخبرنا الله في القرآن الكريم أن الأجيال السابقة قد تعرضت لاضطهاد عظيم إلى درجة أن الأنبياء وأتباعهم قالوا: ﴿مَتَى نَصْرُ اللَّهِ﴾؟ وإنا نقول ما قال الله تعالى: ﴿أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. أحمد أبو سيف الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست