خسئت يا ترامب فأمريكا لن تبقى إلى الأبد
خسئت يا ترامب فأمريكا لن تبقى إلى الأبد

الخبر:   خاطب الرئيس الأمريكي ترامب خلال زيارته لليابان يوم 2019/5/28 نحو 800 جندي أمريكي على متن سفينة أمريكية راسية في قاعدة يوكوسوكا البحرية الأمريكية وادعى قائلا: "إن هؤلاء العسكريين هم أكثر المحاربين إثارة للرعب في هذا الجانب من المحيط الهادي". وادعى منجما في الغيب أنه: "ليس للولايات المتحدة النية في خسارة مركزها الريادي في العالم. إنها ستبقى إلى الأبد"، وأضاف مغرورا بقوته العسكرية فقال: "لدينا معدات وصواريخ وقذائف ودبابات وطائرات وسفن، لا أحد في العالم كله يستطيع أن يبنيها كما نفعل نحن. إنهم ليسوا قريبين من ذلك".

0:00 0:00
Speed:
June 02, 2019

خسئت يا ترامب فأمريكا لن تبقى إلى الأبد

خسئت يا ترامب فأمريكا لن تبقى إلى الأبد

الخبر:

خاطب الرئيس الأمريكي ترامب خلال زيارته لليابان يوم 2019/5/28 نحو 800 جندي أمريكي على متن سفينة أمريكية راسية في قاعدة يوكوسوكا البحرية الأمريكية وادعى قائلا: "إن هؤلاء العسكريين هم أكثر المحاربين إثارة للرعب في هذا الجانب من المحيط الهادي". وادعى منجما في الغيب أنه: "ليس للولايات المتحدة النية في خسارة مركزها الريادي في العالم. إنها ستبقى إلى الأبد"، وأضاف مغرورا بقوته العسكرية فقال: "لدينا معدات وصواريخ وقذائف ودبابات وطائرات وسفن، لا أحد في العالم كله يستطيع أن يبنيها كما نفعل نحن. إنهم ليسوا قريبين من ذلك".

التعليق:

إن ترامب يعتريه الوهم ومصاب بالغرور والغطرسة والعنجهية، وهو مشهور بالكذب حيث شهد عليه أهله بممارسة الكذب باستمرار، فقد نشرت صحيفة واشنطن بوست يوم 2019/1/1 إحصاء لعدد التصريحات الكاذبة لترامب خلال عام 2018 بلغت أكثر من 7 آلاف و600 كذبة بمعدل 15 كذبة في اليوم، وإن 7 من 10 أمريكيين يعتبرون ترامب كذابا ولا يصدقونه. وذكرت أن أكاذيبه تضاعفت 3 أضعاف عن سنة 2017، وأنها بدأت تتضاعف هذه السنة أكثر من السنة الماضية.

ولهذا فإنه يمكن أن تضاف هذه التصريحات الأخيرة لترامب في اليابان بأن عساكره هم "أكثر المحاربين إثارة للرعب وبأن أمريكا ستبقى إلى الأبد في مركز الريادة في العالم" يمكن إضافتها إلى التصريحات الكاذبة خلال عام 2019 التي تنشرها الصحيفة الأمريكية في نهاية هذا العام. فهذه أوهام ترامب الكاذبة النابعة من غروره وغطرسته وعنجهيته، بل إنهم يقولون إنه كذاب أشر.

إن الحقيقة تقول إن العساكر الأمريكان لم يصمدوا أمام المقاومة العراقية بعد عدوانهم على العراق عام 2003 فاضطرت أمريكا إلى الإعلان عن عدم الانتصار ومن ثم الانسحاب، فلولا الخيانات والحكام الخونة لما بقي لأمريكا أي نفوذ في العراق. وها هم الأمريكان يتوسلون إلى المقاومة الأفغانية للتفاوض على الانسحاب وقد أعلنوا عدم قدرتهم على عدم تحقيق الانتصار. فإذا رفض المجاهدون في أفغانستان المفاوضات وأصروا على المقاومة والجهاد فإن أمريكا ستخرج مدحورة مذمومة من أفغانستان. وهذا يثبت أن العساكر الأمريكان ليسوا أبطالا ولا يخيفون المسلمين، ربما يخيفون أمثالهم من الكفار. فالمسلمون الذين جاهدوا أمريكا في العراق وأفغانستان لقنوا أمريكا درسا لن تنساه أبدا، وبذلك بدأت تقاتل فقط بالطيران وجعلت الخونة على الأرض في الواجهة يقاتلون عنها بالوكالة.

فالمسلمون جعلوا مركز أمريكا الدولي يهتز ويتقلقل، ولهذا جعلت الإسلام والمسلمين عدوها الأول. وهذا يثبت أن أمريكا لن تبقى إلى الأبد في مركز الريادة أي مركز الدولة الأولى في العالم، بل بدأ مركزها يهتز منذ عام 2008، فبجانب تلك الضربات العنيفة التي هزت مركزها جاءت الأزمة المالية التي تفجرت في رأسها وما زالت تعاني منها ومديونيتها تبلغ عنان السماء، مما أكد ذلك فساد نظامها الرأسمالي وأكد أن مركزها الدولي بدأ في الانحدار، ومن ثم الأفول. ووصول مثل ترامب إلى سدة الحكم علامة من علامات الانحدار، حيث لم تجد أفضل منه وقد وصفه أهله بالكذاب والغبي والأحمق والمتهور...

فأمريكا لديها العتاد والصواريخ والطائرات وغير ذلك من الأسلحة الحديثة والمتطورة ربما تخيف الآخرين من الكفار، ولكنها لا تخيف المسلمين فقاوموها وما زالوا يقاومونها، وإن كانت المعركة غير متعادلة، فهي تحشد كل قواها وتكتل 60 دولة وأكثر وراءها لتقاتل المسلمين تحت مسميات كاذبة، والمسلمون ليس لديهم الأسلحة الكافية ولا المتعادلة مع أمريكا، ولكنهم يملكون الإيمان والإرادة على القتال والشجاعة فهم يثيرون الرعب في قلوب الأمريكان وغيرهم.

ولهذا قال ترامب لقناة "هيل تي في" الأمريكية يوم 2018/9/19 إن "أسوأ خطأ ارتكب في تاريخ بلادنا هو الذهاب إلى الشرق الأوسط الذي قام به الرئيس بوش" "قد يكون أوباما قام بسحبهم (العسكريين الأمريكيين) بطريقة خاطئة، لكن التدخل بالنسبة لي كان أسوأ خطأ في تاريخ بلادنا"، وعندما سئل عن سبب ذلك قال: "لأننا صرفنا 7 تريليونات دولار في الشرق الأوسط... 7 تريليونات وحياة ملايين الأشخاص، لأنني أفضل احتساب الجانبين". فهنا صدق ترامب وهو كاذب، لأنه لم يستطع أن يتجاهل الحقيقة. فدمرت بلاده عدة بلاد في الشرق الأوسط سواء مباشرة أو غير مباشرة وقتلت الملايين منهم. ولكن ذلك لم يحقق لها الانتصار ولم يثن المسلمين عن مواصلتهم لحرب التحرير من استعمارها ومن الاستعمار الغربي الذي مزق بلاد المسلمين ولحمتهم ونهب ثرواتهم وهدم خلافتهم وما زال يعمل على عرقلة عودتها فيحارب الإسلام والمسلمين تحت اسم محاربة (الإرهاب والتطرف والتشدد) صداً عن سبيل الله. ولقد صدق الله القائل سبحانه: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ اللّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ﴾.

فترامب يتحسر على إنفاق بلاده الأموال الطائلة من دون طائل، وهو يرى أنهم مغلوبون غير غالبين وغير غانمين ولا يدري أنهم إلى جهنم سيحشرون.

فالأيام دول، ولن تدوم دولة لأحد إلى الأبد، وخاصة عندما تكون ظالمة ومستكبرة، فلن تدوم غطرسة أمريكا وعنجهيتها واستكبارها في الأرض، والمؤشرات على ذلك كثيرة.

والأمة الإسلامية بدأت تنهض وتصحو وتنتفض، فلقد كسرت حاجز الخوف وازداد الوعي لديها، وسوف يزداد ويزداد حتى يكتمل؛ بأن يصبح المسلمون ينظرون إلى الأحداث من زاوية الإسلام وأفكاره لا غير، ويقيّمون القادة بمدى تقيدهم بأحكام الإسلام وبمدى إخلاصهم وصدقهم وثباتهم على المبدأ ووعيهم عليه وعلى الأحداث السياسية وتقديمهم للحلول الإسلامية المنبثقة من كتاب الله وسنة رسوله. وهكذا يقيمون الخلافة الراشدة على منهاج النبوة لتحل محل أمريكا من غير استكبار في الأرض ولا عنجهية ولا غطرسة، ولا نهب لثروات الناس بدولار مزيف كورقة نقدية بلا مقابل، وبشركات عملاقة محتالة تحت مسمى الاستثمار، وبمؤسسات مالية دولية مجحفة كصندوق النقد الدولي والبنك الدولي، وغير ذلك من الوسائل والأساليب، ولا بفرض سطوتها وجعل عدوانها مشروعا باستخدامها مجلس الأمن الدولي الذي يشرع الظلم والعدوان حسب أهواء الدول الكبرى. وقد توعد الله سبحانه الظالمين قائلا: ﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست