ماكرون يدين "الانفصالية الإسلامية" ويدافع عن حق التجديف
ماكرون يدين "الانفصالية الإسلامية" ويدافع عن حق التجديف

الخبر: الرئيس الفرنسي، الذي يقترح قانوناً ضد "الانفصالية الإسلامية"، يدافع عن حرية التعبير وسط محاكمة هجوم شارلي إيبدو. وانتقد الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون ما أسماه "الانفصالية الإسلامية" في بلاده وأولئك الذين يسعون للحصول على الجنسية الفرنسية دون قبول "حق فرنسا في التجديف". ...

0:00 0:00
Speed:
September 09, 2020

ماكرون يدين "الانفصالية الإسلامية" ويدافع عن حق التجديف

ماكرون يدين "الانفصالية الإسلامية" ويدافع عن حق التجديف

(مترجم)

الخبر:

الرئيس الفرنسي، الذي يقترح قانوناً ضد "الانفصالية الإسلامية"، يدافع عن حرية التعبير وسط محاكمة هجوم شارلي إيبدو.

وانتقد الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون ما أسماه "الانفصالية الإسلامية" في بلاده وأولئك الذين يسعون للحصول على الجنسية الفرنسية دون قبول "حق فرنسا في التجديف".

دافع ماكرون يوم الجمعة عن صحيفة شارلي إيبدو الساخرة، التي نشرت رسوماً كاريكاتورية للنبي محمد دفعت رجلين مولودين في فرنسا إلى شن هجوم مميت في كانون الثاني/يناير 2015 على غرفة الأخبار في الصحيفة.

أعادت الصحيفة الأسبوعية نشر الصور هذا الأسبوع مع بدء محاكمة 14 شخصاً بشأن الهجمات على شارلي إيبدو وعلى سوبر ماركت كوشير.

وقال الرئيس الفرنسي، متحدثا في احتفال يوم الجمعة للاحتفال بالتاريخ الديمقراطي لفرنسا وتجنيس أشخاص جدد: "لا تختار جزءاً واحداً من فرنسا. أنت تختار فرنسا... لن تسمح الجمهورية أبداً بأية مغامرة انفصالية".

وقال ماكرون إن الحرية في فرنسا تشمل: "حرية الإيمان أو عدم الإيمان. لكن هذا لا ينفصل عن حرية التعبير حتى الحق في التجديف".

وأشار إلى المحاكمة التي بدأت يوم الأربعاء، فقال: "أن تكون فرنسياً يعني أن تدافع عن حق الناس في إضحاكهم، وانتقادهم، والسخرية منهم، ورسم الكاريكاتير".

وأسفرت هجمات 2015 عن مقتل 17 شخصاً ومثلت بداية موجة عنف من جماعة تنظيم الدولة المسلحة في أوروبا.

ووعدت حكومة ماكرون الوسطية بسن قانون في الأشهر المقبلة ضد "الانفصالية الإسلامية" لكن لم يتضح بعد بالضبط ما الذي ستحكمه.

ويخشى بعض النقاد من أنه قد يؤدي إلى وصم جائر للسكان المسلمين في فرنسا، وهم الأكبر في أوروبا الغربية. (Aljazeera.com)

التعليق:

أمر الله سبحانه وتعالى رسوله ﷺ بأن يُنذر البشرية، وبخاصة الذين تكبروا عن سماع الحق: ﴿وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَاء اللَّهِ إِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ * حَتَّى إِذَا مَا جَاؤُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ * وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ [فصلت: 19-21]

تسمح حضارة القرن الحادي والعشرين لحرية التعبير في فرنسا بالتطاول على الله سبحانه وتعالى وعلى المقدسات، ومهاجمة عقيدة الشعوب، ولكنها لا تسمح للمسلمين بالدفاع عنها. لم يبرر ماكرون التجديف والإساءة للرسول فحسب، بل أظهر حقده الحقيقي، في تجريم أي شخص يحتج على ذلك. هناك حرية في الاستفزاز والكراهية والتسبب في الأذى، ولكن ليست هناك حضارة كافية للسماح بحرية المعتقد، والممارسة دون استفزاز أو لوم، وبالتأكيد ليس إذا كنت مسلماً.

في القرن الحادي والعشرين في أوروبا، عادت فرنسا ماكرون إلى ألمانيا هتلر في القرن التاسع عشر.

يُذكِّر الله سبحانه وتعالى الأشرار والمتغطرسين بأنهم سيواجهون جميعاً اللحظة، عندما يجعل الله سبحانه وتعالى ﴿الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ﴾ أجزاءً من جسدهم تتكلم لتشهد بحرية عن شرهم الذي ارتكبوه هنا على الأرض.

لا يسمح الإسلام باضطهاد العرقيات الصغيرة، ويحرم ترهيب أو إجبار أي شخص على اعتناق الإسلام أو ترك دينه بحسب أوامر الله سبحانه وتعالى ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾.

لكن في فرنسا في عهد ماكرون، لا يقتصر الأمر على استفزاز المسلمين ووقوعهم ضحية، بل تتم معاقبة وتطبيع الكراهية لأسلوب حياتهم، ويتم تجريم المسلمين المخلصين باعتبارهم "انفصاليين". تمييز لا يُمنح حتى للفاشيين الذين يعادون السامية ويدعون لكراهية الأجانب في فرنسا. في الواقع، يبدو أن ما تسمى بفرنسا الليبرالية غير قادرة على إقناع المسلمين فكريا وبالتالي يلجؤون إلى القمع.

في الآية ذاتها من سورة البقرة تأتي التتمة بـ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ﴾. بالنسبة للإنسان الصادق العقلاني، يقف الحق واضحا أمام الباطل.

ها هو ماكرون نفسه الذي طار حول بيروت في طائرته الهليكوبتر الصغيرة، حيث لعب دور المستعمر المنقذ العائد الذي يجب أن يحمل مرة أخرى عبء الرجل الأبيض من أجل خير شعب لبنان. في الحقيقة هذه هي الدول الاستعمارية الفاسدة التي نخرت قبل مائة عام جرحاً في جسد الأمة لفصل بلاد المسلمين في لبنان عن باقي الأمة، وجعلها بعيدة عن حماية الإسلام.

هذه الدولة الفرنسية، التي تكره الإسلام، تضطهد المسلمين في بلادهم، وتسيء لرسول 1.6 مليار مسلم، وتحاول بسط مخالبها على مسلمي العراق، في أعقاب تضاؤل ​​النفوذ الإيراني.

روى أبو هريرة عن حبيبنا رسول الله ﷺ قال: «لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ».

ماكرون ليس منقذنا. انبذوا ماكرون كاره الإسلام في لبنان والعراق وانبذوا معه كل الخونة والعملاء لفرنسا وأعداء الله سبحانه وتعالى ورسوله ﷺ من كل أراضينا.

حكامنا الدمى يخونوننا، إنهم يتلاعبون ويقتدون بأعداء رسول الله ﷺ ويسجنون ويقتلون من يحبون ويتوقون إلى عودة الإسلام. لن يقدموا لنا هم ولا أسيادهم المستعمرون العدالة والسلام والأمن الذي نتوق إليه. بالتأكيد لا يقع الأمر على من يجرم كل من يدافع عن الإسلام والرسول ﷺ.

أرسل الله سبحانه وتعالى الرسول ﷺ بعقيدته ونظامه الذي لن يحمي الأمة الإسلامية ويعيد لها شرفها فحسب، بل سينقذ العالم من ظلم المستعمرين والفجار. روى مسلم عن الأعرج عن أبي هريرة، أن رسول الله ﷺ قال: «إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ».

إن عقيدة الإسلام وحبنا لرسول الله ﷺ يدعواننا إلى التحرك وإزالة الكفر والطاغوت الذي يقهرنا وإعادة تطبيق نظام رسول الله ﷺ الذي أقامه، الخلافة الحقيقية، دولة الإسلام.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حمزة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست