لا تركنوا لأمريكا، الشيطان الأكبر
لا تركنوا لأمريكا، الشيطان الأكبر

الخبر:   تقوم أمريكا منذ فترة بقتل القيادات الأمنية والعسكرية التابعة لإيران، وكان أهمها اللواء سليماني والمهندس في العراق وغيرهما قبل وبعد ذلك في سوريا.

0:00 0:00
Speed:
January 14, 2020

لا تركنوا لأمريكا، الشيطان الأكبر

لا تركنوا لأمريكا، الشيطان الأكبر

الخبر:

تقوم أمريكا منذ فترة بقتل القيادات الأمنية والعسكرية التابعة لإيران، وكان أهمها اللواء سليماني والمهندس في العراق وغيرهما قبل وبعد ذلك في سوريا.

التعليق:

قبل التعليق لا بد من استعراض العلاقة التي كانت ولا زالت تربط حكام إيران بأمريكا لتوضيح الأمور للشعوب التي يتوجب عليها المحاسبة.

بعد احتواء أمريكا لحكام إيران وبخاصة بعد الحرب العراقية الإيرانية التي دامت من سنة 1980 لغاية 1988م، والتي صرح بوش الرئيس الأمريكي وقتها بصراحة أنه يهدف من الحرب الاحتواء المزدوج لكليهما.

والمقصود هنا باحتواء إيران، وهو ما يهمنا في هذا التعليق، أن لا تخرج عما تطلبه منها أمريكا في سياستها الخارجية وأن تتخلى عن تصدير الثورة والتي كانت تؤثر على كل المسلمين اعتقادا منهم أنها الدولة الإسلامية الجامعة التي ينتظرونها وأن يهتموا بتصدير الفكر المذهبي الذي يناسب خطط أمريكا الخبيثة والتي شجعت الفكر المذهبي الآخر عن طريق حكام آل سعود لإيجاد الحقد والعداء والتكفير بين المسلمين أبناء الدين الواحد ليقاتلوا بعضهم بعضا فتسيل دماؤهم وتهتك أعراضهم وتنهب ثرواتهم دون حسيب أو رقيب بل بالتوافق مع من يفترض فيهم أنهم رعاة شؤون الناس ويا للأسف.

وبعد أن استطاعت أمريكا ترويض حكام إيران بحجة تقاطع المصالح التي كانوا يتبعونها تبريرا لسيرهم في خط أمريكا للضحك على أهل إيران المسلمين المحبين للإسلام وغيرهم من أهل المنطقة المسلمين في أفغانستان والعراق ولبنان مذهبيا، وفي فلسطين المباركة بحجة قتال يهود لتحرير فلسطين كما زعموا...

وبعد أن رخص حكام إيران للسياسة الأمريكية في المنطقة سمحت لها أمريكا بالتمدد والتوسع وإيجاد النفوذ المؤثر والقوي، بل وخططت لها ذلك لاستخدامها ضد باقي المسلمين موهمة إياها أنها تساعدها لتكون دولة كبيرة في المنطقة بل أكبر دولها، وأن مصالح أمريكا وإيران هي واحدة في التعاون للوقوف كتفا بكتف في وجه إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، والتي وجدت أمريكا أنها لا بد قائمة وأنها لا بد لها من أن تعمل جاهدة دون قيامها أو تأخيره، ولكن بواسطة حكام المسلمين في إيران وفي الخليج، وفي تركيا وباكستان وإندونيسيا ومصر وغيرها.

وبعد أن حققت أمريكا غايتها من استخدام حكام إيران في العراق وأفغانستان واليمن وسوريا ولبنان وسمحت لها بالتمدد العسكري المباشر، والأمني المباشر وغير المباشر بدأ العد العكسي للحد من الاعتماد على إيران في سوريا والعراق ولبنان، بعد الانتفاضات والثورات التي قامت في معظم الدول العربية، وبعد أن غيرت سياستها تجاه كيان يهود، وبعد أن وجدت أن إيران نجحت فيما خططته عند استخدامها لإيجاد الحقد والعداء والتكفير بين المسلمين، وجدت أن الاعتماد على إيران لم يعد مفيدا لسياستها فقررت إخراجها من العراق بعد أن قام الناس عليها وضدها وعلى من اختارته من حكام سرقوا ونهبوا الأموال العامة وأذلوا الناس.

لم يكن لأمريكا مشكلة مع حكام إيران لو أنهم استطاعوا استيعاب الناس ولم تنفضح سياستها أمامهم مما أدى إلى انتفاض الناس على الحكام حتى في إيران نفسها.

أما من الناحية الأمنية والعسكرية التي أوكلتها أمريكا لإيران ورعتها وحمتها أيضا، فالظاهر أن أمريكا قد وصلت للأهداف المطلوبة لتلك الأعمال بعد أن أوجدت الخوف والرعب في الخليج ليبقى في حضنها العفن، وسلبها ما تبقى من أموال الأمة الإسلامية بحجة حماية العروش، وبعد أن وجدت حالة البغض والعداء والتكفير بين المسلمين أبناء الدين الواحد، متوهمة أن هذا سيحول دون قيام دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة أو سيعيق قيامها.

أمام هذا الواقع الجديد في المنطقة طلبت أمريكا من حكام إيران التأقلم مع سياستها الخارجية الجديدة، ولما وجدت مماطلة من إيران أو عدم رغبة أو عدم قدرة لها على إلغاء دور الأذرع الأمنية والعسكرية التابعة لها وبخاصة (فيلق القدس) ومن بعده الحشد الشعبي في العراق وحزبها في لبنان كرسالة واضحة ترسلها أمريكا لمن يهمه الأمر وبالأخص كيان يهود باعتبارهم أول من كان ممانعا للحل في فلسطين، وفي ذلك إرضاء كبير لكيان يهود للسير في خطة أمريكا لحل قضية فلسطين وفقا لصفقة القرن والتي تعتقد أمريكا أن المنطقة أصبحت مهيأة لقبولها لولا بعض الصعوبات التي يمكن تذليلها كما تظن.

لذلك قامت أمريكا بقتل سليماني وقبله الكثير من القيادات الأمنية والعسكرية المهمة ليكون ذلك رسالة للقريب والبعيد أن أمريكا هي التي تتحكم بالعالم وأن الجميع يجب أن ينفذ سياستها سواء أكان عميلا لها أو يسير في فلكها دون نقاش.

وهذا يعني أن أمريكا لم تعد بحاجة إلى هذه الأذرع في خططها الاستراتيجية للمنطقة الإسلامية لأنها أصبحت تدرك أن الأمر يستوجب حضورها الجدي في المنطقة للإشراف المباشر وللحيلولة دون تحركات الشعوب السريعة والهادفة والتي قد تخرج عن سيطرتها إن استطاعت تلك الشعوب إقامة الخلافة المطلوبة فيصبح تحركهم ضدها صعبا بل مستحيلا لأنها تدرك أن دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة ليست كباقي الدول الكرتونية التي تعودوا عليها، بل وليست كأي دولة غيرها في العالم لأنها تملك مقومات الدولة الكبرى التي ستنافسها على قيادة العالم ولكن لإنقاذه وليس لنهبه وسرقته واستعماله.

لحكام إيران نقول إن الركون إلى الشيطان الأكبر أمريكا ليس نتيجته إلا الهلاك في الدنيا والآخرة...

وللشعوب الإسلامية في إيران وفي غيرها نقول مخلصين إنه آن الأوان لتدركوا أنه لم يعد أمامنا سوى خيار الدولة الإسلامية الجامعة التي ندعو ونعمل لها لنتخلص من كل واقعنا الذليل ونقطع يد أمريكا وروسيا وكل طامع بنا ونرضي بها رب العالمين ونعود خير أمة أخرجت للناس إن شاء الله تعالى.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جابر

رئيس لجنة الاتصالات المركزية لحزب التحرير في ولاية لبنان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست