إرهاب كيان يهود لأبناء فلسطين لن ينهيه إلا الخلافة (مترجم)
إرهاب كيان يهود لأبناء فلسطين لن ينهيه إلا الخلافة (مترجم)

الخبر:   في يوم الجمعة الموافق الخامس من نيسان/أبريل، والذي يصادف يوم الطفل الفلسطيني، أصدرت جمعية الأسرى الفلسطينيين بياناً قالت فيه بأن ما لا يقل عن 6000 طفل فلسطيني قد سجنهم كيان يهود منذ عام 2015، وأن 98٪ من الأطفال الذين كانوا محتجزين تعرضوا لإيذاء نفسي و/ أو جسدي أثناء احتجازهم. ويشمل هذا الاعتداء والتعذيب والضرب، والحرمان من الطعام والماء لساعات، والحرمان من النوم، والإذلال، والتهديدات بالاعتداء الجنسي والتهديدات ضد أسرة الطفل. غالباً ما يُحرم الأطفال من الحق في حضور أحد الوالدين أو الوصي أثناء الاستجواب، أو حتى زيارات الأسرة خلال فترة سجنهم.

0:00 0:00
Speed:
April 11, 2019

إرهاب كيان يهود لأبناء فلسطين لن ينهيه إلا الخلافة (مترجم)

إرهاب كيان يهود لأبناء فلسطين لن ينهيه إلا الخلافة

(مترجم)

الخبر:

في يوم الجمعة الموافق الخامس من نيسان/أبريل، والذي يصادف يوم الطفل الفلسطيني، أصدرت جمعية الأسرى الفلسطينيين بياناً قالت فيه بأن ما لا يقل عن 6000 طفل فلسطيني قد سجنهم كيان يهود منذ عام 2015، وأن 98٪ من الأطفال الذين كانوا محتجزين تعرضوا لإيذاء نفسي و/ أو جسدي أثناء احتجازهم. ويشمل هذا الاعتداء والتعذيب والضرب، والحرمان من الطعام والماء لساعات، والحرمان من النوم، والإذلال، والتهديدات بالاعتداء الجنسي والتهديدات ضد أسرة الطفل. غالباً ما يُحرم الأطفال من الحق في حضور أحد الوالدين أو الوصي أثناء الاستجواب، أو حتى زيارات الأسرة خلال فترة سجنهم. كما يلقى القبض على العديد منهم بوحشية أثناء المداهمات الليلية لمنازلهم لإحداث أقصى قدر من الرعب. قام مكتب الأمم المتحدة لتنسيق الشؤون الإنسانية بتوثيق 336 مداهمة ليلية نفذتها قوات يهود في كانون الثاني/يناير 2018 وحده. بالإضافة إلى ذلك، ذكرت جمعية الأسرى الفلسطينيين بأن سلطات يهود احتجزت العشرات من القُصَّر بعد إطلاق النار عليهم وجرحهم عمداً، بينما تعرض عشرات آخرون للاعتقال المتكرر في غضون شهر، لا سيما في أوقات التوترات المتصاعدة أثناء أحداث الأقصى واحتجاجات باب الرحمة في آذار/مارس من هذا العام.

التعليق:

وفقاً للجنة شؤون الأسرى في السلطة الفلسطينية ومقرها رام الله، يبلغ عدد الأطفال الفلسطينيين المسجونين حالياً عند كيان يهود 250، بينما ذكرت منظمة الدفاع عن الأطفال الدولية - فلسطين أن ما بين 500 و700 طفل فلسطيني يحاكمون في المحاكم العسكرية لكيان يهود كل عام. غالباً ما يكون الاعتقال والسجن بسبب أفعال بسيطة كإلقاء الحجارة على المحتل المغتصب للأرض، ما تصفه سلطات يهود الجبانة بأنه "جريمة أمنية" يمكن أن تصل الآن عقوبتها إلى السجن مدة 20 عاماً. وفي وقت سابق من هذا الشهر، ظهرت لقطات لجنود يهود وهم يرهبون ويحتجزون صبيا فلسطينيا يبلغ من العمر تسع سنوات، يدعى زين إدريس، من مدرسته في الخليل ويحاولون اعتقال شقيقه البالغ من العمر سبع سنوات، بزعم إلقائه الحجارة على مستوطن. وذكرت منظمات حقوق الإنسان والأطباء بأن إلقاء القبض على الأطفال الفلسطينيين وسجنهم ومعاملتهم بوحشية أثناء احتجازهم من كيان يهود الإجرامي جعلهم يعانون من العديد من المشكلات النفسية والسلوكية، بما في ذلك الكوابيس والأرق وتراجع التحصيل الدراسي. يُترك الآخرون خائفين للغاية حتى من الذهاب إلى المدرسة أو اللعب مع أصدقائهم في الحي. كل هذا بالطبع بالتوازي مع استمرار أعمال العنف والمجازر التي يتعرض لها الأطفال الفلسطينيون على أيدي المحتل. ووفقاً لوزير الإعلام الفلسطيني، قُتل ما لا يقل عن 83 طفلاً فلسطينياً على يد كيان يهود منذ عام 2017.

كل هذا بالطبع مخالف لكل القواعد والقوانين والاتفاقيات الدولية المتعلقة بحقوق الطفل؛ إنها ضد كل قيمة إنسانية وأخلاقية في معاملة القاصرين. ومع ذلك، من يتوقع حقاً أن تتخذ أية دولة حالية أو الأمم المتحدة أو أية هيئة دولية موقفاً موثوقاً به لوضع حد لهذا الإرهاب الذي يرتكبه كيان يهود بحق الأطفال في الوقت الذي يمنحونه الحرية في تنفيذ جرائمه وذبحه المسلمين في فلسطين لعقود دون عقاب؟ إنهم يدركون تمام الإدراك أن مثل هذه الأساليب الهمجية يستخدمها كيان يهود لإرهاب جيل المستقبل من المسلمين الفلسطينيين لإخضاعهم وجعلهم خائفين للغاية من مواجهة المحتل. إنها أجندة تشترك فيها جميع حكومات العالم الحالية لأنها تتفق مع مصالحها في المنطقة التي تهدف إلى الحفاظ على هذا الاحتلال الوحشي وإزالة أية معارضة له.

علاوة على ذلك، زادت الأنظمة القائمة في بلاد المسلمين العالم من وتيرة خيانتها للإسلام والمسلمين بالتعبير الصريح في الأشهر الأخيرة عن استعدادها لللتقرب من الكيان القاتل وحمايته من الأذى، وتكرار دورها كحارس شخصي وقوة دفاع لهذا الاحتلال. في شباط/فبراير من هذا العام، أرسل وزراء خارجية السعودية والإمارات ودول الخليج الأخرى للقيام بمبادرة صريحة في احتضان محب لنتنياهو في مؤتمر في وارسو، فيما استضافت عمان في تشرين الأول/أكتوبر الماضي قاتل المسلمين على أراضيها. وصرح أنور قرقاش، وزير الدولة للشؤون الخارجية بدولة الإمارات، بأن الدول العربية يجب أن تكون أكثر انفتاحاً على كيان يهود، وأن الدول العربية اتخذت "قراراً خاطئاً للغاية" في الماضي عندما قررت عدم وجود علاقات رسمية أو تواصل معه! وقد صرح يوسف بن علوي بن عبد الله، وزير الشؤون الخارجية في عُمان، في وقت سابق من هذا الشهر، "أعتقد أن علينا نحن كعرب أن نكون قادرين على البحث في هذه المسألة، وأن نسعى إلى تبديد هذه المخاوف لدى (إسرائيل) بإجراءات واتفاقات حقيقية بيننا نحن الأمة العربية وبين (إسرائيل) وبين من يدعمون (إسرائيل)... نريدهم أن يشعروا أنه لا توجد تهديدات لمستقبلهم".

هل يوجد أي شك في أن إيجاد القيادة الإسلامية الحقيقية الصادقة "الخلافة على منهاج النبوة"، هي من سيمثل حقاً مصالح الإسلام والمسلمين، وهي من سيتمكن من وضع حد لهذا الكابوس الذي يعيشه أطفال فلسطين وأسرهم بشكل يومي؟ هذه الدولة هي وحدها التي ستحشد جيشها الهائل لتحرير كل شبر من هذه الأرض المباركة من هذا الاحتلال الوحشي وهي التي ستعيد الأمن والكرامة للمسلمين تحت ظل منعة حكم الإسلام كما رأينا في تاريخ الخلافة. إنه لمن المؤكد أن علينا كأمة مسلمة أن نرفض جميع الحلول الخاطئة لهذه الكارثة التي حلت بنا، لأنها لا تؤدي إلا إلى إطالة معاناة إخواننا وأخواتنا، وبدلاً من ذلك فإن الواجب علينا أن نركز كل اهتمامنا وطاقاتنا على إعادة إقامة هذه الدولة العظيمة.

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست