ليس مُهما تغير سياسة أمريكا فالنظام التركي لا يحمل هم رعاية شؤون الأمة (مترجم)
ليس مُهما تغير سياسة أمريكا فالنظام التركي لا يحمل هم رعاية شؤون الأمة (مترجم)

الخبر:   صرح وزير الخارجية مولود شاووش أوغلو أن مجموعة العمل المشتركة التركية-الأمريكية ستجتمع في واشنطن في الثامن من كانون الثاني/يناير لمناقشة انسحاب أمريكا من سوريا. وكان أوغلو قد أعلن بأن هناك ثلاث مجموعات عمل مشتركة بين تركيا وأمريكا وقال "سوف نناقش الانسحاب الأمريكي من سوريا، وكيفية تنسيقه معا في هذه الاجتماعات"، مضيفا بأنهم اتفقوا مع نظيره الأمريكي مايك بومبيو في اتصال هاتفي على مواصلة التنسيق، وفيما يتعلق بتأجيل عملية شرق الفرات، قال شاووش أوغلو "لا يعني ذلك أننا تخلينا عن تصميمنا وعملياتنا التي سنقوم بها ضد الوحدات الكردية السورية YPG في المستقبل". لكن التأجيل كان "خطوة "منطقية" لمنع "النيران الصديقة" في المنطقة" على حد قوله. (المصدر: وكالات)

0:00 0:00
Speed:
December 24, 2018

ليس مُهما تغير سياسة أمريكا فالنظام التركي لا يحمل هم رعاية شؤون الأمة (مترجم)

ليس مُهما تغير سياسة أمريكا

فالنظام التركي لا يحمل هم رعاية شؤون الأمة

(مترجم)

الخبر:

صرح وزير الخارجية مولود شاووش أوغلو أن مجموعة العمل المشتركة التركية-الأمريكية ستجتمع في واشنطن في الثامن من كانون الثاني/يناير لمناقشة انسحاب أمريكا من سوريا. وكان أوغلو قد أعلن بأن هناك ثلاث مجموعات عمل مشتركة بين تركيا وأمريكا وقال "سوف نناقش الانسحاب الأمريكي من سوريا، وكيفية تنسيقه معا في هذه الاجتماعات"، مضيفا بأنهم اتفقوا مع نظيره الأمريكي مايك بومبيو في اتصال هاتفي على مواصلة التنسيق، وفيما يتعلق بتأجيل عملية شرق الفرات، قال شاووش أوغلو "لا يعني ذلك أننا تخلينا عن تصميمنا وعملياتنا التي سنقوم بها ضد الوحدات الكردية السورية YPG في المستقبل". لكن التأجيل كان "خطوة "منطقية" لمنع "النيران الصديقة" في المنطقة" على حد قوله. (المصدر: وكالات)

التعليق:

يصاب المسلمون بالتشويش فيما يتعلق بقرار الانسحاب الأمريكي بالإضافة إلى ما إذا كانت تركيا ستبدأ عملية شرق نهر الفرات. فهم لا يفهمون شيئا من تصريحات حكامهم. يناقشون ويفترضون الكثير حول النتائج المحتملة لقراراتهم، لكنهم يخفقون في الوصول إلى استنتاج. في حين إن هناك سؤالا واحدا فقط يجب طرحه: "متى ستتحرك تركيا من أجل إنقاذ نسائنا وأطفالنا في سوريا من أيدي نظام الأسد، والجيش الروسي والإرهابيين من "حزب الاتحاد الديمقراطي" (PYD)، ومليشيا ""YPD؟

وكشفت تصريحات وزير الخارجية شاووش أوغلو بوضوح أن تركيا لن تتحمل رعاية شؤون الأمة حتى بعد انسحاب أمريكا، وأنها ستستمر في تحديد خطواتها وفقا للقرارات التي يتخذها الكفار في واشنطن. وينطبق الموقف ذاته على حكام البلاد الإسلامية الأخرى. حتى يوم أمس لم يقبل سياسيونا أي حل مع الأسد، لكنهم اليوم يصافحونه - من أجل الديمقراطية! أول من قام بالخطوة الأولى كان الرئيس السوداني عمر البشير - بالطبع لم يكن ذلك إلا بأمر من أسياده في أمريكا... وفي منتدى الدوحة الثامن عشر في قطر، أشار شاووش أوغلو إلى مسامحة قاتل النساء والأطفال المسلمين مصرحا بأنه "إذا كانت الانتخابات ديمقراطية، وإذا كانت ذات مصداقية، فعلى الجميع أخذها في الاعتبار"!

ليست سوريا دولة أجنبية، سوريا أرض يعود ملكها للأمة الإسلامية. وانسحاب أمريكا من سوريا أو أي أرض إسلامية أخرى كانت تحتلها، أو إرسال تركيا جنودها إلى ترابنا السوري لقلقها بشأن PYD-YPG لن ينقذ حياة أخواتنا وإخواننا السوريين، ولن يحمي عرض أخواتنا، ولن ينهي الحرب ضد الإسلام والمسلمين؛ ذلك أن هؤلاء السياسيين الحاليين والمناورات السياسية لإيديولوجيتهم، تفتقر لأي منظور وأهداف إسلامية.

في حين إن المبدأ السياسي للمسلمين لا بد أن يكون مبدأ رسول الله r: «أُمِرْتُ أَن أُقاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَن لا إِلهَ إِلاَّ اللَّه وأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ويُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكاةَ، فَإِذا فَعَلوا ذلكَ، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وأَمْوَالَهم إِلاَّ بحَقِّ الإِسلامِ، وحِسابُهُمْ عَلى اللَّهِ» (البخاري ومسلم) لذا يكفي أن نصب اهتمامنا على مبدأ "لا إله إلا الله محمد رسول الله" لإزالة أي إرباك سياسي في العقول.

إن قبول أي مبدأ آخر غير المبدأ الإسلامي، وتطبيق أنظمته، سيؤدي دون شك، إلى جعل كل سياسي يحمل الإسلام في قلبه دمية يُتَحكَّم بها. لن تُخرج هذه الدمى أية كلمات هادفة من أفواهها أبداً، ولن تكون سلوكياتهم منطقية مطلقا، وستكون خططهم دائماً ضارة وغير مفيدة للمسلمين. هذا النوع من السياسيين لا يتخلى فقط عن نساء وأطفال الأمة ويُسلمهم إلى القتلة، بل إنه يعرض حياته الخاصة للتهديد والخطر.

دعونا لا ننسى أن "السياسة" قضية حيوية، إنها قضية القضايا. إن ترك السياسة للمبادئ غير الإسلامية وسياسييها يُسلم الأمر للمستعمرين وأصحاب تلك المبادئ غير الإسلامية، ما يعني الاستسلام للأعداء الاستعماريين المعادين للإسلام. إن أية سياسة غير إسلامية تفسد وتشوه ثقافة الإسلام وقيمه وقابلية تطبيقه، ونتيجة لذلك، تستنزف حياة وثروة وكرامة ودين المسلمين وتستخدم ذلك كله كوقود لتغذية المصالح المتغيرة باستمرار لأعداء الإسلام، وما المشاهد المروعة التي نراها اليوم إلا نتيجة لذلك.

إن بلاد الأمة الإسلامية ودماء أبنائها وأرواحهم وثرواتهم واحدة، هي جسد واحد لا يتجزأ. إن على السياسي الحقيقي أن يهتم بما يجري للمسلمين في سوريا وفلسطين وأفغانستان وتركستان الشرقية وميانمار واليمن وأفريقيا بالقدر نفسه الذي يشعر به تجاه المسلمين في أرضه. هذا واجب. إنه واجب على كل واحد منا، ذكرا كان أم أنثى، أن يكون سياسيا يحمل سياسة هذه الأمة بثبات وفق وجهة نظر المبدأ الإسلامي. إن هدفنا الأول وقبل كل شيء هو إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة؛ لأن تحرير الأمة سيكون وسيتحقق بسرعة كبيرة على يد خليفة مخلص بحق يضرب بقرارات أمريكا عرض الحائط.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

زهرة مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست