كفى متاجرة بـ"قضيّة المرأة" لا تتّخذوها مطيّة لتمرير أجندات خبيثة خبث واضعها
كفى متاجرة بـ"قضيّة المرأة" لا تتّخذوها مطيّة لتمرير أجندات خبيثة خبث واضعها

الخبر:   بلغت نسبة النّساء والفتيات ضحايا جريمة الاتّجار بالبشر في تونس خلال سنة 2019م حوالي 57 بالمائة من إجمالي ضحايا هذه الجريمة أي ما يعادل 780 حالة، فيما قدّرت نسبة الضّحايا من الأطفال بـ47 بالمائة أي ما يعادل 612 حالة، وفق ما أفادت به وزيرة المرأة والأسرة والطّفولة وكبار السّنّ في حكومة تصريف الأعمال، أسماء السّحيري العبيدي. ...

0:00 0:00
Speed:
August 01, 2020

كفى متاجرة بـ"قضيّة المرأة" لا تتّخذوها مطيّة لتمرير أجندات خبيثة خبث واضعها

كفى متاجرة بـ"قضيّة المرأة"

لا تتّخذوها مطيّة لتمرير أجندات خبيثة خبث واضعها

الخبر:

بلغت نسبة النّساء والفتيات ضحايا جريمة الاتّجار بالبشر في تونس خلال سنة 2019م حوالي 57 بالمائة من إجمالي ضحايا هذه الجريمة أي ما يعادل 780 حالة، فيما قدّرت نسبة الضّحايا من الأطفال بـ47 بالمائة أي ما يعادل 612 حالة، وفق ما أفادت به وزيرة المرأة والأسرة والطّفولة وكبار السّنّ في حكومة تصريف الأعمال، أسماء السّحيري العبيدي.

وأوضحت، اليوم الثلاثاء، خلال مشاركتها بتونس العاصمة في فعاليّات الدّورة الثّالثة لحملة القلب الأزرق التي تنظّمها الهيئة الوطنيّة لمكافحة الاتّجار بالأشخاص، أنّ خصوصيّة ضحايا الاتّجار بالأشخاص التي تبرزها الإحصائيّات المنشورة، من طرف الهيئة، وفي مقدّمتها النّساء والفتيات والأطفال، تجعل من دور وزارة المرأة والأسرة والطّفولة وكبار السّنّ يكون جوهريّا وهامّا ومحوريّا في التّصدّي لهذه الجريمة. (باب نات 28/ 07/ 2020م)

التّعليق:

في مثل هذا اليوم أقرّت الجمعيّة العامّة للأمم المتّحدة اعتبار يوم 30 تموز/يوليو اليوم العالميّ لمكافحة الاتّجار بالأشخاص في قرارها 68/192 واعتبرت الاتّجار بالأشخاص جريمة خطيرة وانتهاكا صارخا لحقوق الإنسان، يمس الآلاف من الرجال والنساء والأطفال ممن يقعون فريسة في أيدي المتاجرين سواء في بلدانهم أو خارجها.

وتتيح اتّفاقية الأمم المتّحدة لمكافحة الجريمة المنظّمة عبر الحدود الوطنيّة والبروتوكولات الملحقة بها، المساعدة للدّول في جهودها الرّامية إلى تنفيذ بروتوكول منع الاتّجار بالبشر ومعاقبة المتاجرين بالأشخاص وتعرّف المادة 3، الفقرة (أ) من بروتوكول الاتفاقيّة، الاتّجار بالأشخاص بأشكاله المختلفة، والتي من ضمنها تجنيد الأشخاص أو نقلهم وتحويلهم أو إيواؤهم بدافع الاستغلال أو حجزهم للأشخاص عن طريق التّهديد أو استخدام القوّة أو أيّ من أشكال القسر أو الاختطاف أو الاحتيال أو الخداع أو الابتزاز أو إساءة استخدام السّلطة أو استغلال مواقف الضّعف أو إعطاء مبالغ ماليّة أو مزايا بدافع السّيطرة على شخص آخر لغرض الاستغلال. ويشمل الحدّ الأدنى من الاستغلال، استغلال الأشخاص في شبكات الدّعارة وسائر أشكال الاستغلال الجنسيّ أو العمالة المجانية والسّخرة أو العمل كخدم أو الاسترقاق أو الممارسات الشّبيهة بالرّقّ، أو استعباد الأشخاص بهدف الاستخدام الجسمانيّ ونزع الأعضاء.

تونس من الدّول السبّاقة في تنفيذ اتّفاقيّات الأمم المتّحدة لنيل الرّضا والمباركة ورغم أنّ الواقع يصرخ بفداحة ما تعانيه المرأة في تونس من فقر وبطالة وتهميش واستغلال تكشفه حوادث المرور المتكرّرة هنا وهناك والتي راحت ضحيّتها العديد من العاملات (نساء وفتيات) اللّاتي يركبن شاحنات في ظروف غير آمنة ويعملن بأجور زهيدة ويتعرّضن للاستغلال بأنواعه، كما تفضحه هجرة الكثير من النّساء (منهنّ حوامل) في مراكب الموت للهروب من واقع مرير يعشنه فاخترن رمي أنفسهنّ وعائلاتهنّ في البحار عساهنّ يجدن العيش الكريم في بلاد الغرب! هذا إضافة إلى ما تلقاه المرأة من انتهاك لإنسانيّتها من أجل الحصول على وظيفة تساعد بها أسرتها. الأمثلة عديدة وقصص الفتيات والنّساء متنوّعة تحكي واقعا مريرا تعانيه المرأة. فأين هو دور وزارة المرأة الجوهريّ والمحوريّ الذي تدّعيه في تصدّيها لما تعانيه المرأة؟! أين هي هذه الوزارة وماذا قدّمت؟! بل ما هي الإجراءات التي نفّذتها للحدّ من هذه الجريمة؟ أم أنّ العنوان لا يحمل نصّا وإن هو إلّا مواكبة للاحتفال بهذا اليوم الذي أقرّته الأمم المتّحدة وتنفيذ لقراراتها؟! هو الدّوران في فلكها.

لا زالت هذه العناوين العريضة محلّ استغلال من الحكومات وما زالت هذه الملفّات تستخدم فقط لتنفيذ إملاءات مفروضة من المنظّمات الدّوليّة التي تتاجر بمثل هذه المواضيع الحسّاسة بهدف تغطية عوار نظامها الرّأسماليّ العلمانيّ الذي أنشأها وتلميع صورته وتجميلها بعد أن ظهرت حقيقته وبانت وحشيّته وتجلّى فساده وفشله في حلّ مشاكل المرأة والطّفل والإنسان بصفة عامّة.

إنّ حاجة البشريّة للإسلام وعودته لتنظيم الحياة وتسييرها بات أمرا ضروريّا وملحّا، واشرأبّت الأعناق متلهّفة ترقب قيام دولته لتعيد للنّاس العيش الكريم والحياة المطمئنّة. نسأل الله العليّ القدير في هذه الأيّام المباركة أن يعجّل بها، فاللّهمّ أعزّ الإسلام والمسلمين واجمع شملهم ولمّ شتاتهم وانصرهم على أعدائهم إنّك على كلّ شيء قدير.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلاميّ المركزيّ لحزب التّحرير

زينة الصّامت

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست