ما هو خطأ ولاية صباح؟
ما هو خطأ ولاية صباح؟

الخبر:   شهد يوم 26 أيلول/سبتمبر 2020 انتقال ولاية صباح بورنيو إلى صناديق الاقتراع. وشهدت النتائج الرسمية لانتخابات ولاية صباح السادسة عشرة فوز ائتلاف غابونجان راكيات صباح بأغلبية بسيطة بواقع 38 مقعداً مقابل 32 مقعداً لواريسان بلاس، بينما حصل المرشحون المستقلون على المقاعد الثلاثة المتبقية. وكالعادة، كانت الحملات الانتخابية قبل الانتخابات ساخنة حيث قطع المرشحون وعوداً بينما ينتقدون بعضهم بعضا. ومن المثير للاهتمام أن نلاحظ بيان رئيس وزراء صباح السابق، داتوك سيري محمد شافعي أبدال عندما طُلب منه التعليق على القضايا المتعلقة بمشاكل صباح. كملاحظة جانبية، تحول الشافعي إلى المعارضة خلال الاضطرابات السياسية الأخيرة. وقال شافعي: "يقول بعض الناس إذا لم ننضم إلى الحكومة الفيدرالية، فسيكون الأمر صعباً علينا. في الدستور، و(في إشارة إلى مشكلة محددة في صباح) هي مسؤولية الحكومة الفيدرالية"، وأضاف: "سواء انضممنا أم لا، فهي مسؤوليتك أي (الحكومة الفيدرالية). إذا فشلوا في تحمل المسؤولية، فسأحاكمهم!"

0:00 0:00
Speed:
September 29, 2020

ما هو خطأ ولاية صباح؟

ما هو خطأ ولاية صباح؟

(مترجم)

الخبر:

شهد يوم 26 أيلول/سبتمبر 2020 انتقال ولاية صباح بورنيو إلى صناديق الاقتراع. وشهدت النتائج الرسمية لانتخابات ولاية صباح السادسة عشرة فوز ائتلاف غابونجان راكيات صباح بأغلبية بسيطة بواقع 38 مقعداً مقابل 32 مقعداً لواريسان بلاس، بينما حصل المرشحون المستقلون على المقاعد الثلاثة المتبقية. وكالعادة، كانت الحملات الانتخابية قبل الانتخابات ساخنة حيث قطع المرشحون وعوداً بينما ينتقدون بعضهم بعضا. ومن المثير للاهتمام أن نلاحظ بيان رئيس وزراء صباح السابق، داتوك سيري محمد شافعي أبدال عندما طُلب منه التعليق على القضايا المتعلقة بمشاكل صباح. كملاحظة جانبية، تحول الشافعي إلى المعارضة خلال الاضطرابات السياسية الأخيرة. وقال شافعي: "يقول بعض الناس إذا لم ننضم إلى الحكومة الفيدرالية، فسيكون الأمر صعباً علينا. في الدستور، و(في إشارة إلى مشكلة محددة في صباح) هي مسؤولية الحكومة الفيدرالية"، وأضاف: "سواء انضممنا أم لا، فهي مسؤوليتك أي (الحكومة الفيدرالية). إذا فشلوا في تحمل المسؤولية، فسأحاكمهم!"

التعليق:

من الواضح أن شافعي قصد إلقاء اللوم على الحكومة الفيدرالية إذا فاز ائتلافه في الانتخابات مما قد يؤدي إلى انتقام الحكومة الفيدرالية ورفض مساعدة صباح في حل مشاكلها. ومع ذلك، لن يحدث هذا لأن تحالف واريسان بلاس، بقيادة شافعي، خسر الانتخابات بأغلبية بسيطة. على الرغم من ذلك، يجب أن يكون واضحاً للكثيرين أن شافعي كان يطلق النار على قدمه في انتقاد المشاكل المستمرة التي فشلت الحكومة الفيدرالية في حلها في صباح. بصفته رئيس وزراء سابقاً في صباح، لا يدرك شافعي أنه مهما كانت المشاكل التي حلت بصباح، فقد استمرت لفترة طويلة، منذ أن كانت صباح تحت حكم الجبهة الوطنية وكانت جزءاً من الجبهة الوطنية! شيء واحد مؤكد، الوضع في صباح يكشف الوجه القبيح للديمقراطية الماليزية. صباح هي في الواقع ولاية غنية جدا ولكن شعبها ظل فقيراً لسنوات عديدة، تنتج صباح 42٪ من النفط الماليزي، لكن القانون الفيدرالي ينص على أن حقوق تطوير البترول تقع في أيدي الشركات الحكومية التي تسيطر عليها الحكومة الفيدرالية. وتفتخر ولاية بورنيو هذه أيضاً بأطول ساحل وتساهم بشكل كبير في صناعة صيد الأسماك. بالإضافة إلى ذلك، تساهم صباح بنسبة 25٪ من إنتاج زيت النخيل في البلاد. وعلى الرغم من كل هذه الثروة، تظل صباح أفقر ولاية في البلاد! فقد سجلت صباح أعلى معدل فقر بنسبة 19.5 في المائة، شملت 99869 أسرة على أساس دخل خط الفقر لعام 2019. في الواقع، يمكن العثور على 50٪ من أفقر الناس في هذه الدولة الغنية. كما تتخلف صباح عن نظيراتها في غرب ماليزيا من حيث إحصاءات الفقر والحد من عدم المساواة. في حين انخفض معامل جيني لماليزيا إلى 0.399 في عام 2016، فقد ارتفع في صباح إلى 0.402، مما يجعلها الأفقر والأكثر تفاوتاً بين جميع المقاطعات في البلاد!

من الواضح أن هناك شيئاً خاطئاً جداً في صباح! كانت تصريحات شافعي قد كشفت عن قبح سياسة الديمقراطية وخيانة حزبه السابقة لأهل صباح. إنّ كل الوعود التي قُطعت خلال الحملات الانتخابية الأخيرة والحملات السابقة بهذا الشأن ليست أكثر من خدع وأكاذيب سيستمر السياسيون المتنافسون بإثارتها. يحتاج أهل صباح والماليزيون بشكل عام (والعالم الإسلامي في هذا الصدد) إلى إدراك أن السياسيين في الديمقراطية، قادرون على استخدام الكلمات الحلوة والخداع من أجل الوصول إلى السلطة، ولكن بمجرد تحقُّق مصالحهم يقومون بخيانة الثقة التي منحهم إياها الناخبون ويستمر الناس العاديون بالاستمرار في العيش حياة بائسة. ومع ذلك، ولكي نكون منصفين، فمن غير العدل تعميم هذه العقلية على جميع المرشحين. حيث كانت هناك جهود لمعالجة الخلل في توزيع الثروة والتنمية، لكن هذه الجهود ما زالت ضئيلة بسبب المناورات السياسية الأنانية والمصالح داخل الأحزاب الحاكمة. إن المشاكل التي تحدث في صباح ليست سوى حفنة من المشاكل العديدة التي يعاني منها هذا البلد مثل الفساد وسوء التصرف وجشع السلطة والمحسوبية والاحتكار وغيرها. بدون أن يكون الإسلام هو جوهر السياسة في ماليزيا والبلاد الإسلامية الأخرى، ستستمر المشاكل القديمة نفسها وسيرتكب أهل البلاد أخطاءً متكررة بإيمانهم بالديمقراطية ودعمها. يجب على المسلم أن يكون فطناً وألا يُلدغ من الجحر نفسه مرتين. لكننا تعرضنا للعض مرّات لا تحصى، إلا إذا عملنا وتأكدنا من أن الإسلام هو النظام الحاكم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست