كلمات الحاكم قصيرة، والإجراءات سريعة وحادة!
كلمات الحاكم قصيرة، والإجراءات سريعة وحادة!

الخبر:   أثناء الرد على الأسئلة المتعلقة بقرار مجلس الشيوخ الأمريكي بخصوص الأرمن، في قصر دولما باهتشة، قال الرئيس أردوغان: "إذا لزم الأمر، سنجري مناقشات مع جميع وفودنا، وإذا لزم الأمر، قد نغلق قاعدة إنجرليك [قاعدة جوية في مقاطعة أضنة الجنوبية] ومحطة كورسيك [محطة الرادار في مقاطعة ملاطية الشرقية]". (وكالة الأناضول، 2019/12/15) ...

0:00 0:00
Speed:
December 21, 2019

كلمات الحاكم قصيرة، والإجراءات سريعة وحادة!

كلمات الحاكم قصيرة، والإجراءات سريعة وحادة!

(مترجم)

الخبر:

أثناء الرد على الأسئلة المتعلقة بقرار مجلس الشيوخ الأمريكي بخصوص الأرمن، في قصر دولما باهتشة، قال الرئيس أردوغان: "إذا لزم الأمر، سنجري مناقشات مع جميع وفودنا، وإذا لزم الأمر، قد نغلق قاعدة إنجرليك [قاعدة جوية في مقاطعة أضنة الجنوبية] ومحطة كورسيك [محطة الرادار في مقاطعة ملاطية الشرقية]". (وكالة الأناضول، 2019/12/15)

التعليق:

إن الحكام، الذين يعززون سلطتهم من خلال أيادي القوى العالمية، يخدعون الأمة بحيل جديدة كل يوم. بالطبع، هذا الوضع لا يقتصر على بلدان معينة، ولا يقتصر على بعض الحكام. مرض الخيانة هذا شائع في كل بلدان المنطقة وحكامها.

ومع ذلك، من المحزن حقاً أن يجرؤوا على القيام بذلك، على الرغم من معرفتهم بقول رسول الله r: «مَنْ غَشَّـنَا فَلَيْس مِنَّا».

تم بناء قاعدة إنجرليك بالكامل بواسطة العمل الهندسي الأمريكي خلال الوقت الذي كانت فيه تركيا تبذل جهوداً مكثفة للانضمام إلى الناتو. تم استخدام هذه القاعدة في جميع العمليات التي قامت بها الولايات المتحدة ضد البلاد الإسلامية منذ عام 1954. كانت قاعدة إنجرليك، والتي تعد واحدة من أكثر القواعد استخداماً من أمريكا، هي المادة السياسية للحكام في السياسة الداخلية من وقت لآخر. ومع ذلك، فإنها لم تتحول إلى إجراء يتجاوز الكلمات.

في الواقع، رغم أنه بعد عملية السلام القبرصية في عام 1974، تم إغلاق بعض القواعد الأمريكية مؤقتاً كرد فعل على حظر الأسلحة الذي فرضته الولايات المتحدة في عام 1975، إلا أن قاعدة إنجرليك بقيت مفتوحة داخل جسم الناتو. تم استخدام القاعدة للاستخبارات والاستطلاع ضد الاتحاد السوفيتي خلال الحرب الباردة وكانت تستخدم دائماً في العمليات ضد المسلمين. تم استخدامها كدعم لوجستي وهبوط طارئ في قصف لبنان 1958، وفي تسليم الأسلحة إلى الأردن في عام 1970، وخلال الحرب بين العرب وكيان يهود من 1967-1973. وكانت تستخدم لتوفير الدعم الجوي في حرب الخليج الأولى ولتوفير الدعم اللوجستي أثناء اجتياح العراق، كما أن الطائرات التي أقلعت من قاعدة إنجرليك أسفرت عن مقتل المسلمين في سوريا، خاصةً تحت ذريعة تنظيم الدولة.

للأسف، تم وضع القواعد العسكرية التي بنيت في البلاد الإسلامية على أيدي حكام خونة في خدمة الكفار، مما أدى إلى مقتل مئات الآلاف من المسلمين. إن تهديد أردوغان بإغلاق قاعدة إنجرليك إذا لزم الأمر هو عملية لتحويل مشاعر العامة. في واقع الأمر، مع قيام الجمهورية وإرساء حزبه على مدار 18 عاماً، فإن أراضي وموانئ البلاد تحتلها الولايات المتحدة تحت اسم حلف الناتو. من الغريب حقاً أن هؤلاء، الذين قدموا ملاطية/ محطة كورسيك لخدمة الولايات المتحدة في عام 2012، يتحدثون عن إغلاق قاعدة إنجرليك.

إنها مزحة أن الوزراء والحكام، الذين يعتبرون تركيا أرضاً تابعة لحلف الناتو، يتحدثون عن إغلاق هذه القواعد. إن احتضان الولايات المتحدة كصديق وحليف، مع التشديد على شراكة الناتو، ثم قول "إذا لزم الأمر، قد نغلق قاعدة إنجرليك" هو أمر مخادع. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿يَٓا اَيُّهَا الَّذ۪ينَ اٰمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾.

هل ستغلق فعلاً هذه القواعد التي وضعتها في خدمة أمريكا والكفار الغربيين فقط لمجرد الاعتراف بالقرار الأرمني، على الرغم من أنك لم تقم ولا الذين سبقوك بإغلاقها بينما تسببت هذه القواعد في مقتل الآلاف من المسلمين؟!

كيف سيغلق أردوغان أراضي الناتو أمام الولايات المتحدة في الوقت الذي لا يجرؤ على مغادرة الناتو وحتى لا يجرؤ على الرد بلهجة أكثر قسوة من تصريح ترامب لماكرون الذي قال بأن "الناتو يعاني من موت عقلي".

إن الميزة الأكثر بروزاً، والتي يجب أن يمتلكها الحاكم، الذي يتولى مسؤولية إدارة شؤون المجتمع، هي الشجاعة، التي تليها بيانات قصيرة وإجراءات سريعة. للأسف، فإن كلمات حكام المسلمين اليوم تزداد طولاً، في حين إن أفعالهم تضيع داخل بياناتهم.

لا يمكن لأي نظام ولا حاكم التحدث عن الصلاح والاستقامة، مع إعطائه الأولوية للعلاقات التجارية على الدم والحياة، كما يفعل حكام تركيا والبلاد الأخرى. أولئك الذين يتجاهلون حق الله في الحكم، وأولئك الذين يخشون أمريكا بدلاً من الله، لا يفشلون فقط في تجاوز سياساتهم، علاوةً على أنهم غير قادرين على التفكير في القيام بذلك.

توقف عن اللعب بالكلمات... ماذا يعني "إذا لزم الأمر"؟ هناك المئات من الأدلة الشرعية والآلاف من الأسباب المنطقية لطرد أمريكا عن هذه الأرض. "إذا لزم الأمر، يمكننا إغلاق..." يعني إعلان الحرب على الحقيقة.

بلا شك، سوف يحكم نظام الخلافة بأحكام الله وأوامره، وسيكون نوراً للبشرية والعالم بأسره. عندها فقط، سوف يختبر الكفار أفعال الخلفاء قبل سماع كلماتهم. سيكونون رجالاً حقيقيين صالحين، وسنراهم قريباً بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست