لم تفشل الديمقراطية في ميانمار فحسب بل إنها تشكل خطراً أيضاً على مسلمي الروهينجا
لم تفشل الديمقراطية في ميانمار فحسب بل إنها تشكل خطراً أيضاً على مسلمي الروهينجا

الخبر:   بحسب التقرير الدبلوماسي، فإن آمال الجماعات العرقية في ميانمار في مستقبل أفضل تظل مظللة بالصراعات التي اشتعلت لعقود. ففي الانتخابات البرلمانية المقبلة، قد تدفع الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية (NLD) وزعيمتها، أونغ سان سو كيي، ثمن الإخفاقات في الوفاء بوعودهما الديمقراطية. وقال جيسون جيلبورت، وهو محام دولي، للدبلوماسيين إن "التعديلات على قوانين البلاد الرئيسية، التي أقرتها حكومة الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية، عرضت الناس لخطر فقدان أراضيهم". ...

0:00 0:00
Speed:
July 26, 2020

لم تفشل الديمقراطية في ميانمار فحسب بل إنها تشكل خطراً أيضاً على مسلمي الروهينجا

لم تفشل الديمقراطية في ميانمار فحسب

بل إنها تشكل خطراً أيضاً على مسلمي الروهينجا

(مترجم)

الخبر:

بحسب التقرير الدبلوماسي، فإن آمال الجماعات العرقية في ميانمار في مستقبل أفضل تظل مظللة بالصراعات التي اشتعلت لعقود. ففي الانتخابات البرلمانية المقبلة، قد تدفع الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية (NLD) وزعيمتها، أونغ سان سو كيي، ثمن الإخفاقات في الوفاء بوعودهما الديمقراطية. وقال جيسون جيلبورت، وهو محام دولي، للدبلوماسيين إن "التعديلات على قوانين البلاد الرئيسية، التي أقرتها حكومة الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية، عرضت الناس لخطر فقدان أراضيهم". وأضاف: "هذا يضر أيضا بآفاق السلام ويسبب صراعات جديدة". يؤدي فقدان الأراضي إلى تفاقم الفقر في الجماعات العرقية ويعمق عدم رضاهم عن الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية. في عام 2015، قامت أونغ سان سو كي بحشد الأقليات العرقية للتصويت لصالح حزبها، واعدةً إياهم بحل قضاياهم. وقامت منظمة العفو الدولية بتذكير الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية مؤخراً بأن الشعوب العرقية لعبت دوراً أساسياً في الكثير من المعارضة السياسية ضد الحكومة العسكرية.

ماونج، ناشط من ميانمار، نشأ من مجموعة شان الإثنية، صوت لصالح الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية منذ خمس سنوات ولكنه اليوم غير راضٍ عما حققته الرابطة، حيث يقول: "نحن ننزلق إلى الماضي السلطوي". يي مينت وين، من Fortify Rights، يردد آراء ماونج. ويقترح أنه في هذه المرحلة، ستتحد الأحزاب السياسية العرقية ضد الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية والجيش. ويضيف: "لا يمكن أن تفوز الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية في انتخابات هذا العام مثل عام 2015، لأن الناس قد فقدوا أملهم في إدارة الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية". ويعلق أيضاً: "تحت إدارة الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية، رأيت أعداداً متزايدةً من الانتهاكات ضد حقوق الإنسان وغيرها من الانتهاكات التي يرتكبها الجيش مع الإفلات التام من العقاب".

التعليق:

لقد أظهرت الديمقراطية بوضوح فشلها في ميانمار، وكذلك رمز الديمقراطية أونغ سان سو كي التي تحولت إلى مدافعة عن نظام المجلس العسكري الحاكم في ميانمار. لقد أصبحت قريبة بشكل متزايد من النظام وراغبة في أن تصبح درعاً لجيش ميانمار في محكمة العدل الدولية بشأن قضية الروهينجا. بعد مرور خمس سنوات على الانتصار الانتخابي للرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية، أصبحت الصراعات والجرائم المرتكبة ضد الإنسانية أكثر حدة.

يُظهر السجل الحافل لأونغ سان سو كيي أن موقفها كان واضحاً تجاه مسلمي الروهينجا: لا تحيز ولا دفاع. وقد تمسكت سو كي بهذا الموقف وسط إدانة دولية من أجل الحفاظ على شعبيتها في مجتمع ميانمار. والواقع أنه لا يوجد تعاطف علني مع شعب الروهينجا داخل ميانمار نفسها. يوافق معظم الشعب البورمي على الرأي الرسمي لحكومتهم بأن شعب الروهينجا ليسوا مواطنين بورميين. ويطلق عليهم المهاجرين "البنغاليين" غير الشرعيين من بنغلادش. ولد هذا الموقف من خلال سياسة الإعلام التي نفذها نظام المجلس العسكري مع توجيه قوي للمعلومات من الحكومة.

نظام حكومة ميانمار هو نظام دمج، يدمج بين الأنظمة العسكرية والعنصرية والقوى البوذية الراديكالية التي لن تعطي مكاناً لمسلمي الروهينجا. وينعكس هذا بشكل رسمي في دستورهم الذي يحتوي على أن شعب الروهينجا لن يتم الاعتراف به أبداً على أنه عرق قومي. أونغ سان سو كي، باسم الديمقراطية التي هي سيادة الشعب - لن تدافع أيضاً عن مسلمي الروهينجا لأنه من المستحيل عليها المخاطرة بأغلبية أصوات شعب ميانمار. لذلك، استمرت في كونها عمياء وصماء عن أفعال المجلس العسكري في قمع وذبح مسلمي الروهينجا. فحتى بعد هزيمة الحزب السياسي العسكري في انتخابات 2015، ظل الجيش أقوى مؤسسة في البلاد. ومنذ ذلك الحين، امتلك الجيش أونغ سان سو كدرع له، حيث كانت مستعدةً لتلقي الضربات من الاحتجاجات الدولية بسبب أفعالهم. قد يعني هذا أن الجماعة المؤيدة للديمقراطية قد تعاونت بشكل غير مباشر مع جيش ميانمار في التطهير العرقي المنهجي ضد الروهينجا. ونتيجة لذلك، ففي الانتخابات القادمة، إذا فاز حزب الرابطة الوطنية من أجل الديمقراطية مرة أخرى، ستصبح الديمقراطية أكثر خطورة على مسلمي الروهينجا.

لذلك، لا يوجد مستقبل يمكن توقعه من الديمقراطية. إنه مفهوم مستورد من الغرب، وقد ولد أيضاً من العلمانية التي لن تمنح مساحة للمسلمين لتطبيق عقيدتهم الإسلامية. في وضع ميانمار، فإن فشل الديمقراطية قد جعل هذا البلد المتوحش أكثر خطورة على مسلمي الروهينجا، بسبب التعاطف مع المجلس العسكري العنصري. وبالتالي، فإن العمل الشاق الذي قامت به بنغلادش في مطالبة ميانمار بمنح الجنسية للروهينجا كان خطأً. وقد حاولت بنغلادش، تحت قيادة حسينة العلمانية، مراراً وتكراراً إعادة اللاجئين الروهينجا إلى ميانمار. من الواضح أن هذا كان خطأً كبيراً.

في الواقع، إن منح الجنسية لمسلمي الروهينجا يقع على عاتق الحكام المسلمين مثل إندونيسيا وماليزيا وبنغلادش. يجب عليهم أن يقطعوا العلاقات الدبلوماسية مع نظام ميانمار الجزار. إن مسلمي الروهينجا يستحقون كامل الحق في بدء حياة جديدة في البلاد الإسلامية، وأن لا يعيشوا تحت الظلم في بلاد الكفار. يجب أن يحصلوا على ضمانات كاملة لاحتياجاتهم الأساسية مثل الصحة والتعليم والعمل والحماية.

قال الله تعالى: ﴿وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتورة فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست