محاكمة ترامب والهروب إلى الأمام
محاكمة ترامب والهروب إلى الأمام

الخبر: "أوردت وسائل الإعلام خبر إحالة الرئيس الأمريكي ترامب لمحاكمة أمام مجلس الشيوخ يوم الأربعاء 2019/12/18 وتوجيه اتهامين له باستغلال السلطة وعرقلة عمل الكونغرس، في إطار محاولة عزله من السلطة".

0:00 0:00
Speed:
December 23, 2019

محاكمة ترامب والهروب إلى الأمام

محاكمة ترامب والهروب إلى الأمام


الخبر:


"أوردت وسائل الإعلام خبر إحالة الرئيس الأمريكي ترامب لمحاكمة أمام مجلس الشيوخ يوم الأربعاء 2019/12/18 وتوجيه اتهامين له باستغلال السلطة وعرقلة عمل الكونغرس، في إطار محاولة عزله من السلطة".

التعليق:


لا تختلف التقارير المتعلقة بعزل ترامب أن مجلس الشيوخ الذي يسيطر عليه الجمهوريون سوف يعمل على تبرئة ترامب من التهمتين اللتين قرر مجلس النواب أن يتهمه بهما. وقد يختلف المحللون حول كيفية التبرئة فإما أن تكون بعد محاكمة شاملة يتم بها الاستماع لشهادة الشهود والاستماع لترامب نفسه أو لمحاميه، أو أن تكون المحاكمة قصيرة لا يتم فيها استدعاء شهود ولا عرض للتهم بتفاصيلها بل يتم التصويت من مجلس محسوم أمر نتيجة تصويته. وفي كلتا الحالتين فإن ترامب سوف يلحقه ضرر بالغ من الصعب التغلب على آثاره. ففي الحالتين يكون ترامب قد خضع لمحاكمة عزل تتعلق بسلوكه كحاكم يستغل السلطة أو كحاكم متغطرس، وكلا الحالتين لا تروق لشعب لا يزال يظن أن الرئيس يجب أن يتمتع بقيم عالية تضع مصلحة أمريكا فوق كل اعتبار ما قد يؤثرعلى نتيجة الانتخابات القادمة.


وهنا لا نود أن نستعرض ما يقال حول ترامب، وما هي الأخطاء التي وقع بها، وكيف تجري المحاكمات ومن يريد أن يوقع بمن، فالصحف الإلكترونية والورقية تزخر بهذه المعلومات ما صح منها وما لم يصح.


ولكن نود أن نعرض إلى سؤال آخر، وهو لماذا عزف الكونغرس الأمريكي عن محاكمة ترامب لعزله بناء على ما ورد عن تدخل روسيا في انتخابات 2016 والتأثير عليها لصالح ترامب بالرغم أن أمريكا دفعت أكثر من 300 مليون دولار ثمنا للتحقيق الذي أجراه مولر والذي توج بتقرير يزيد عن 4 آلاف صفحة، وفيه من الأدلة الدامغة الكافية لعزل ترامب، وهي أشد وأنكى من قضية أوكرانيا. ومع ذلك فقد طوى الكونغرس تقرير مولر وقضية ترامب مع روسيا؟!


إلا أن الكونغرس ومن ورائه كبار الساسة الأمريكان لم يترددوا خلال أقل من شهرين من تناقل معلومة ما يسمى مطلق الصفير في قضية محاولة ترامب التأثير على أوكرانيا ودفعها للتحقيق في أعمال جو بايدن وابنه، ولم يتوان الكونغرس عن الشروع بأعمال المحاكمة واتخاذ قرار بأسرع مما كان يتصوره أحد!


الحقيقة أن قضية ترامب مع أوكرانيا والتي لن تقود إلى عزله عن الحكم على أية حال، ما هي إلا عملية تم التوصل إليها لإخراج أمريكا من حرج أكبر كان يمكن أن يهدد سمعتها العالمية ومكانتها القيادية بين دول العالم خاصة تلك المتعلقة بالديمقراطية وقيادتها العالمية. وذلك أن الكونغرس والساسة الأمريكان قد أدركوا أن محاكمة ترامب على أساس أن روسيا تدخلت في الانتخابات الأمريكية ستلحق العار بل الهزيمة الأيديولوجية بالدولة الأولى في العالم. والخاسر الأكبر هنا ليس ترامب بل أمريكا بعظمتها وعنجهيتها، وترامب يدرك ذلك أكثر من أي جهة أخرى. ولذلك فقد أصرت زعيمة الكونغرس الأمريكي نانسي بيلوسي على عدم البدء بأي إجراء يؤدي إلى عزل ترامب على أساس قضية روسيا - ترامب ومن دون الخوض في التفاصيل. فمجرد الدخول في النقاش وسماع الشهود الذين يثبتون حجم التدخل الروسي في الانتخابات وأي علاقة مميزة بين روسيا وترامب، حتى ولو لم تكن دقيقة أو صحيحة، فإن روسيا تكون قد سجلت ضد أمريكا نقطة مهمة مفادها أن أهم حصن من حصون أمريكا بات مهددا أو محل تهديد. ولو أثبت الديمقراطيون بما لديهم من معلومات أن ترامب أثناء مروره بأزمات مالية كان قد استعان بالروس لإنقاذه، ومن ثم أصبح رئيسا لأمريكا، ستبقى هذه نقطة سوداء في تاريخ السيادة الأمريكية حتى لو لم تثبت بالدليل المنافي للشك والمستوجب العزل.


ولكن في الوقت نفسه، فإن تمرير تقرير مثل تقرير مولر بهذه البساطة دون اتخاذ أي إجراء يعتبر كارثة بحد ذاتها، حتى ولو طوته وسائل الإعلام بعد أسابيع من ظهوره ونشره، كأنه لم يكن. فمثل هذا التقرير سيبقى محل بحث ونقاش، وسوف يحرك الرأي العام في أي وقت، وقد يتم استغلاله في ظروف تكون أمريكا فيها أعجز من تجاهله أو تحريفه. وبالتالي لم يكن بمقدور الساسة الأمريكان بمن فيهم الكونغرس ومجلس الشيوخ أن لا يتصرفوا حيال الرئيس ترامب وما جرى حوله من شبهات وتساؤلات كثيرة.


من هنا جاءت قضية أوكرانيا من نفس جنس قضية روسيا، وهي التدخل في الانتخابات، ولكنها هذه المرة جرى ضبطها ومنع استفحالها في الوقت المناسب، وقضية أوكرانيا ليس فيها أي علاقات مشبوهة للرئيس ترامب كما كانت مع الروس، كما أن أوكرانيا ليست بالدولة التي لها مصلحة في تسديد ضربات معينة للعملاق الأمريكي، كما كان لروسيا التي لم تنس كيف أخرجتها أمريكا من المسرح الدولي بعد سقوط الاتحاد السوفياتي والذي لا تزال أمريكا تعتبر سقوطه رمزا لانتصارها في حرب باردة استمرت عشرات السنين. فأوكرانيا دولة صغيرة متواضعة ليست لها أطماع دولية ولا قدرة منافسة وليس لها أي اعتبار. فمحاكمة ترامب على خلفية قضية مع أوكرانيا سينتهي أثرها بمجرد انتهاء أجواء المحاكمة.


لذا فإن محاكمة ترامب على خلفية محادثة مع رئيس أوكرانيا، ليس المقصود منها عزل ترامب، بل الخروج من مأزق تدخل روسيا بانتخابات أمريكا فإن هي نبشته ستقتلها رائحته، وإن هي دفنته فسوف يلاحقها شبحه. فاختلقت للخروج من الأزمة قضية مشابهة، ولكنها أقل خطرا، وأقل أثرا عليها.


فالقضية الحقيقية ليست قضية عزل ترامب أو إبقائه في الحكم، بل هي قضية سمعة أمريكا، وأيديولوجيتها المتعلقة بالديمقراطية، ومكانتها الدولية وهذه هي الأسس التي ترتكز عليها أمريكا في قيادتها للموقف الدولي.


فإلى متى تبقى أمريكا ترفل بثياب التكبر والقوة والغطرسة والمكر والخداع؟ لا شك أن الله هو الأقوى وأن مكره هو الأكبر.


﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ * إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ * الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست