كيف لدولة أن تحقق قفزات كبيرة وهي باقية على مسارها وتستغل زخم الأزمات وهي غارقة فيها، أليس هذا تهورا في الكلام؟
كيف لدولة أن تحقق قفزات كبيرة وهي باقية على مسارها وتستغل زخم الأزمات وهي غارقة فيها، أليس هذا تهورا في الكلام؟

ألقى الرئيس جوكو ويدودو كلمته في سياق تقديم تقرير أداء مؤسسات الدولة وخطابه بمناسبة الذكرى السنوية الخامسة والسبعين لاستقلال إندونيسيا في الجلسة السنوية لمجلس النواب في مجمع البرلمان، سينايان، جاكرتا.

0:00 0:00
Speed:
August 20, 2020

كيف لدولة أن تحقق قفزات كبيرة وهي باقية على مسارها وتستغل زخم الأزمات وهي غارقة فيها، أليس هذا تهورا في الكلام؟

كيف لدولة أن تحقق قفزات كبيرة وهي باقية على مسارها
وتستغل زخم الأزمات وهي غارقة فيها، أليس هذا تهورا في الكلام؟


الخبر:


ألقى الرئيس جوكو ويدودو كلمته في سياق تقديم تقرير أداء مؤسسات الدولة وخطابه بمناسبة الذكرى السنوية الخامسة والسبعين لاستقلال إندونيسيا في الجلسة السنوية لمجلس النواب في مجمع البرلمان، سينايان، جاكرتا.


تناول خطاب رئيس الجمهورية في هذه المناسبة نقاطاً عديدة كان أكثرها منصبا على محاولة الدولة مواجهة آثار وباء كورونا لاقتصاد البلاد، حيث أعرب فيها الرئيس عن ثقته البالغة بقدرة إندونيسيا على النهوض بعد الأزمة الاقتصادية بسبب كورونا، قائلا: "حتى اقتصادات الدول المتقدمة قد تدهورت إلى أقل من عشرة في المائة حتى سبعة عشر في المائة تحت الصفر، فيمكن أن تكون النكسات التي يعاني منها العديد من هذه الدول الكبيرة فرصة وزخماً لنا للحاق بالركب، إنه مثل الكمبيوتر، فإن اقتصادات جميع الدول عالقة حالياً ومعلقة، فيجب أن تخضع جميع الدول لعملية إيقاف تشغيل قصيرة للكمبيوتر حتى تتم إعادة تشغيله. لأجل ذلك فإن جميع الدول لديها الفرصة لإعادة ضبط جميع أنظمتها، فهذا هو الوقت المناسب لإصلاح أنفسنا بشكل جذري، وإجراء تحولات كبيرة، وتنفيذ استراتيجيات كبيرة في مجالات الاقتصاد والقانون والحكومة والاجتماعية والثقافية بما في ذلك الصحة والتعليم، وهذا هو الوقت المناسب لاستغلال زخم الأزمة لتحقيق قفزات كبيرة"... ثم أضاف الرئيس عن توقعاته لاقتصاد البلاد قائلا: "من المتوقع أن يصل النمو الاقتصادي إلى 4.5 في المائة إلى 5.5 في المائة. ومن المتوقع أن يكون معدل النمو الاقتصادي مدعوما بزيادة الاستهلاك المحلي والاستثمار باعتباره القوة الدافعة الرئيسية". (كومباس، 2020/08/16).

التعليق:


لا شك أن الثقة بالنفس عامل مهمّ من عوامل النجاح، ولكن الثقة بالنفس ليست أمرا قائما على الهواء، وليست نظريات فارغة تؤدي إلى تهور في الكلام وتنتهي باليأس. فإذا نظرنا إلى وضع اقتصاد البلاد وحتى قبل الوباء، فإن إندونيسيا قد دخلت بالفعل في أزمات مستمرة، وقد ذكر الخبير الاقتصادي السيد ريزال رملي عددا من المؤشرات على انهيار الاقتصاد الإندونيسي قبل حصول وباء كورونا، حيث عانى الاقتصاد الإندونيسي بالفعل من مشاكل بسبب تأثير فقاعات الاقتصاد الكلي، وحالات التخلف عن السداد، وانخفاض القوة الشرائية، ووجود الأعمال الرقمية، وتراجع دخل المزارعين، وغيرها. ولقد تراجعت جميع المؤشرات الكلية بشكل أسوأ مما كانت عليه قبل 10-15 سنة، كما يظهر عجز الميزان التجاري والحساب الجاري والضرائب وما إلى ذلك. وأضاف أن في عام 2020، من المتوقع أن ينهار الاقتصاد الإندونيسي بدون كورونا بنسبة تصل إلى 4 في المائة، ومع وجود كورونا تزداد التكهنات بتباطؤ في المعدل الاقتصادي، حتى وصلت نسبة تراجعه إلى 3 في المائة، وكل هذه الإشارات قد بدأت تحدث بالفعل.


وقد أعلنت وكالة الإحصاء المركزية في أوائل أيار/مايو أن اقتصاد إندونيسيا في الربع الأول من عام 2020 نما بشكل أبطأ بنسبة 2.97 في المائة (على أساس سنوي) حيث قال رئيس الدولة، سوهاريانتو، إنه على أساس ربع سنوي أو مقارنة بالربع الرابع من عام 2019، سجل النمو الاقتصادي في إندونيسيا ناقص 2.41 في المائة.


ومن جانب آخر، فقد بلغ الدين الخارجي في أيلول/سبتمبر 2019 نحو 5569 تريليون روبية إندونيسية، وهذا قبل الأزمة، وقد بلغ ذلك في نيسان/أبريل 2020م 5603 تريليون روبية إندونيسية. هذا ناهيك عن قضية الموارد الطبيعية التي سيطر عليها الأجانب، لا سيما الموارد الطبيعية الخمس الكبرى وهي تعدين فريبورت للذهب في بابوا، وتعدين شركة شيفرون للحرارة الأرضية في جاوى الغربية، وتعدين الفحم في كاليمانتان، وتعدين النيكل في سولاويزي، والبترول في العديد من المناطق. نعم، فإن كل هذه الموارد تحت سيطرة ونفوذ الأجانب، وأولاها الولايات المتحدة والصين وإنجلترا وفرنسا وكندا. وفي وقت لاحق يمكننا أن نرى ما هو أخطر مما سبق، وذلك بعد إصدار القانون الجديد عن الموارد المعدنية والفحم.


وبلغ عدد الفقراء في أيلول/سبتمبر 2019 نحو 24.79 مليون مع أن المعيار المستخدم للدخل الفردي هو حوالي 440 ألف روبية للفرد في الشهر، فهذا يعني أنه حقاً فقير جداً، وسيكون معدل الفقر أكبر إذا تم استخدام المعيار العالمي البالغ 2 دولار أمريكي في اليوم. وهذا قبل أزمة الوباء، وأما بعدها فقد صرح وزير المالية سري مولياني أن عدد الفقراء ارتفع بمقدار 4.48 مليون شخص من بيانات عام 2019.


بهذه البيانات نستطيع أن نقول إن استهداف النمو الاقتصادي في نطاق 4.5 إلى 5.5 في المائة كما أدلاه الرئيس في خطابه أمر غير واقعي. بل إن الولايات المتحدة بمدينتها الشهيرة للمقامرة، لاس فيجاس، كان نموها الاقتصادي في الربع الأول من عام 2020 سالباً 4.8 في المائة، وعند الاتحاد الأوروبي، سيكون النمو الاقتصادي في عام 2020 أقل من 8.3 في المئة سلبا.


لذا فإن الأزمة الاقتصادية العالمية تنتج من تطبيق الاقتصاد الليبرالي الذي اعتمد على القطاع الاقتصادي غير الحقيقي واقتصاد الربا. فكيف للجمهورية الإندونيسية أن تحقق قفزات كبيرة وتستغل زخم الأزمات وهي غارقة فيها؟!


لا شك أن الخطوة الوحيدة لاستعادة الاقتصاد العالمي عندما كان يتدهور قبل الجائحة وأثناءها هي إعادة تطبيق النظام الاقتصادي الإسلامي الذي يعتمد على القطاع الحقيقي، ويمنع الربا، ويعيد الثروات الطبيعية إلى مالكها لتلبية احتياجات الشعب والتصدي لأية كوارث حادثة. ولا يتأتى هذا إلا من خلال تطبيق الإسلام بالكامل في ظل دولة الخلافة الإسلامية ككيان تنفيذي لشرائعه.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أدي سوديانا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست