من أي تقليد تشتكي، عندما يكون حكمك ذاته تقليداً بالفعل!
من أي تقليد تشتكي، عندما يكون حكمك ذاته تقليداً بالفعل!

الخبر:   تحدّث الرئيس التركي رجب طيب أردوغان في حفل افتتاح جامعة ابن خلدون فقال: "أعتقد أنه على مدار الثمانية عشر عاماً الماضية، ومع المحاسبة الصادقة، نجحنا في مجال العمل والخدمات التاريخية في جميع المجالات، لكننا لم نتمكن من تحقيق التقدّم الذي كنا نتمناه في التعليم والثقافة. على أية حال، كدولة وكأمة، فقد تأثرنا بالأفكار الغربية، إنها لخسارة كبيرة لجمهوريتنا أن يكون الطريق الذي نرغب في سلوكه لتنشئة أجيالنا ليكونوا ذوي تفكير مستقل، ومعرفة مستقلة، وضمير مستقل، قد تحول هذا الطريق من أقصى اليمين، الأكثر ابتذالاً، والأكثر تشويهاً إلى مُقلد غربي". (وكالة الأناضول 2020/10/19م) 

0:00 0:00
Speed:
October 26, 2020

من أي تقليد تشتكي، عندما يكون حكمك ذاته تقليداً بالفعل!

من أي تقليد تشتكي، عندما يكون حكمك ذاته تقليداً بالفعل!

(مترجم)

الخبر:

تحدّث الرئيس التركي رجب طيب أردوغان في حفل افتتاح جامعة ابن خلدون فقال: "أعتقد أنه على مدار الثمانية عشر عاماً الماضية، ومع المحاسبة الصادقة، نجحنا في مجال العمل والخدمات التاريخية في جميع المجالات، لكننا لم نتمكن من تحقيق التقدّم الذي كنا نتمناه في التعليم والثقافة. على أية حال، كدولة وكأمة، فقد تأثرنا بالأفكار الغربية، إنها لخسارة كبيرة لجمهوريتنا أن يكون الطريق الذي نرغب في سلوكه لتنشئة أجيالنا ليكونوا ذوي تفكير مستقل، ومعرفة مستقلة، وضمير مستقل، قد تحول هذا الطريق من أقصى اليمين، الأكثر ابتذالاً، والأكثر تشويهاً إلى مُقلد غربي". (وكالة الأناضول 2020/10/19م)

التعليق:

لقد أصبح التناقض بين أقوال وأفعال أردوغان أمراً شائعاً. والظاهر أن تمسكه بموقفه، ومخالفته لنفسه، وإنكار ما قاله أخيراً أمر واضح، وأريد أن أوضّح هذا الأمر في هذه القضية. "في إحدى الجامعات يدعو المعلم الطالب إلى المنصة ويطلب منه أن يخبره بالموضوع الذي أعدّه، ويبدأ الطالب بشرح المادة، ثم يطلب المعلم من الطالب الصعود على الطاولة وإخباره حول الموضوع، ويخبر الطالب بالموضوع على الطاولة ويستمر هذا الموقف ككرسي على الطاولة أو كرسي فوق كرسي وما إلى ذلك... لدرجة أن الخوف من السقوط من مكانه أثناء صعوده يشوّه تماسك الموضوع الذي يرويه الطالب، ويصبح الخطاب منفصلاً وغير متناسق". وبهذه الطريقة، يعطي المعلم طلابه درساً موجزاً ​​وملخّصاً ​​كان يتطلب تدريسه ساعات.

في الواقع، لا يختلف وضع حكام البلاد اليوم عن وضع هذا المثال. فالخوف من السقوط من حيث هم يضع مسافات بينهم وبين المجتمع. من الغريب الحديث عن شر الغرب وأن نحكم المجتمع وفق السياسات الغربية! وقبل كل شيء، فإن التعبير عن هذه القضية كخسارة للجمهورية يخدع المجتمع بالكامل. والآية التالية هي حجة عليك لأنك خدعت المجتمع بوضعه على منصة الديمقراطية بغلاف تربية الأجيال الدينية، مع أن حكومتك موجودة في كل مجال. "دعنا ننشئ أجيالاً دينية"، أنتم تصنعون أجيالاً تبتعد أكثر فأكثر عن دينها كل يوم؛ ﴿وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيِهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّهُ لاَ يُحِبُّ الفَسَادَ﴾.

أي تقليد تشتكي منه وأنت الحاكم وأنت السلطة التنفيذية وترتبط بأعداء الإسلام وتوقّع معهم معاهدات اقتصادية وسياسية وعسكرية؟! أي نوع من الضمير، أي نوع من الإذن لنفسك أن تلعب مع قوانين هذا المجتمع من أجل الدخول إلى الاتحاد الأوروبي ومحاولة بيع أخلاقك وقيمك وإيمانك من أجل مصلحة صغيرة؟!

ألست أنت الشخص الذي شرّع الزنا من أجل الانضمام للاتحاد الأوروبي؟! ألست أنت من أعطى الإذن القانوني للمثليين والمثليات ومزدوجي الميل الجنسي ومغايري الهوية الجنسانية (LGBT) الذين يلعنهم الله؟! ألست من يؤّمن لهم تكوين الجمعيات وتكوين رأي عام؟! لقد تقدمت المسلمين في كل مجال في التقليد حيث إنك أنت الذي تبنيت المساواة بين الجنسين في المجتمع، ودمّرت الأسرة والجيل والمجتمع. أنت اليوم في السلطة، ولكنك أيضاً مفتون بالغرب الذي يدير جوهر الديمقراطية. مع كل هذه الجوانب، كيف تجرؤ على الحديث عن التقليد؟!

أتساءل ما إذا كان أردوغان يدرك هذا التناقض، بتنفيذه ما هو بعيد عن حضارة المسلمين ولكنه قريب من الغرب وتطبيقه على الشعب المسلم. وبعد ذلك يتحدث عن الماضي وعن تفوق المسلمين في العلوم والتقنية والفنون. إن السبب الذي جعل المسلمين قدوة للعالم في العلم والمعرفة في الماضي، هو أنهم طبقوا أحكام دينهم الذي آمنوا به في كل مناحي الحياة، وحكموا بنظام الخلافة وطبقوا أحكام الشريعة. إذا كان أردوغان صادقاً حقاً في أقواله، وإذا كان فخوراً بتاريخ المسلمين، وإذا كان ينوي إعادة إحياء أمته بالتفوق في العلم والتقنية، فليُوجد جيلاً يقود العالم أيضاً، جيلاً يخضع به الكفار تحت أقدام المسلمين، ويجب أن يتخلى على الفور عن حكم النظام الديمقراطي العلماني الذي يعتبره الإسلام كفراً ويجب أن يتوب إلى الله. وبعد ذلك يعتبر الحكم بأحكام الإسلام أمراً مصيرياً، إما الحياة أو الموت. وبهذه الطريقة تصبح حاكماً تؤكد أفعاله أقواله، وإلاّ فإن الأمة ستظل في واد وأنت تبقى في واد آخر.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست