خيانتكم فاقت الجبال (مترجم)
خيانتكم فاقت الجبال (مترجم)

الخبر:   في إطار القمة الثلاثية التركية الروسية الإيرانية وهي الخامسة من نوعها في أنقرة، قال الرئيس أردوغان: "خلال القمة، اتخذنا قرارات مهمة من شأنها خلق الأمل في حل سياسي في سوريا. لقد أعلنا مرة أخرى أن كل واحد منا لديه الحساسية نفسها عندما يتعلق الأمر بالسلامة الإقليمية والوحدة السياسية في سوريا". (ntv.com.tr، NTV Haber 2019/09/16)

0:00 0:00
Speed:
September 22, 2019

خيانتكم فاقت الجبال (مترجم)

خيانتكم فاقت الجبال

(مترجم)

الخبر:

في إطار القمة الثلاثية التركية الروسية الإيرانية وهي الخامسة من نوعها في أنقرة، قال الرئيس أردوغان: "خلال القمة، اتخذنا قرارات مهمة من شأنها خلق الأمل في حل سياسي في سوريا. لقد أعلنا مرة أخرى أن كل واحد منا لديه الحساسية نفسها عندما يتعلق الأمر بالسلامة الإقليمية والوحدة السياسية في سوريا". (ntv.com.tr، NTV Haber 2019/09/16)

التعليق:

إن حقيقة أن اثنين من حكام المسلمين قد تبادلا السلام بحرارة مع الكافر الظالم بوتين أمام الكاميرات، قد أزعجت بالتأكيد كل مسلم. إن خطة الولايات المتحدة في أذهانهما، وحماس إرضائها في قلبهما، والابتسامة على وجهيهما بينما يصافحان الأيدي الدموية للحكام القساة والكفرة الملطخة بدماء مئات الآلاف من الأبرياء، إنها الوقاحة بكل معانيها. لقد فاقت خيانتكما الجبال، ووصل خزيكما أدنى المستويات.

خلال الثورة السورية، لم يتوقف الكفار عن التخطيط. وعلى الرغم من أنهم غيروا الأسلوب في تنفيذ خططهم في فترات زمنية مختلفة، إلا أنهم حافظوا دائماً على حماية النظام الحالي الذي حددوه كهدف، وخططهم في اتجاه استمراره كخط أحمر. في الوقت الذي كان رد فعل المعارضين في الميدان قوياً للغاية، مهد الكفار الطريق لخيانة الثورة من خلال تقديم بعض الالتزامات لقادة المجموعات الذين يفتقرون إلى التبصر السياسي، من خلال ألعاب كدعوتهم في البداية إلى الطاولة.

جماعات المعارضة التي أصبحت غير فعالة في الميدان ولا على الطاولة، وتعارض ذلك، بالإضافة إلى النظام القاسي الذي تزداد قوته وسيطرته يوما بعد يوم... ولا شك، أن إيران وروسيا اللتين تدعمان عملياً النظام القاسي على الأرض بجميع أنواع الأسلحة والموارد البشرية، كل ذلك أدى إلى قتل الآلاف من المسلمين الأبرياء بغض النظر عن الهدف، وتدمير المدن وجعلها غير صالحة للسكن، وقد أثر ذلك على العملية الحالية. ومرة أخرى، فكما ذكر أعلاه، فإن انسحاب الجماعات التي تفتقر إلى التبصر السياسي، أو حالتها في الوصول إلى الحدود حيث كانت محصنة، تسبب في عملية التدمير هذه.

وبالمثل، في حين إن الضغط السياسي والاقتصادي والديموغرافي الذي تمارسه تركيا على المجموعات أدى إلى تفريق الجماعات في الميدان، إلا أنها (تركيا) تسببت في فقدان بوصلة الثورة بسبب العمليات العسكرية التي نفذتها في سوريا في إطار الخطط الأمريكية. نعم، لقد أنجزت هذه الدول الثلاث على وجه الدقة جميع الواجبات والأعمال داخل سوريا نيابةً عن الولايات المتحدة.

إن دعوة المجموعات إلى الطاولة في إطار الخطط التي تنفذ بشكل تدريجي، له دوافع سياسية وعسكرية. وهكذا أصبح الدور السياسي لجماعات المعارضة ممثلاً بالكامل في تركيا. عسكرياً، تُلغى مجموعات المعارضة هذه أو تُخضع للنظام، أو أصبح وجودها غير مؤكد من خلال التعاون مع الجيش التركي. أما الهياكل التي لا تدخل هذه العمليات فتعتبر إرهابية، ويتم تنفيذ خطط لمكافحتها. في الوقت الحالي، التهديد الوحيد لهذه البلدان الثلاثة والنظام المجرم، هو الهياكل في إدلب وحولها الذين لا ينحنون. يبدو أن العقدة هنا ستكون غير محكمة من تركيا نيابةً عن الولايات المتحدة. حتى الآن، فإن منطقة النزاع ومنطقة الحد من التوتر ونقاط المراقبة وعمليات وقف إطلاق النار قد تسبب في تضييق دائرة إدلب بشكل متزايد. إن استعداد أردوغان لتحمل المزيد من المسؤولية يجب أن يكون علامة على أنه سيضطلع بدور أكثر نشاطاً في تفكيك الهياكل في هذه المنطقة.

أردوغان، الذي صرح مؤخراً، بأنه يعارض النظام السوري المجرم ولا يقبل عملية انتقال مع الأسد، جعل المعارضين يبتعدون عن طريقهم وهدفهم من خلال هذا الخطاب البطولي والماكر. ومع ذلك، فإن الدستور الجديد الذي هو نيتهم الحقيقية، وحقيقة أنه أعلن صراحة أنه يجب حماية وحدة النظام السياسي، قد أظهر سياسته القائمة على الأكاذيب والخداع. لقد أعلن حكام هذه الدول الثلاث، الذين يوفون بدقة بواجبهم الباطني في الميدان وعلى الطاولة، بلغة مشتركة مع الولايات المتحدة التي هي صاحبة العملية، أن شروط الحل النهائي والموافقة، وبعبارة أخرى جدول جنيف، قد أعد.

يبدو أن المسودة التي وافقت عليها الدول الثلاث، سيتم تقديمها إلى الولايات المتحدة خلال اجتماع الأمم المتحدة في نهاية هذا الشهر. وبموافقة الولايات المتحدة على الخطة، سيتم تحديد جدول جنيف وتطوير الدستور والعملية السياسية الجديدة إلى مرحلة أخرى. بالطبع، لا يبدو من الممكن إكمال عملية سياسية نهائية حتى يتم حل قضية إدلب. وعلى ما يبدو، ستحاول الولايات المتحدة تمديد العملية حتى تقوي بنية حزب الاتحاد الديمقراطي الذي تشكل في شرق الفرات.

من جهة، تتأمل تركيا حماية حدودها من الإرهابيين المزعومين؛ ومن ناحية أخرى، توضح غرابة الدوريات المشتركة، والمنطقة الآمنة مع أمريكا التي تقدم كل أنواع الدعم للعناصر التي تسميها كإرهابيين. أردوغان الذي يتحدث خلال كل خطاب حول تكلفة اللاجئين بالنسبة لتركيا، يتأمل ترحيل اللاجئين في تركيا ويريد حل قضية إدلب في أقرب وقت ممكن من أجل منع موجة جديدة من الهجرة. ومع ذلك، فإن هؤلاء الحكام الذين لا يستطيعون حتى تجاوز السياسة الأمريكية، سيتعين عليهم أيضاً انتظار الوقت الذي يحدده صاحب الخطة.

للأسف، إنها لحقيقة مخجلة أن حكام بلادنا يرحبون بالحكام الروس والإيرانيين، الذين قتلوا ما يقرب من مليون مسلم، كما ويعلنون أن المسلمين المدافعين عن أنفسهم هم الإرهابيون، ويتحدثون عن الإنسانية ووقف إراقة الدماء. إنه لنظام ظالم حيث يُعتبر فيه مرتكبو هذه المذابح بريئين حقاً، كما ويُعتبر الذين يُذبحون ويتعرضون للقسوة مذنبون. إن الحكام الذين يعتبرون المصالح الاقتصادية ذات قيمة أكبر من سفك الدماء، والمصالح السياسية هي الأولوية الوحيدة والمنافسة مع بعضهم البعض لخدمة الدول الكبرى، لا يمكنهم أن يجلبوا سوى الأضرار التي لحقت بالأمة وكذلك بالإنسانية. إن دماء أولئك الذين ضحوا بحياتهم، خلال 8 سنوات من أجل الإطاحة بالنظام المجرم وإقامة حكم الإسلام، تضيع على أيدي القادة والحكام الذين يخونون الأمة. الموافقة والإشارة والمساهمة في خطط مثل العملية السياسية الديمقراطية والدستور الجديد واستمرار السلطة السياسية، هي طريق الظلمة والكفار نفسها.

بالتأكيد، ستقيم هذه الأمة نظام الإسلام الذي سيحل مشاكلها بشكل صحيح، ستخرج الخليفة الراشد الذين سيتولى قضايا الأمة وشؤونها. وفي ذلك اليوم بالذات، سوف يتذوق الظالمون والكفار طعم الخوف؛ وسيتذوق المظلومون طعم الشجاعة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست