لا ندري هل هو احتفاء باليوم العالمي للأسرة أم استغباء؟!
لا ندري هل هو احتفاء باليوم العالمي للأسرة أم استغباء؟!

الخبر:   تونس تحتفي باليوم العالمي للأسرة تحت شعار: "الأسرة والحفاظ على التوازن البيئي ومواكبة التغيرات المناخية". ()

0:00 0:00
Speed:
May 19, 2019

لا ندري هل هو احتفاء باليوم العالمي للأسرة أم استغباء؟!

لا ندري هل هو احتفاء باليوم العالمي للأسرة أم استغباء؟!

الخبر:

تونس تحتفي باليوم العالمي للأسرة تحت شعار: "الأسرة والحفاظ على التوازن البيئي ومواكبة التغيرات المناخية". ()

التعليق:

ما الأسرة التي تُحيُون يومها العالمي بكلمات خشبية يا وزارة المرأة؟!

هل هي الأسرة التي قمتم بتشريدها وتجويعها والسطو على "قُفّتها" وتسليمها لصندوق النقد الدولي؟ أم هي الأسرة التي ألقيتم بالآلاف من أبنائها على قوارب الموت في أعماق البحار تحت ما يعرف بالـ"الحرقة"؟ أم هي الأسرة التي ألقيتم بفلذات أكبادها وأطفالها الرضع في صناديق "الكرتون"؟ أم هي الأسرة التي قتلتم أمهاتها وبناتها في شاحنات الموت؟!...

أم هي الأسرة التي تَنتهك أعراضها القنواتُ التلفزيونية في شهر رمضان الكريم عبر برامج ومسلسلاتٍ حقَّ فيها قولُ الله سبحانه وتعالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾؟! أم هي الأسرة التي يدكّ بنيانها الحاقدون في الداخل والخارج فلا تعي تماما حجم الخطر الكامن في مواد اتفاقية "سيداو" - أصل الشر - والتي لا تعي تماما حجم خطر "مؤتمر بكين" ومواثيق الأمم المتحدة التي تستهدف هدم الأسرة بعملية غسيل أدمغة النساء للخروج عن الفطرة التي فطرها الله جل وعلا في الإنسان وتغريبها بدعوى الحفاظ على حقوقها وكرامتها؟!

ولكن احتفالاتكم كبابٍ ظاهره فيه الرحمة وباطنه يحوي الحقد على الإسلام والعمل على ضرب البلاد الإسلامية وتوريثها الأجندة الغربية!

وقد يقول قائل من المنبهرين بالغرب وما المشكلة في هذه الاحتفالات وهي لصالح المرأة؟!

والحقيقة ما تقدمه التقارير من أرقام حول الحالات الخاصة بالأسرة يصعب على المرء تصديقها، فهي تعبر عن حالات يجب علاجها وليس تشخيصها!

وماذا تنتظر الأسرة من اليوم العالمي للأسرة؟ وهل يكفي الأسرة يوم واحد للبوح بآلامها وآمالها؟ كيف تحتفي الأسرة بيوم عالمي وهي تُقهر كل يوم؟! هل يكفي الأسرة يوم واحد لغزل خيوط الحزن الدفين؟!

هل نحتفي بيوم ونرى يوميّا على قارعة الطريق امرأة تبيع السجائر بالتقسيط وبالقرب منها رجل قوّست الأتعاب ظهره وهو يجمع القوارير البلاستيكية ليبيعها بثمن لا يسد له دين فاتورة الكهرباء، وبالقرب منهما رضيع بين أحضان أمه الملقاة على قنطرة "باب عليوة" تستجدي المارة في ثمن خبزة؟!

اليوم العالمي للأسرة كلمة ضخمة ترن في الآذان، فتحضرنا كل الفواجع التي تتعرض لها العاملات الزراعيات بالضيعات الفلاحية ومعامل الخياطة من هضم حقوقهن تحت "قانون اثنان وسبعون"، كما لا يفوتني أن أترحم على عدد من النسوة اللواتي كن ضحايا حوادث السبالة وغيرها، بسبب سوء عملية نقلهن في أوضاع غير إنسانية، داخل شاحنات وكذلك لكل العاملات الفلاحيات اللواتي أُصِبْن بعاهات مستدامة، وأغلبهن كن معيلات لعائلاتهن، وكل مطالبهن اليوم هو توفير حقوقهن ومن ضمنها النقل المتوفر على الشروط اللائقة.

فحين نتمعّن في الخفايا التي يريدها هؤلاء المحتفلون في "المركز الثقافي والشبابي بالمنزه السادس" ونرى الأعمال والمواثيق التي اتفقوا عليها ندرك تماما أن احتفاءهم لا يعني رعاية شؤون الأسرة وإنما تسليط الخطر على المرأة والأسرة.

والمشكلة أن المرأة نفسها قد فُتِنَت بالكثير من هذه الأمور التي تدعو إليها المواثيق بحجة أنها تعيد لها حريتها وكرامتها ووجودها في مجتمع ذكوريّ، وهذا ما رسّخه الإعلام والغزو الفكريّ ابتداءً ودعاوى العلمانيين الحاقدين على دين الله جل وعلا فنجحوا إلا قليلا.. ولعل بعض الذكور بتطبيقهم الخاطئ لبعض أحكام الله أو لطبيعتهم قد رسّخوا في أذهان النساء ضرورة العمل على الانسلاخ من "العباءة الأسرية"!

إنّ الخطب جلل... والمصاب هو كبد أسرنا، وللأسف كل هذا يحصل في ظل صمت علماء الزيتونة المطبق... فهم يعملون كخلية نحل لدكّ حصوننا من الداخل وأغلب علمائنا ما زالوا مخدّرين عما يجري، وهذا بات غير مقبول...

فلا بدّ من أن يأخذ كل مسلم غيور على الأسرة والدِّين دوراً مهما صغر أو كبُر.. العلماء وأصحاب السماحة والفضيلة والمثقفون والأكاديميون والحقوقيون وحتى البرلمانيون إن وجد بينهم مخلصون والإعلاميون الصادقون والكتّاب يقع على عاتقهم فضح هذه المخططات إعلامياً وفكريا وفضح أهداف هذا التغريب والتصدي لهذه المشاريع التي تمرّ أمام أعينهم في البرلمانات وعدم السماح بتمريرها... وكل وسيلة شريفة توصِل لهذه الأهداف يمكن اعتمادها من ندوات ومؤتمرات وحملات واعتصامات وغيرها...

فكيف نقبل أن يجتاح الغرب حصوننا الآمنة وتحدد الأمم المتحدة وزبانيتهم خريطة الأسرة المسلمة تحت شعارات رنانة ظاهرها الرحمة وباطنها العذاب؟!

إننا نريد الذود عن أسرتنا الصالحة التي تعلّم أبناءها الركوع والسجود والتسبيح وطاعة ربها وتمجيده ﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾، ولكن للأسف في هذه الأيام نجد كثيرا من الآباء والأمهات قد سلّموا تفكيرهم تاركين، من جراء ذلك، الغربَ ليمرّر مشاريعه القذرة ويطبقها على بيوتنا فينشئ الأبناء على غير طاعة الله فيخسر الآباء والأبناء على حد سواء، ومن أجل ذلك نجد المولى تبارك وتعالى ينادي على المؤمنين بأن يقوا أنفسهم وأهليهم نار جهنم وهذا لن يكون إلا بوعي الآباء والأمهات بمنهج الله سبحانه وتعالى.

ولكن كل ذلك لا ينطلي على المرأة في حزب التحرير التي تعمل بالصراع الفكري والكفاح السياسي لاستئناف الحياة الإسلامية وتعي تماما أهمية تطبيق شرع الله عز وجل وتعي تماماً معنى النظام الاجتماعي... ﴿أَلا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾.

وأخيرا فإننا ندعو النساء المسلمات إلى الذود عن الأسرة السعيدة التي تسعى إلى مرضاة الله تبارك وتعالى فتأمر بالمعروف وتنهى عن المنكر وتحقق مرادها في الأرض: "الخلافة الراشدة على منهاج النبوة" الكفاح الأسمى لحماية الأسرة المسلمة من جميع الجوانب، وهذا هو ما نسعى إليه ونرجو تحقيقه، فكونوا معنا والله سبحانه وتعالى ﴿ولَن يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

خديجة بن حميدة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست