لماذا يُعَد مشروع "قناة إسطنبول" مهما جدا؟
لماذا يُعَد مشروع "قناة إسطنبول" مهما جدا؟

الخبر:   قال وزير النقل تورهان بأن "مشروع قناة إسطنبول ذو أهمية كبيرة لبلادنا ومواطنينا في إسطنبول. من خلال العديد من المشاريع المنفذة في إسطنبول، فإننا نهدف إلى حماية إسطنبول من الأخطار المحتملة بالإضافة إلى الوصول إلى إسطنبول أكثر نظافة. يوفر كل مشروع قمنا به حتى الآن انبعاثات غاز عادم أقل في إسطنبول. مع كل مشروع قدمنا مساحات خضراء جديدة في إسطنبول. نولي أهمية كبيرة لإسطنبول، خاصة رئيسنا رجب طيب أردوغان". (وكالة الأناضول، 2019/12/12)

0:00 0:00
Speed:
December 28, 2019

لماذا يُعَد مشروع "قناة إسطنبول" مهما جدا؟

لماذا يُعَد مشروع "قناة إسطنبول" مهما جدا؟

(مترجم)

الخبر:

قال وزير النقل تورهان بأن "مشروع قناة إسطنبول ذو أهمية كبيرة لبلادنا ومواطنينا في إسطنبول. من خلال العديد من المشاريع المنفذة في إسطنبول، فإننا نهدف إلى حماية إسطنبول من الأخطار المحتملة بالإضافة إلى الوصول إلى إسطنبول أكثر نظافة. يوفر كل مشروع قمنا به حتى الآن انبعاثات غاز عادم أقل في إسطنبول. مع كل مشروع قدمنا مساحات خضراء جديدة في إسطنبول. نولي أهمية كبيرة لإسطنبول، خاصة رئيسنا رجب طيب أردوغان". (وكالة الأناضول، 2019/12/12)

التعليق:

أعلن رئيس الوزراء آنذاك رجب طيب أردوغان، هذا المشروع المسمى قناة إسطنبول، والذي أطلق عليه أيضاً اسم المشروع المجنون، في مركز مؤتمرات هاليك في إسطنبول، في سوتلوس في 27 نيسان/أبريل 2011، وفي العام نفسه، انعكس هذا المشروع في الإعلام وعرف بـ"مشروع طيب أردوغان المجنون". على الرغم من أن هذا المشروع كان على جدول الأعمال من وقت لآخر منذ عام 2011، إلا أنه لم يكن على جدول الأعمال العام كما هو الحال هذه الأيام.

تثار وجهات نظر مختلفة بين الحكومة التي يقودها أردوغان والمعارضة بقيادة حزب الشعب الجمهوري فيما يتعلق بالمشروع. بينما تؤكد الحكومة باستمرار على أهمية المشروع مع أسباب منها مثلا أنه سيكون بديلاً للبوسفور، وسيحمي إسطنبول من التهديدات المحتملة وأن له عوائد اقتصادية، فإن المعارضة من ناحية أخرى تصر على أن هذه قضية ربحية فحسب وأنها خاطئة من وجهة النظر الاستراتيجية. ومع ذلك، وعلى الرغم من كل هذه الأمور، يبدو أن المعارضة اتخذت قرارها النهائي بشأن هذا الأمر وستبدأ هذا المشروع في المستقبل القريب.

بطبيعة الحال، من المهم أن نطرح بصوت عال وواضح ما إذا كان ينبغي الشروع في هذا المشروع أم لا مع أسباب ذلك. ومع ذلك، فبدلاً من الحديث عما إذا كانت هناك حاجة لوضع المشروع موضع التنفيذ أم لا، سنحاول الكشف عن السبب الحقيقي وراء أسلوب الحكومة، فضلاً عن المعارضة في التعامل مع هذا المشروع.

أولاً: يتعلق هذا المشروع مباشرة بـ"اتفاقية مونترو". وبالتالي، في حين إن القضية قيد المناقشة، إلا أن الواجب تقييمها من حيث موادها في الخطوة الأولى. وفقاً لمطالبات الحكومة، ستصبح شروط "اتفاقية مونترو" غير صالحة عندما يتم تنفيذ مشروع "قناة إسطنبول"، وستضطر السفن التجارية التي تمر عبر المضيق دون دفع أية أموال إلى المرور عبر "قناة إسطنبول" لأسباب أمنية وهذا سيؤدي إلى زيادة الدخل إلى حد كبير. حتى لو كان هذا الافتراض الذي طرحه الحزب الحاكم صحيحاً، إلى جانب حقيقة أنه قابل للنقاش، فإنه غير صحيح إذا ما تأملناه بشكل استراتيجي. لأنه مع مثل هذا المشروع، سيفقد مضيق البوسفور ميزته المتمثلة في كونه موقعا استراتيجيا للغاية في الوقت الحالي، كما كان الحال عبر التاريخ.

ثانياً: الجانب الاستراتيجي لهذا الموضوع ناتج عن الظروف في اتفاقية المضيق. لأنه وفقاً للمادة الرابعة عشرة من "اتفاقية مونترو"، قد لا يتجاوز إجمالي الحمولة الإجمالية لجميع القوات البحرية الأجنبية التي يمكنها اجتياز المضيق 15.000 طن. وفقاً لتقرير نشرته وكالة سبوتنيك، صرح النائب المتقاعد الأدميرال أتيلا كيات أن المبعوث الخاص الأمريكي للمشاركة السورية جيمس جيفري عرض عليه إلغاء اتفاقية مونترو قبل 10 سنوات (2009)، عندما كان سفيراً لدى تركيا. قال كيات "لقد كنت قائد منطقة البحر الشمالي، وكنت مسؤولاً عن البحر الأسود والمضيق، ويمكن للأساطيل التركية والأمريكية أن تفعل الكثير من الأشياء الجيدة في البحر الأسود". "بالطبع، ولكن ضمن مبادئ اتفاقية مونترو". وقال "لا أحد يستطيع فعل أي شيء إذا ما أرادت تركيا والولايات المتحدة ذلك" (وكالة سبوتنيك، 16 كانون الأول/ديسمبر 2019) في مقال له نُشر في مجلة العلوم الاجتماعية بجامعة Dumlupinar في عام 2016، يقول هاكان أريديمير: "عندما يتم تقييم نهج الولايات المتحدة وروسيا تجاه نظام توازن مونترو، يمكن للمرء أن يقول بأن الاتحاد الروسي يتبع سياسة استمرار الرصيد، في حين إن الولايات المتحدة تقبل نظام الرصيد في مونترو وتضع سياسات لتغيير الرصيد عبر تحالفاتها. في هذا السياق، يمكن للمرء أن يتوقع أن تتجه الولايات المتحدة نحو التوسعات والسياسات الجديدة وأن تُمنح تركيا أدواراً جديدة على المدى الطويل، حتى تتمكن الولايات المتحدة من تغيير الأرصدة في المنطقة لصالحها".

وفقاً لاتفاقية مونترو، لا يجوز للسفن الحربية التي تزيد حمولتها عن 15 ألف طن من دول ليست لها سواحل على البحر الأسود، أن تمر عبر المضيق. قد تبقى السفن الأخرى 21 يوماً بحد أقصى في البحر الأسود، بشرط إبلاغ تركيا وخلال خمسة أيام، عبر مضيق غاليبولي. أمريكا من ناحية أخرى، تريد نخر اتفاقية مونترو وإعادة النظر فيها وإعادة رسمها أو إجراء التعديلات التي تمكن سفن الحرب الأمريكية من البقاء في البحر الأسود لفترة أطول. وبالتالي، فإن مشروع "قناة إسطنبول" الذي يدرج في جدول الأعمال بشكل مؤقت هو مشروع له أهداف أخرى غير الأبعاد الأمنية أو الاقتصادية للمضيق.

في الواقع، في حين إن الحكومة تتبع خطا الشيطان الأمريكي من خلال السياسة التي طبقتها، فإن أولئك الذين يعارضون الحكومة يتبعون خطا الشيطان الإنجليزي فيما يتعلق بالقضية نفسها. للأسف، كلاهما يمارسان السياسة تماشيا مع مصالح المستعمرين. لا مبررات الحكومة مثل أمن المضيق والعائد المالي، ولا المبررات التي قدمتها المعارضة حول فقدان الحقوق التي اكتسبتها مونترو صحيحة. لأنه بعد كل شيء، تخدم كلا النتائج مصالح أحد المستعمرين في المقام الأول.

عندما نفكر في المسألة من الزاوية الإسلامية؛ نرى بأن "اتفاقية مونترو" في المقام الأول، وجميع الاتفاقيات التي أبرمت مع الغرب أثناء تفكك الدولة العثمانية وكذلك في الفترة الجمهورية، هي اتفاقيات تعطي الأولوية لمصالح الدول الاستعمارية. وبالتالي، طالما أن تركيا في المقام الأول وجميع الدول القائمة في البلاد الإسلامية تقيد نفسها بمثل هذه الروابط، فلا يمكنها أن تتخذ خطوات سليمة تماشيا مع مصالحها الخاصة. وبإذن الله، سيتحرر المسلمون من هذه القيود على يد دولة الخلافة التي ستُقام قريباً بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حنفي يغمور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست