كم رمضان بعد سيأتي علينا ونحن نشاهد ذبح أمتنا في جميع أنحاء العالم؟
كم رمضان بعد سيأتي علينا ونحن نشاهد ذبح أمتنا في جميع أنحاء العالم؟

الخبر: استقبل مسلمو غزة شهر رمضان تحت وابل من الصواريخ والغارات الجوية من كيان يهود القاتل، الشهر الذي ينبغي أن يكون وقتا للابتهال والاحتفال، هو مرة أخرى وقت للحزن والحداد للأسر في هذه الأرض المحاصرة، وفي فترة ثلاثة أيام، شملت بداية شهر رمضان، قصف كيان يهود الوحشي مسلمي غزة بأكثر من 350 غارة جوية وهجمات بالمدفعية، مما أسفر عن استشهاد حوالي 25 شخصا،

0:00 0:00
Speed:
May 14, 2019

كم رمضان بعد سيأتي علينا ونحن نشاهد ذبح أمتنا في جميع أنحاء العالم؟

كم رمضان بعد سيأتي علينا ونحن نشاهد ذبح أمتنا في جميع أنحاء العالم؟

(مترجم)

الخبر:

استقبل مسلمو غزة شهر رمضان تحت وابل من الصواريخ والغارات الجوية من كيان يهود القاتل، الشهر الذي ينبغي أن يكون وقتا للابتهال والاحتفال، هو مرة أخرى وقت للحزن والحداد للأسر في هذه الأرض المحاصرة، وفي فترة ثلاثة أيام، شملت بداية شهر رمضان، قصف كيان يهود الوحشي مسلمي غزة بأكثر من 350 غارة جوية وهجمات بالمدفعية، مما أسفر عن استشهاد حوالي 25 شخصا، من بينهم امرأتان حبلى وعدد من الرضع والأطفال، وإصابه أكثر من 150، وفقا لوزارة الصحة الفلسطينية في غزة. وقالت وزارة الداخلية في غزة إنه تم استهداف أكثر من 300 مبنى، شملت المنازل والمؤسسات المدنية والأراضي الزراعية والبنية التحتية، ودمرت 130 شقة بالكامل على الأقل، في حين أصيب 700 آخرون بأضرار جزئية، مما أدى إلى تشريد آلاف من الأسر الفلسطينية (وزارة العمل والإسكان الفلسطينية في غزة)، وفي الوقت نفسه، كثف النظام والقوات الروسية في سوريا قصفهم لمسلمي إدلب خلال الأسبوع الماضي بضربات جوية لا هوادة فيها وإسقاط براميل متفجرة على المنازل والمستشفيات، وفي واقع الأمر، ذكرت الأمم المتحدة أن هذا الهجوم المميت الأخير شهد أسوأ استخدام لبراميل متفجرة من نظام الأسد خلال 15 شهرا، ووفقا للمرصد السوري لحقوق الإنسان في بريطانيا، فقد قتل أكثر من 200 في إدلب منذ 20 نيسان/أبريل. ويجري استهداف المرافق الصحية بصورة منهجية، حيث دمر 12 مركزا صحيا في الأسبوعين الماضيين. وقد وصفها عمال الإنقاذ بأنها "كارثة إنسانية لم يسبق لها مثيل"، وقد شرد أكثر من 150,000 مسلم من المدينة في الأسبوع الماضي وحده، محاولين الفرار من حملة "الإبادة الجماعية" هذه.

التعليق:

كم رمضان بعد سنشهد حمامات الدماء هذه ضد أمتنا بينما العالم لا يحرك ساكنا؟! إلى متى نحن مستعدون لمشاهدة إخوتنا وأخواتنا في غزة واليمن وفي أماكن أخرى يموتون ببطء بسبب الحصار الظالم الذي فرض عليهم والظروف اللاإنسانية المزرية التي يعيشون فيها؟! كم من التجاهل المطلق لحياة المسلمين من الأمم المتحدة، والقوى الغربية وأنظمة العالم الإسلامي نحن بحاجة إلى أن ندرك أن الآمال لا يمكنها أبدا أن توضع عليهم للدفاع عن دماء المسلمين، ولن يكونوا أبدا جزءا من الحل لحملات الإبادة الجماعية هذه ضد أمتنا؟ بل إن الدول الأوروبية مستعدة وبدون خجل، للمشاركة في مسابقة "الأغنية الأوروبية" التي يستضيفها في أيار/مايو كيان يهود المحتل لفلسطين، متجاهلة مذابحه ومجازره ضد الأبرياء! وكم نحن مستعدون للتسامح مع ألعاب السياسة التي لعبت على أراضينا من دول العالم وهم يتزاحمون على السلطة والنفوذ، ويضحون بحياة المسلمين في عملية إشباع لجشعهم بالموارد وثروة البلاد الإسلامية، ألم يحن الوقت لقول طفح الكيل؟

رمضان كما نعرفه كان شهرا من الانتصارات العظيمة لهذه الأمة ولديننا، ففيه حصلت معركة بدر ضد قريش التي أدت إلى فتح مكة المكرمة وجعلها تحت ظل الحكم الإسلامي، ومعركة حطين التي أدت إلى تحرير القدس من براثن الصليبيين، ومعركة عين جالوت ضد المغول المتعطشين للدماء التي أدت إلى تحرير الأراضي الإسلامية المحتلة من حكمهم الإرهابي، وتلك ليست سوى عدد قليل من الانتصارات التاريخية لهذه الأمة في هذا الشهر المبارك، ولكن الذي مكن المسلمين من تحقيق مثل هذه الانتصارات العظيمة، وكذلك حماية دماء المسلمين وتحرير الأراضي الإسلامية كان وجود نظام الله سبحانه وتعالى الذي حكم البلاد الإسلامية بأكملها، وكان هذا النظام هو الذي بنى ودرب وجهز وحضر جيشا ضخما حارب من أجل مصالح الإسلام والمسلمين، وجعل أعداءه يرتجفون خوفا لمجرد التفكير في مواجهة قواته، والذي ظهر بكلمات النبي ﷺ: «وَإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ».

ومع ذلك، اليوم، في غياب هذه القيادة الإسلامية الحقيقية، دولة الخلافة القائمة على منهاج النبوة، فإن الأمة الإسلامية هي ضحية لأجندات الأمم الأجنبية المجرمة، وعزل إزاء الهجمات التي يتعرضون لها والاحتلال والاضطهاد والقمع.

لذلك فإن شهر رمضان الفضيل أتى ونحن نشهد كل تلك المشاهد المفجعة للمعاناة التي لا يمكن تصورها لإخوتنا وأخواتنا التي تتزايد كل عام، وينبغي أن ندرك بالتأكيد ان إعطاء الصدقة أو الدعاء وحده لن ينهي كابوسهم ومعاناتهم، ما يحتاجونه هو الدولة التي تعتبر أن دماءهم مصونة يحميها الإسلام، وأنها ستكون الوصي عليهم والحامي لهم، هذا هي الخلافة - ظل الله سبحانه وتعالى للمضطهدين على هذه الأرض.

وبما أننا نتلو القرآن خلال هذه الأيام المباركة، فبالتأكيد ينبغي على الصلاة والآيات التي نتلوها أن تنشط رغبتنا في تحقيق الحياة، من خلال العمل على إقامة نظام ربنا سبحانه وتعالى، الذي من خلاله سيتم تنفيذ كل أوامره. بالتالي نحن لسنا ممن وصفهم الرسول ﷺ. روى أبو سعيد الخدري أن النبي ﷺ قال: «يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ إِلَى فُوقِهِ»، قِيلَ: مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ: «سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ». نسأل الله أن لا نكون من هذا الصنف، اللهم آمين.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتورة نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست