من المستفيد من وراء الهجوم على صناعة النفط في السعودية؟
من المستفيد من وراء الهجوم على صناعة النفط في السعودية؟

الخبر: في الأسبوع الماضي، تعرضت شركة النفط العربية السعودية ومنشآت أرامكو النفطية في بقيق وخريس لهجمات بالطائرات بدون طيار. وقد تسبب هذا في انخفاض إنتاج النفط في السعودية إلى نصف إنتاجها. وقد أدى ذلك إلى نشوب الحرائق وسبب أضراراً كبيرة خفضت الإنتاج الخام لأكبر مصدر للنفط في العالم إلى النصف، وذلك إزاء إلغاء 5.7 مليون من الإصدار اليومي.

0:00 0:00
Speed:
September 27, 2019

من المستفيد من وراء الهجوم على صناعة النفط في السعودية؟

من المستفيد من وراء الهجوم على صناعة النفط في السعودية؟
(مترجم)


الخبر:


في الأسبوع الماضي، تعرضت شركة النفط العربية السعودية ومنشآت أرامكو النفطية في بقيق وخريس لهجمات بالطائرات بدون طيار. وقد تسبب هذا في انخفاض إنتاج النفط في السعودية إلى نصف إنتاجها. وقد أدى ذلك إلى نشوب الحرائق وسبب أضراراً كبيرة خفضت الإنتاج الخام لأكبر مصدر للنفط في العالم إلى النصف، وذلك إزاء إلغاء 5.7 مليون من الإصدار اليومي.


التعليق:


السؤال الذي يطرح نفسه هو لماذا لم تتمكن السعودية من حماية نفسها من خلال نظامها الدفاعي بمليارات الدولارات؟ وما هي العواقب؟ ومن المستفيد من هذا؟


إن السعودية تعتبر بعد الولايات المتحدة والصين، من أكبر الدول التي تنفق عسكريا في العالم. لديها حتى الآن قوات الدفاع الأفضل تمويلاً والمجهزة تجهيزاً جيداً في الشرق الأوسط. 28٪ من ميزانيتها يذهب للدفاع الجوي، أو حوالي 67،5 مليار دولار يذهب إلى جيشها.


وبالنسبة لنظام دفاعها الجوي فقد وظفت نظام باتريوت الأمريكي (نظام صاروخي أرض-جو) ضد الاتحاد السوفيتي (روسيا فيما بعد) وصنعت سكود (صاروخ باليستي تكتيكي) خلال حرب الخليج عام 1991 ضد العراق. ومنذ ذلك الحين، يعمل هذا النظام على ردع الصواريخ القليلة الموجهة من اليمن. بالإضافة إلى ذلك، فإنه يحتوي على نظام الدفاع الجوي، النظام الألماني الصنع، للطائرات، وقد اشترى مؤخراً طراز ثاد التابع لشركة لوكهيد مارتن. كما أنه يحتوي على أنظمة رادارات متقدمة مدمجة في نظام "Peace Shield" وهو نظام C3I على أحدث طراز تم تطويره خصيصاً للقوات الجوية السعودية هذا النظام هو أرضية الدفاع الجوي، والاتصالات الذي يجمع بين القوات البرية، والقوات البحرية وقوات الدفاع الجوي الملكي السعودي، لذا، هل من الممكن التقليل من شأن الهجوم على أرامكو، وذلك بالقول - على غرار بعض المسؤولين الأمريكيين - إن نظام الدفاع الجوي المتقدم هذا غير قادر على التعامل مع الطائرات بدون طيار وبعض الصواريخ؟


خاصة، إذا اعتبرنا أن السعودية لديها خمسة أنظمة فرعية للدفاع الجوي؛ منها المجموعة الخامسة في الظهران؛ في قلب مركز النفط السعودي، أرامكو. وأن معظم القوات الوطنية السعودية منتشرة هنا لحماية البنى التحتية النفطية في المنطقة الشرقية. فهل يعقل أن هذا المكان المحمي جيدا يمكنه بسهولة أن يخترق من طائرتين بدون طيار؟!


أيضا، فعدم الكفاءة، أو السلوك غير المدرك للشخص العسكري الذي يتحكم في البطاريات والرادارات ومراقبتها هو بعيد المنال بسبب طبقات الأمن المتعددة. وخاصة إذا كانت أقصر مسافة بين الحدود اليمنية والظهران حوالي 850 كم. لذلك، وإذا افترضنا أن هذه الطائرات بدون طيار والصواريخ تعبر هذه المسافة برمتها دون أن يلاحظها أحد، فمن الصعب تصديق ذلك.


فحينما استهدف الحوثيون الأماكن القريبة من الحدود اليمنية مثل محافظة نجران وخميس مشيط ومحافظتي جيزان وعسير، اعتُرضت جميع الصواريخ تقريبا. وخاصة بسبب الأمن الزائد بين السعودية والحدود اليمنية.


إن توجيه ضربة صاروخية من إيران، كما أشار الرئيس ترامب ووزير الخارجية الأمريكي مايك بومبيو، واصفين إياه بأنه "عمل حرب" سابق لأوانه وغير معقول، نظراً لحقيقة أن إيران لن تعرض موقعها الضعيف بالفعل للخطر. وأيضاً، فإن المنشآت التي تعرضت للهجوم تقع في الجانب الشرقي من البلد للبحرين وقطر والإمارات والكويت والخليج العربي، ولم يخطر أي منها بأي هجوم صاروخي محتمل قادم من إيران. حتى أكبر أسطول بحري أمريكي خامس ينشط في المنطقة لم يرسل أية إشارات تحذيرية من الصواريخ الموجهة من إيران.


الأمر المثير للاهتمام هو توقيت الضربات الصاروخية؛ فقد حدثت قبل أسبوع من انعقاد اجتماع أرامكو قبل الاكتتاب العام مع المحللين والبنوك (المحلية والدولية) في مقر أرامكو في الظهران. لم يؤد الهجوم إلى إلحاق ضرر بالمنشآت النفطية وتسبب في خفض إنتاج النفط الخام إلى النصف الذي قد يستغرق أسابيع أو حتى شهراً حتى يستقر. كما أثر سلباً على ثقة أرامكو في تأمين منشآت نفطية مما سيؤدي على الأرجح إلى تخفيض قيمة الاكتتاب العام في أرامكو. وهو ما يعود بالنفع على المستثمرين والبنوك الأمريكية المدرجة في البورصة للعب دور كبير في الاكتتاب العام مثل جي بي مورغان وجولدمان ساكس ومورغان ستانلي وإتش إس بي سي.


وفقاً لبعض المحللين، فإن تخفيض قيمة الاكتتاب العام سوف يؤدي إلى ارتفاع أسعار النفط أكثر. وهذا يصب في صالح المنافسة العالمية للطاقة في الولايات المتحدة. ستعوض أسعار النفط المرتفعة استخراج الصخر الزيتي المكلف نسبياً في الولايات المتحدة ومن ثم تصديره. وهذا يشمل كذلك ارتفاع أسعار النفط بعد الهجوم على أرامكو. ولكن أيضاً، فإن تحديد إيران كطرف مذنب من خلال مواصلة وقف تصدير النفط الإيراني يتماشى مع الاستراتيجية الأمريكية الأوسع في المنطقة. لأنه إذا انعدم تصدير النفط الإيراني، فسوف ترتفع أسعار النفط على مستوى العالم.


كرد فعل على "التهديدات"، أعلن الرئيس ترامب نشر المزيد من الأفراد العسكريين في السعودية والولايات المتحدة، وقال وزير الدفاع مارك إسبر في مؤتمر صحفي إن الولايات المتحدة ستعمل لتسريع تسليم المعدات العسكرية إلى السعودية شبه الجزيرة العربية والإمارات "لتعزيز قدرتهم على الدفاع عن أنفسهم". وهذا يعني، المزيد من الحشد العسكري الأمريكي في السعودية والمزيد من بيع المعدات العسكرية الأمريكية. وسيؤدي هذا أيضاً إلى تعزيز التحالف البحري، حيث تقود الولايات المتحدة، مع السعودية والإمارات والبحرين وبريطانيا وأستراليا، لتأمين الممرات المائية وطرق تجارة النفط الرئيسية في المنطقة.


وكما تدعو القيادة الحوثية الآن إلى وقف إطلاق النار وإيجاد حل سياسي وأظهرت استعدادها للتعاون مع الحكومة اليمنية، بعد أن أعلنت مسئوليتها عن الهجوم.


على الرغم من ذلك، وفي هذه المرحلة، لا يمكن الإشارة إلى الجاني الحقيقي. ولكن من الواضح أن الشخص الوحيد الذي يستفيد من هذا الوضع هو الولايات المتحدة.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أوكاي بالا
الممثل الإعلامي لحزب التحرير في هولندا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست