مسجد الجزائر الأعظم شاهد على فشل فرنسا
مسجد الجزائر الأعظم شاهد على فشل فرنسا

الخبر: تم اليوم في ذكرى مولد النبي محمد ﷺ افتتاح المسجد الأعظم في العاصمة الجزائرية ويعد أكبر مسجد في أفريقيا وقد شيّد المسجد في منطقة المحمدية، المكان الذي كان يحمل خلال حقبة الاستعمار الفرنسي (1830-1962) اسم "لافيجري"، نسبة إلى كبير أساقفة الجزائر شارل لافيجري، قائد حملات التبشير لفرض الديانة المسيحية على الجزائريين. (BBC)

0:00 0:00
Speed:
October 30, 2020

مسجد الجزائر الأعظم شاهد على فشل فرنسا

مسجد الجزائر الأعظم شاهد على فشل فرنسا


الخبر:


تم اليوم في ذكرى مولد النبي محمد ﷺ افتتاح المسجد الأعظم في العاصمة الجزائرية ويعد أكبر مسجد في أفريقيا وقد شيّد المسجد في منطقة المحمدية، المكان الذي كان يحمل خلال حقبة الاستعمار الفرنسي (1830-1962) اسم "لافيجري"، نسبة إلى كبير أساقفة الجزائر شارل لافيجري، قائد حملات التبشير لفرض الديانة المسيحية على الجزائريين. (BBC)

التعليق:


استعمار فرنسا للجزائر والمغرب العربي لم يكن مجرد تسلط عسكري أو اقتصادي بل تعدى ذلك بأبعاد عميقة من الناحية الفكرية والثقافية التي حاول الفرنسيس من خلالها جعل المغرب جزءا من فرنسا العظمى وامتدادا جغرافيا وثقافيا للإمبراطورية الفرنسية. وقد بذلوا في سبيل ذلك جهدا عظيما ولكنهم أدركوا أنها مهمة مستحيلة.


كذلك الحال في بقية المستعمرات التي سيطرت عليها دول الغرب على أنقاض الدولة العثمانية سواء الإنجليز أو البرتغاليون أو الهولنديون أو حتى الأمريكيون فيما بعد. وذلك يعود إلى أمر ثابت مبني على قواعد صلبة لا يمكن لمستعمر أو عميل أن يزعزعها، ألا وهي العقيدة الصحيحة التي تقوم عليها حياة المسلمين وتوارثوها عن آبائهم وأجدادهم وما زالوا يورثونها لأبنائهم ويدعون لها حيثما حلوا.


هكذا تُصدم فرنسا من جديد، ويشهد العالم تضامن الأمة الإسلامية والتفافها حول نبيها محمد عليه الصلاة والسلام، حتى ولو كانت ردود فعل ارتجالية، إلا أنها ستتحول بإذن الله قريبا إلى موجات عارمة تجرف الفساد من على وجه الأرض وتعيد لها طهرها بعد أن استشرى فيها الضلال والاستعباد.


تمنينا أن يكون رد حكومة الجزائر على أعمال صبي فرنسا العدائية للإسلام وأقواله التحريضية على المسلمين على الأقل بتذكيره بتاريخ القائد العظيم أسد البحر المتوسط خير الدين بربروسا الذي أنقذ مدينة نيس عام 1543 من دوقية سافوي الموالية لشارلكان، فحرر المدينة وانتصر على جيوش الرومان والإيطاليين. وإثر هذا الانتصار العثماني الكبير عرض ملك فرنسا على بربروسا إقامة قاعدة عثمانية في ميناء طولون الفرنسي المطل على البحر الأبيض المتوسط لحماية فرنسا من هجمات الإمبراطورية الرومانية، وقد قبل بربروسا العرض بعد أخذ موافقة السلطان العثماني وتحولت مدينة طولون إلى مركز عسكري ضخم للحملات العثمانية، واستمر التحالف العثماني الفرنسي ما يقارب ثلاثة قرون.


وكذلك تذكيره برسالة ملك فرنسا فرانسوا الأول حين وقع في أسر الرومان والإسبان عام 1525 يستعطف ويستجدي ويستغيث بالسلطان العثماني آنذاك سليمان القانوني ويطلب فيها إنقاذه من عدوهم المشترك شارلكان، وجاءه الرد على طلبه من السلطان العثماني سليمان القانوني برسالة مطولة مما جاء فيها:


"بعناية حضرة عزة الله جلّت قدرته وعلت كلمته، وبمعجزات سيد زمرة الأنبياء، وقدوة فرقة الأصفياء محمد المصطفى ﷺ الكثيرة البركات، وبمؤازرة قدس أرواح حماية الأربعة، أبي بكر وعمر وعثمان وعلي، رضوان الله تعالى عليهم أجمعين، وجميع أولياء الله. أنا سلطان السلاطين وبرهان الخواقين، أنا متوج الملوك، ظلّ الله في الأرضين، أنا سلطان البحر الأبيض والبحر الأسود والبحر الأحمر والأناضول والروملّي وقرمان الروم، وولاية ذي القدرية، وديار بكر وكردستان وأذربيجان والعجم والشام ومصر ومكة والمدينة والقدس وجميع ديار العرب والعجم وبلاد المجر والقيصر وبلاد أخرى كثيرة افتتحتها يد جلالتي بسيف الظفر ولله الحمد والله أكبر.. أنا السلطان سليمان بن السلطان سليم بن السلطان بايزيد.. إلى فرانسيس ملك ولاية فرنسا...".


وعلى إثر ذلك تم عقد تحالف مشترك بين فرنسا والدولية العثمانية على الرغم من اعتراض الكنيسة وتسمية الكاثوليك له بالتحالف الأثيم، لكن ملك فرنسا كان له رأي آخر فقد وقع خيار فرانسوا في طلبه للنجدة على السلطان العثماني لكثير من الأسباب أهمها أن الدولة العثمانية في ذاك الزمان كانت تعتبر أقوى دولة في العالم وكانت بأوج ازدهارها إبان حكم السلطان سليمان القانوني والذي لقبه الغرب بسليمان الرائع، لذلك كان يأمل بتحقيق الكثير من المكاسب على حساب الإسبان


فمن العار على حاكم فرنسا اليوم أن يتنكر لفضل المسلمين عليه وعلى دولته، ومن الجهل أن يستعدي أمة مليار ونصف المليار كلهم فداء رسول الله.. ومن الغريب أن يستنجد إيمانويل ماكرون برأس الكفر بريطانيا لمساعدته، فتطلب الأخيرة من حلف الناتو أن يهبوا لنجدة الصبي الأهوج، تذكرنا هذه بجهالة أبي جهل من قبله الذي أنزل الله فيه قرآنا يتلى إلى يوم الدين ليكون نذيرا لأمثاله ﴿فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ * سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
م. يوسف سلامة – ألمانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست