لعله يكون المسمار الأخير في نعش الملك الجبري
لعله يكون المسمار الأخير في نعش الملك الجبري

الخبر:   نشر موقع العربي الجديد بتاريخ 2020/4/30م، ما نصه "قالت مصادر حكومية وبرلمانية في مصر أن وزارتي الكهرباء والإسكان والمرافق في مصر انتهيتا من صياغة مقترح تسعير خدمات الكهرباء والمياه للاستهلاكين المنزلي والتجاري. ومن ثم البدء في تطبيقها بالتزامن مع بدء العام المالي الجديد الذي يحل في الأول من تموز/يوليو المقبل. ...

0:00 0:00
Speed:
May 06, 2020

لعله يكون المسمار الأخير في نعش الملك الجبري

لعله يكون المسمار الأخير في نعش الملك الجبري

الخبر:

نشر موقع العربي الجديد بتاريخ 2020/4/30م، ما نصه "قالت مصادر حكومية وبرلمانية في مصر أن وزارتي الكهرباء والإسكان والمرافق في مصر انتهيتا من صياغة مقترح تسعير خدمات الكهرباء والمياه للاستهلاكين المنزلي والتجاري. ومن ثم البدء في تطبيقها بالتزامن مع بدء العام المالي الجديد الذي يحل في الأول من تموز/يوليو المقبل.

وأضافت المصادر للعربي الجديد أن الزيادات الجديدة في أسعار الكهرباء والمياه تتراوح بين 15 و33 في المائة بعد رفع الدعم نهائيا عن قطاع الكهرباء في موازنة العام المالي الجديد وذلك من 4 مليارات جنيه (254 مليون دولار) في الموازنة الحالية إلى صفر في موازنة العام المالي المقبل، وكذلك تصفير دعم المياه بدلا من مليار جنيه في موازنة العام المالي الجاري.

وأوضحت المصادر أن الزيادة ستطبق اعتبارا من فواتير تموز/يوليو المقرر تحصيلها في آب/أغسطس.

وتعد الزيادة المرتقبة السابعة لأسعار الكهرباء منذ تولى الرئيس السيسي حكم البلاد في منتصف 2014 والخامسة على أسعار مياه الشرب بنسبة إجمالية تصل إلى 800 في المائة بما يفاقم من الأعباء المعيشية للناس لا سيما مع التداعيات السلبية لفيروس كورونا.

وكان وزير الكهرباء قد كشف عن وجود مفاوضات مع مستثمرين أجانب يسعون لشراء محطات كهرباء مصرية جديدة من دون الإعلان لاحقا عن تفاصيل تلك المفاوضات مشيرا إلى أن بلاده تلقت عروضا من شركة تابعة لمجموعة بلاك ستوك العالمية (أكبر شركة لإدارة الأصول بالعالم) وشركة ادرا باور الماليزية للاستحواذ على 3 محطات لتوليد الكهرباء، اشتركت في تأسيسها شركة سيمنز الألمانية".

التعليق:

إن الناظر إلى ما تقوم به الدولة المصرية وكل الدول الوظيفية القائمة في البلاد الإسلامية منذ نهاية الحرب العالمية الأولى يرى بأم عينيه دون بحث أو عناء أنها تخدم مصالح الرأسمالية العالمية. والآن خرجوا علينا بأسماء ومصطلحات جديدة كالاستثمار والمستثمرين وجذب رؤوس الأموال وما هي إلا ذرائع وحيل لسلب ونهب الأموال لصالح الكافر المستعمر وإفقار العباد وإبقاء البلاد رهينة للكافر المستعمر، الكافر الذي ما فتئ يقتل هنا وهناك ويعيث في الأرض فسادا، وأدواته ورأس حربته في ذلك هؤلاء الحكام الخونة الذين أسلموا له كل شيء من أجل الوصول أو البقاء على كراسيهم المعوجة قوائمها، فلسان حال هؤلاء الحكام يقول لأسيادهم لا عليكم ابقوا أنتم في دياركم ونحن نقوم بما تريدون من سرقة ونهب وإذلال للعباد وما عليكم إلا أن تضمنوا بقاءنا جاثمين على صدور هؤلاء وسوف نعطيكم ما تريدون وأكثر، ولقد أمعنوا في انبطاحهم للسادة في الغرب مقابل شهوة السلطة وما يلقيه إليهم الكافر من فتات بعض ما مكنوهم من نهبه من ثروات بلادنا وخيراتنا.

فهم يقتلون وينهبون ويسرقون ومن يعترض عليهم يقتل ومن يتكلم يقطع لسانه أو يغيب قسرا أو يسجن ظلما، ومن يبقى بعد ذلك فالتّهم جاهزة، الإرهاب، نشر أخبار كاذبة... والقائمة تطول.

أما عن السرقة والنهب وإهداء ثروات البلاد للكافر الغربي الحربي فها هي أسعار الكهرباء تتضاعف منذ بداية حكم السيسي 800%، وما كل هذه الزيادات إلا توطئة لتقدم هذه الشركات (شركات الكهرباء والمياه) - التي ما بنيت إلا بسواعد وأموال المسلمين ومن ملكياتهم الخاصة - على طبق من ذهب للكافر المستعمر يجني الأرباح الباهظة المضمونة وتحت حماية ورعاية وشرعنة هؤلاء الخونة.

فرفع أسعار الكهرباء والمياه كما أسلفنا ليس الأول ولن يكون الأخير، وقد تحدثنا عن ذلك مراراً وتكراراً وبيّنا أن كل تلك القرارات الكارثية تتم دون مراعاة لمصالح أهل مصر البسطاء وإنما خضوعا لإملاءات وقرارات صندوق النقد الدولي واجبة التنفيذ ولو على جثث أهل الكنانة، وتوطئة لبيع الشركات التي تقوم على إنتاج وتوزيع المياه والكهرباء لشركات يملكها أعداء الأمة أصحاب الرأسمال المساهمون في الصندوق الدولي، وكأنه يقول لهم لقد ملّكتكم مصر وأهلها تبيعونهم الماء والهواء وتملكون رقابهم متربحين كيفما شئتم من ثروتهم التي تنهب تحت سمعهم وبصرهم ويدفعون ثمنها من قوت عيالهم وباقي جهودهم التي تتبقى بعد ما نسلبه منها بالضرائب وغيره!! وهذا البيع في حقيقته هو بيع باطل فهو بيع مغصوب مسلوب وغير مملوك فمن يبيعه لا يملكه بل اغتصبه من الأمة وقهرها على شرائه ودفع ثمنه غصبا، لأنها من الملكيات العامة التي لا يجوز بيعها ولا التصرف فيها بالهبة ومنح حق الامتياز ولا التأجير، بل البيع جريمة كبرى تضاف إلى السجل الأسود لجرائم هذه الكيانات المسماة زورا وبهتانا دولا.

فهل أخذ رأي الشعب في بيع هذه الشركات طبقا لديمقراطيتهم المزعومة أم هي أكذوبة يضحكون بها على البسطاء والمغيبين، أم صنم العجوة الذي يدعونه تارة ويأكلونه حين تنتهي مهمته؟! إن الشعب (الصنم) يستدعونه عندما يريدون وهم من يتكلمون بلسانه ولا يرى ولا يريد إلا ما يريدون، إنه إلههم إنه هواهم. أما العباد أصحاب هذه البلاد فلا يُسألون إلا في التبرع لصندوق تحيا مصر وفي دفع الضرائب والرسوم والمكوس والإتاوات لبناء هذه الشركات وغيرها التي تقوم على الملكيات العامة ثم تباع بثمن بخس بل تهدى لأعداء الأمة لترهن البلاد بما عليها من عباد إلى الأعداء ينهبون الأموال ويذلون العباد ويتاجرون بدمائهم... هذه هي وظيفة هؤلاء الحكام ولن تنقشع هذه الغمة ولن تمحى هذه الظلمة التي حلت على الأمة إلا بزوال هذه الطغم الحاكمة الجاثمة على صدرها، ولن يقوى على هذه المهمة إلا دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي بشر بها نبي هذه الأمة والتي طال انتظارها وقد آن أوانها وأوشك أن يبزغ فجرها فقد اشتد الليل ظلمة وليس بعد ظلام الليل إلا نور الفجر ﴿إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً﴾. ضاقت ولما استحكمت حلقاتها فرجت وكنت أظنها لا تفرج... هذه سنة من سنن الله في التغيير فسبحان من يغير ولا يتغير، بعد العسر يأتي اليسر وبعد الضيق يأتي الفرج وبعد ظلام الليل يأتي ضوء النهار. إن اشتداد هؤلاء الظلمة وطغيانهم وتماديهم فيه ما فيه من البشرى.

وإننا بوعد الله واثقون وعلى درب رسوله سائرون وببشراه مصدقون (ثم تكون خلافة على منهاج النبوة) فلنسرع الخطا نحو إقامتها... نسأل الله أن نكون من جنودها وشهودها فإنها الدولة التي ستقطع دابر الملك الجبري الذي بغى وطغى وتجبر وبلغ غايته ونهايته.

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ساجد عبد الله – ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست