إلى قيس سعيد: أترجو بهذا النظام صلاح أمرٍ وقد جُبِلَ النظام على الفساد؟!
إلى قيس سعيد: أترجو بهذا النظام صلاح أمرٍ وقد جُبِلَ النظام على الفساد؟!

الخبر: انتظم يوم الخميس 27 شباط/فبراير 2020 بقصر قرطاج موكب بإشراف رئيس الجمهورية قيس سعيّد أدى خلاله أعضاء الحكومة الجديدة برئاسة السيد إلياس الفخفاخ اليمين الدستورية. وألقى رئيس الدولة بالمناسبة كلمة أشار فيها إلى أن تكوين الحكومة جاء بعد مخاض طويل وعسير.

0:00 0:00
Speed:
February 28, 2020

إلى قيس سعيد: أترجو بهذا النظام صلاح أمرٍ وقد جُبِلَ النظام على الفساد؟!

إلى قيس سعيد:
أترجو بهذا النظام صلاح أمرٍ وقد جُبِلَ النظام على الفساد؟!


الخبر:


انتظم يوم الخميس 27 شباط/فبراير 2020 بقصر قرطاج موكب بإشراف رئيس الجمهورية قيس سعيّد أدى خلاله أعضاء الحكومة الجديدة برئاسة السيد إلياس الفخفاخ اليمين الدستورية.


وألقى رئيس الدولة بالمناسبة كلمة أشار فيها إلى أن تكوين الحكومة جاء بعد مخاض طويل وعسير.


وأوضح رئيس الجمهورية أن مثل هذه الأوضاع التي عاشتها تونس ليست مستجدة في تاريخ الأنظمة السياسية...


واعتبر أن الأزمة التي عاشتها تونس ليست أزمة نظام بل أزمة منظومة كاملة...


مبينا أن أكبر تحد هو الوضع الاقتصادي والاجتماعي. كما شدد على وجوب وضع حد للفساد المستشري وضرورة الانتصار في هذه المعركة...


(الصفحة الرسمية لرئاسة الجمهورية التونسية)

التعليق:


لن يكون تعليقي مُنصباً عن تشكيلة الحكومة وما تحمل في طياتها من نفاق وخداع ودجل سياسي، ولن يكون تعليقي كاشفاً فاضحاً لزور برنامج الحكومة القادمة وما يحمله من تبعيّة مذلة مخزية لمستعمر كان ولا يزال يبسط نفوذه من وراء دُمىً متشاكسة، ولن يكون تعليقي حتّى عن تلوّن المواقف السياسية وتغيّر الآراء شبه المبدئيّة للأحزاب السياسية أو بالأحرى للدكاكين الانتخابيّة فقط بمجرد الدخول والمشاركة في الحكومة والاستحواذ على منصب وزاري...


فقط سأوجّه حديثي لرئيس الجمهورية قيس سعيد وما حملته كلمته من تناقضات فكريّة سياسيّة مبدئيّة:


فكيف يمكن لمن صرّح ذات يوم أنه لن يكون مجرّد سطر يذكره التاريخ وأنه حان الوقت لأن يكون في مستوى المسؤولية التاريخية، كيف لمن صرّح بهذا أن يغالط الشعب ويبرّر ما عشناه فترة ثلاثة أشهر وزيادة من مناكفات ومناوشات عبثيّة بهلوانيّة من أجل تصيّد المزيد من النفوذ الحزبي ومن أجل مزيد التقرب إلى المسؤول الكبير، طبعا كل هذا على حساب آلام وتجويع وتفقير الشعب، كيف لرئيس الجمهورية أن يبرّر كل هذا بأنها ليست مستجدة في تاريخ الأنظمة السياسية، وكأن لسان حاله يقول إن تشكيل الحكومة في هذا النظام السياسي الحاكم الراهن هو غاية في حد ذاته وإن الحديث عن برنامجها وإرادتها وقدرتها في رعاية مشاكل الناس وإنقاذ البلاد من مستنقع الأزمات يأتي في مرحلة ثانوية...


ثم كيف لقيس سعيد أن يصرّح أن الأزمة التي عاشتها تونس ليست أزمة نظام بل أزمة منظومة كاملة...


فعن أي منظومة يتحدث وأي نظام يبرئ وعن أي فكر سياسي يصفه بالتطور؟؟


فإن كنت تتحدث أيّها الرئيس عن منظومة الفساد والإفساد، منظومة التبعية للغرب المستعمر الكافر، منظومة الارتهان للدوائر المالية الاحتكارية، منظومة اللّوبيات الرأسمالية المتحكّمة في كل تفاصيل الحياة السياسية، منظومة السفراء التي ترتع بلا رقيب ولا حسيب، منظومة جوقة الإعلام الناطقة بلسان أعداء الثورة والحاقدين على تحرر الشعوب، منظومة نهب ثروات البلاد وتجويع العباد، منظومة الحقد والعداء لكل ما فيه انبثاق من العقيدة الإسلامية...


إن كنت تتحدث أيها الرئيس عن هذه المنظومة فهي في حقيقة الأمر تتغلغل وتتوسع وتتمدد وترمي بجذورها في مفاصل تفاصيل الحياة السياسية والاقتصادية والمجتمعية والتعليمية... من خلال النظام الحاكم اليوم، فالنظام الذي تبرئه اليوم هو نظام فصل الدين عن الدولة، نظام فصل الإسلام عن معالجات مشاكل الناس، نظام يرى أن الغرب بنظامه العلماني نموذج للتقدّم والرقي، وأن الالتحاق بالعصر والحداثة يكون بالسير على خطاه، نظام لا يرى المستعمر الغربي عدواً ولا خصماً، نظام يفرض على الواقع السياسي أن يتشكل على القالب الرأسمالي الغربي، فالملكية الخاصة خط أحمر، وتراكم الثروات حق، ووجود طبقة عليا تحتكر نصيب الأسد من الثروة مسألة عادية، أما الملكية العامة فهي أمر بليد، وتوزيع الثروة ما هو إلا توزيع الفقر...


أيها الرئيس، يا من تشدّد في خطاباتك وجوب وضع حد للفساد المستشري وضرورة الانتصار في هذه المعركة، أذكّرك بما ذكّرت به غيرك ذات يوم "أيرجى بالجراد صلاح أمر وقد جُبِلَ الجراد على الفساد"، أترجو من نظام يحمل في أحشائه الفساد، ويتغذى من المحسوبية والرشوة، ويتمعش من نهب الثروات، أترجو من هكذا نظام أن يحارب الفساد وأن يعيد حقوق الشعب المنهوبة، أترجو من نظام تأتيه الأوامر من وراء البحار أن يقف في صف الأمة وعقيدة الأمة، أترجو ممن ورط البلاد وفتح الأبواب على مصراعيها لصندوق النقد الدولي أن يغير وينتصر لإرادة الشعب؟!! "ما هكذا يا سعيد تورد الإبل"!


إن ترقيع المبدأ الرأسمالي من خلال ما يسمى بالدولة الاجتماعية أو العدالة الاجتماعية، هي مخادعة وعلاج طارئ لستر المظالم الناتجة عن تطبيق الحرية الاقتصادية المطلقة المتوحشة. فهذا العلاج المـسَكِّن الواهن هو فقط لإطالة وحماية الرأسمالية من السقوط والاندثار.


إن البديل الحقيقي هو في الخلافة الراشدة التي ستطبق الإسلام بشكل فعلي في جميع مناحي الحياة، وستأخذ زمام المبادرة من دول الظلم والطغيان في العالم وخاصة أمريكا والغرب، وستتبوأ مقعد الدولة الأولى في العالم، وستنشر الخير والعدل وتخرج الناس من الظلمات إلى النور، وتملأ الدنيا عدلا كما ملئت جورا وظلما، وبغير هذا ستبقى الوجوه تتبدل والأنظمة التي هي سبب التعاسة والظلم باقية.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
ممدوح بوعزيز
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست