ما مدى راحة أمريكا في مشاهدة "النصر" في إدلب؟
ما مدى راحة أمريكا في مشاهدة "النصر" في إدلب؟

الخبر: يوم الخميس 27 شباط/فبراير، هاجمت قوات النظام السوري القوات المسلحة التركية في إدلب بدعم من روسيا، ووفقاً للبيان فقد قتل 34 جندياً تركياً في هذا الهجوم الغادر. ردت تركيا على هذا الهجوم الذي شنته قوات النظام، ووفقاً للبيان الرسمي تم استهداف العديد من مواقع النظام والمناطق العسكرية وقتل أكثر من 2000 جندي من قوات النظام. أظهرت وسائل الإعلام والرأي السياسي في تركيا أن هذه العملية المضادة كانت بمثابة نجاح وانتصار كبير، وذكر أن الانتقام قد تم.

0:00 0:00
Speed:
March 05, 2020

ما مدى راحة أمريكا في مشاهدة "النصر" في إدلب؟

ما مدى راحة أمريكا في مشاهدة "النصر" في إدلب؟
(مترجم)


الخبر:


يوم الخميس 27 شباط/فبراير، هاجمت قوات النظام السوري القوات المسلحة التركية في إدلب بدعم من روسيا، ووفقاً للبيان فقد قتل 34 جندياً تركياً في هذا الهجوم الغادر. ردت تركيا على هذا الهجوم الذي شنته قوات النظام، ووفقاً للبيان الرسمي تم استهداف العديد من مواقع النظام والمناطق العسكرية وقتل أكثر من 2000 جندي من قوات النظام. أظهرت وسائل الإعلام والرأي السياسي في تركيا أن هذه العملية المضادة كانت بمثابة نجاح وانتصار كبير، وذكر أن الانتقام قد تم.

التعليق:


حسناً، هل هذا الكلام صحيح؟ هل تحقق النصر عن طريق إلحاق الضرر بالعدو بشكل أكبر من الأضرار التي ألحقها بنا هجومه؟ هل تحقق النصر عندما تقول إنك قتلت 34 من جنودي، لكنني قتلت 2000 جندي من جيشك؟ حياة جنودنا الذين قتلوا على يد النظام في إدلب مهمة للغاية بالنسبة لنا. البلد بأسره في حالة حداد، والناس حزينة، وعشرات الآلاف بل مئات الآلاف يحضرون جنازات الجنود. لأن الناس يشعرون بالألم، لأن روسيا والنظام قد قتلا إخواننا بهذا الهجوم الغادر. ليس الـ34، بل حتى حياة واحدة ذات قيمة بالنسبة لهذا الشعب، حيث إن هذا الجيش هو من المسلمين. لكن هل جنود الأسد مهمون للأسد؟ هل يشعر الأسد بالأسف على جنوده القتلى أم أن روسيا وإيران منزعجتان بسبب هذه الخسائر؟ أنا لا أظن ذلك. لأن روسيا تعرف أن هجمات النظام هذه منطقية حتى يتمكنوا من استعادة إدلب. لدى روسيا والنظام خطة وهدف واحد في هذه الحرب؛ وهي استعادة إدلب.


ما هي الخطوة التالية في تركيا وما هي خطتها وهدفها؟ هل هناك خطوة تالية من هذه العملية التي شنتها تركيا ضد قوات النظام؟ لا يوجد هدف عسكري أو سياسي للخطوة التالية من هذه العملية. هل ستلاحق تركيا النظام الذي انقلب إلى حد كبير نتيجة لهذه الهجمات المضادة والإطاحة به في دمشق؟ لدى تركيا تلك القوة، لكن إن سألتني، ما إذا كان هناك مثل هذه الخطة لتركيا؟ سأجيب أنه وللأسف لا يوجد! لماذا؟ لأن تركيا موجودة في سوريا وإدلب فقط من أجل مصالح أمريكا، وليس من أجل خططها الخاصة. هذا هو الإطار الحقيقي للصورة في سوريا، التفاصيل في الصورة قد تضلل العينين، لكن للأسف، هذه هي الصورة الكاملة.


لهذا السبب قلت في العنوان، كيف أن أمريكا كانت تتابع العمليات العسكرية في سوريا براحة وهدوء تامين. لأن هذه المواقف لا تملك أن تؤثر على خططها، ولن تغير اتجاه هذه الخطط أو الحلول. لم يتغير الإطار الأصلي للصورة، بل يلعب الرسام فقط بالألوان والأشكال داخل الصورة.


لدى أمريكا خطة حل سياسي لمستقبل سوريا، لديها الهدف وتقوم بتنفيذ استراتيجيات لتحقيق هذا الهدف. في عام 2015، قامت بدمج روسيا في سوريا لتكون شريان الحياة بالنسبة للنظام. الآن، وضعت تركيا في سوريا للحد من التقدم العسكري والمناطق الروسية. توتر إدلب في هذه الفترة الأخيرة يلعب لصالح أمريكا، التي تلعب مع الدول وفق الأدوار التي وضعتها لها.


ماذا تفعل تركيا؟ ما هو هدفنا في سوريا؟ ما هو السبب وراء وجودنا في سوريا؟ التصريح الذي قاله جميع الحكام: "تركيا، هدفنا من الوجود في سوريا هو حماية السلامة الإقليمية لسوريا". البلد (النظام)، الذي نعطيه وزناً كبيراً للسلامة الإقليمية، قتل جنودنا في غارة جوية. ردت تركيا على الفور وقالت إننا انتقمنا وحققنا النصر. بعد ذلك، تطلب من الناتو أن تحميها من روسيا، التي اشترت منها S400 مؤخراً. على الرغم من أنه من المعروف أن هذه الهجمات الغادرة للنظام مدعومة من روسيا وأنها تنفذ الهجمات بدعم من روسيا، إلا أنهم يجرون مكالمات هاتفية مع بوتين ويحددون موعداً للقاء وجهاً لوجه! من هؤلاء؟ إنهم قادتنا... والأكثر من ذلك؛ فقد قرروا فتح البوابات الحدودية وإرسال اللاجئين إلى أوروبا. لماذا؟ مقابل الـ25 مليون يورو التي ستأتي من أوروبا، والتي سوف يبنون بها منازل ومخيمات للاجئين.


الآن هل ستقول لي، هل هذه "دولة كبيرة"؟ هل هذه هي الحامية والراعية للأمة؟ هل شن قتال ضد قوى الشر يكون هكذا؟ أخبرني كيف يكون عدو أمريكا وروسيا؟ أخبرني ما الذي يعنيه أنك ستعمل من أجل خطة بديلة ثلاثية مع روسيا وإيران ضد الخطط الأمريكية في سوريا حيث ستطعنك حليفتك من الخلف، وبعد ذلك، ستتوسل المساعدة من أمريكا وأوروبا التي تعتبرهم أعداء؟! سوف تضحك من ركلتك لبوتين في مكالماتك الهاتفية مع ترامب. لوجه الله، هل يمكن أن تخبرني ما هي هذه الرؤية؟

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمود كار
رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست