مغتصبو سلطان الأمة لا يُستأذنون في بناء المساجد ولا يجوز لهم هدم مساكن الناس
مغتصبو سلطان الأمة لا يُستأذنون في بناء المساجد ولا يجوز لهم هدم مساكن الناس

الخبر:   ذكرت بوابة الأهرام السبت 2020/9/12م، أن مفتي مصر شوقي علام قال إن الأرض غير المملوكة لأحد لا يجوز اغتصابها، ولا البناء عليها إلا بإذن صاحبها، وأضاف خلال لقائه مع الإعلامي حمدي رزق، ببرنامج "نظرة"، المذاع على قناة صدى البلد، أن الفقهاء قالوا إن بناء المسجد على أرض مملوكة للدولة دون تصاريح أو استئذان هو مسجد مبنى على أرض مغتصبة ويأثم من يذهب للصلاة، وأكد على أنه لا يجوز الاعتداء على الملكيات لأنها محمية، وإلا أصبحنا في غابة، ومن يأخذ شبراً من الأرض لا تحق له يطوق بها يوم القيامة، وأوضح مفتي الديار المصرية، أن المسجد المبنى على أرض مملوكة للدولة لا تجوز الصلاة فيه إلا بعد الحصول على تصريح من الدولة. ...

0:00 0:00
Speed:
September 26, 2020

مغتصبو سلطان الأمة لا يُستأذنون في بناء المساجد ولا يجوز لهم هدم مساكن الناس

مغتصبو سلطان الأمة لا يُستأذنون في بناء المساجد

ولا يجوز لهم هدم مساكن الناس

الخبر:

ذكرت بوابة الأهرام السبت 2020/9/12م، أن مفتي مصر شوقي علام قال إن الأرض غير المملوكة لأحد لا يجوز اغتصابها، ولا البناء عليها إلا بإذن صاحبها، وأضاف خلال لقائه مع الإعلامي حمدي رزق، ببرنامج "نظرة"، المذاع على قناة صدى البلد، أن الفقهاء قالوا إن بناء المسجد على أرض مملوكة للدولة دون تصاريح أو استئذان هو مسجد مبنى على أرض مغتصبة ويأثم من يذهب للصلاة، وأكد على أنه لا يجوز الاعتداء على الملكيات لأنها محمية، وإلا أصبحنا في غابة، ومن يأخذ شبراً من الأرض لا تحق له يطوق بها يوم القيامة، وأوضح مفتي الديار المصرية، أن المسجد المبنى على أرض مملوكة للدولة لا تجوز الصلاة فيه إلا بعد الحصول على تصريح من الدولة.

التعليق:

غياب مفهوم الدولة ومفهوم الرعاية مع التفكير على أساس وجهة النظر الرأسمالية هي الأساس الذي خرجت منه كلمات المفتي التي لا ترقى لمستوى الفتوى فضلا عن كونه عالم سلطان يرسخ لحكمه ويعمل على تثبيت سلطانه ويدعو الناس للانصياع له وطاعة قراراته، فلم يستند إلى دليل شرعي واحد، والأدلة الشرعية بخلاف ما يقول واغتصاب الحاكم الذي يعمل له لسلطان الأمة مصيبة أعظم من اغتصاب شبر من الأرض.

إن التصور الرأسمالي للملكيات الذي تكلم على أساسه مفتي مصر يقسم الملكيات إلى خاصة وعامة ويطلق على الملكية العامة ملكية الدولة، فيخلط بين الملكيات وتتوزع الملكية العامة بين ملكية الدولة والملكية الخاصة، ولهذا تسمح الرأسمالية للأشخاص بتملك واحتكار ما هو من الملكية العامة، والأرض الموات أو غير المملوكة لأحد هي ملكية عامة وردت فيها نصوص شرعية تبين كيفية استغلالها وتملكها وحيازتها، فقال ﷺ: «مَنْ أَحْيَا أَرْضاً مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ‏» وفي رواية: «مَنْ أَحْيَا أَرْضاً مَيْتَةً فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»، فإحياؤها بالزرع والبناء والإعمار هو تملك لا يجوز للدولة نزعه بل يجب عليها إقراره.

أما المساجد المقامة على أرض مملوكة للدولة والتي يدعي المفتي أنها مغتصبة وأن من يصلي فيها آثم مستشهدا بقول فقهاء مجاهيل لم يُسَمِّ منهم أحدا، ورغم أن هذه الأرض تدخل في الملكية العامة كما أسلفنا إلا أن هذه المساجد بنيت عليها لحاجة الناس فلا يجوز هدمها، قال ابن قدامة في المغني: "وإن بنى في طريق واسع في موضع لا يضر البناء فيه لنفع المسلمين كبناء مسجد يحتاج إليه للصلاة فيه في زاوية ونحوها، فلا ضمان عليه، وسواء في ذلك كله أذن الإمام أو لم يأذن". اهـ. ونقل ابن تيمية في الفتاوى الكبرى عن إسماعيل بن سعيد الشالنجي قال: "سألت أحمد عن طريق واسع وللمسلمين عنه غنى، وبهم إلى أن يكون مسجدا حاجة هل يجوز أن يبنى هناك مسجد؟ قال: لا بأس إذا لم يضر بالطريق". اهـ. ثم قال ابن تيمية بعدها: "فأحمد أجاز البناء هنا مطلقا، ولم يشترط إذن الإمام". اهـ.

هذا كله في حال ولي الأمر الشرعي المبايع من الأمة ويحكمها بالإسلام والذي له حق الطاعة على الناس، وليس هؤلاء الحكام العملاء مغتصبي سلطان الأمة، فهؤلاء لا طاعة لهم أصلا فلا طاعة لمن عصا الله.

الأصل يا فضيلة المفتي أن تفكر على أساس الإسلام وتنظر من زاويته حين إصدار الحكم على الوقائع والأشياء، وهذا ما لم تفعله! بل طوعت علمك لليّ عنق الأدلة لتبرر قبيح فعال النظام المصري الذي يهدم المساجد والمساكن بحجة أنها مخالفة أو على أرض مملوكة للدولة، بينما تناسيت أن هذا النظام لا شرعية لحكمه ولا ولاية ولا سلطان وأن بناء المساجد وتمكين الناس من بناء المنازل من مسؤولية الدولة ومن واجباتها لرعاية شؤونهم، وتقصيرها وإهمالها وتفريطها في هذا الجانب إثم يستوجب محاسبتها من الأمة التي يفترض أن تكونوا أنتم صوتها المطالب بحقوقها فكيف لو كنتم عونا للظالم على ظلمها وتركيعها؟!

يا فضيلة المفتي ويا كل علماء مصر! متى تغسلون أيديكم من إثم هذا النظام وتديرون له ظهوركم انحيازا لأمتكم ودينكم؟ ومتى تقومون بما أوجبه الله عليكم نصحا للأمة وقيامة على وعيها وتبيانا لحقوقها وما يجب لها من رعاية من الدولة وما عليها من واجبات؟! هذا دوركم وهذا ما سيسألكم الله عنه يوم القيامة ولن يغني عنكم حاكم ولن تنفعكم سلطة ولا مكانة ولا أموال.

يا علماء مصر! إن واجبكم الآن هو بيان ما عليه النظام من مخالفة للشرع توجب خلعه وما يجب على الأمة من عمل لتطبيق الإسلام في دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة تكونون أنتم في طليعته وتحريضا وحثا للمخلصين في جيش الكنانة على نصرة العاملين لتطبيق الإسلام تطبيقا كاملا شاملا تقر به أعين الناس ويتم الله به نوره فتقام دولة الخلافة التي تعز مصر وأهلها وترعاهم خير رعاية، هذا دوركم وواجبكم وهذا ما يرضي ربكم عنكم، فسارعوا عسى الله أن يتقبل منكم ويكتب الفتح والنصر على أيديكم فتفوزوا فوزا عظيما، وستذكرون ما أقول لكم وأفوض أمري إلى الله والله بصير بالعباد.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست