هناك قانون واحد في التعامل مع أمريكا وحلفائها لكن هناك قانون آخر للسودان وبقية العالم في المحكمة الجنائية الدولية في لاهاي (مترجم)
هناك قانون واحد في التعامل مع أمريكا وحلفائها لكن هناك قانون آخر للسودان وبقية العالم في المحكمة الجنائية الدولية في لاهاي (مترجم)

الخبر:   في غضون ساعات من الإطاحة بالرئيس السوداني السابق في انقلاب عسكري، ذكرت رويترز في 12 نيسان/أبريل أن "مكتب حقوق الإنسان التابع للأمم المتحدة دعا السودان يوم الجمعة إلى التعاون مع المحكمة الجنائية الدولية، التي أصدرت قرار اعتقال، ومذكرة توقيف بحق الرئيس المخلوع عمر البشير بسبب جرائم حرب مزعومة منذ ما يقرب من 15 عاماً". وسرعان ما أصبح الانقلاب، الذي مكن النظام العسكري السوداني من الإطاحة بالرئيس السابق صباح يوم الخميس، مجرد تغيير في وجه النظام. فقد كانت هناك دعوة سريعة للمحكمة الجنائية الدولية للشروع في العمل، وهذا يمثل نفاقاً مدقعاً. يواجه البشير خمس تهم بارتكاب جرائم ضد الإنسانية وتهمتين بارتكاب جرائم حرب فيما يتعلق بالعمليات العسكرية في دارفور بين عامي 2003 و2008، والآن يتم استدعاء السودان لتقديم البشير إلى محكمة خارجية لمحاكمته على جرائم في دارفور، والتي كانت في حد ذاتها موضوع تحريض خارجي يسعى لتمزيق السودان.

0:00 0:00
Speed:
April 16, 2019

هناك قانون واحد في التعامل مع أمريكا وحلفائها لكن هناك قانون آخر للسودان وبقية العالم في المحكمة الجنائية الدولية في لاهاي (مترجم)

هناك قانون واحد في التعامل مع أمريكا وحلفائها

لكن هناك قانون آخر للسودان وبقية العالم في المحكمة الجنائية الدولية في لاهاي

(مترجم)

الخبر:

في غضون ساعات من الإطاحة بالرئيس السوداني السابق في انقلاب عسكري، ذكرت رويترز في 12 نيسان/أبريل أن "مكتب حقوق الإنسان التابع للأمم المتحدة دعا السودان يوم الجمعة إلى التعاون مع المحكمة الجنائية الدولية، التي أصدرت قرار اعتقال، ومذكرة توقيف بحق الرئيس المخلوع عمر البشير بسبب جرائم حرب مزعومة منذ ما يقرب من 15 عاماً". وسرعان ما أصبح الانقلاب، الذي مكن النظام العسكري السوداني من الإطاحة بالرئيس السابق صباح يوم الخميس، مجرد تغيير في وجه النظام. فقد كانت هناك دعوة سريعة للمحكمة الجنائية الدولية للشروع في العمل، وهذا يمثل نفاقاً مدقعاً. يواجه البشير خمس تهم بارتكاب جرائم ضد الإنسانية وتهمتين بارتكاب جرائم حرب فيما يتعلق بالعمليات العسكرية في دارفور بين عامي 2003 و2008، والآن يتم استدعاء السودان لتقديم البشير إلى محكمة خارجية لمحاكمته على جرائم في دارفور، والتي كانت في حد ذاتها موضوع تحريض خارجي يسعى لتمزيق السودان.

التعليق:

غالباً ما كانت السلطات الاستعمارية تستخدم المحكمة الجنائية الدولية في لاهاي كأداة لتحقيق غاياتها الخاصة، والتي تكشف عن مغالطة مفهوم القانون الدولي عندما تكون السيادة مع الدول وتمارس وحدها القوة العسكرية والاقتصادية التي تستخدمها، وهي إكراه الآخرين. من الواضح أن الأقوياء هم وحدهم الذين يستطيعون فرض إرادتهم على الضعفاء، وأي هيئة دولية لا يمكن أن تكون إلا أداة في يد الأقوياء، في حين إن مثل هذه الهيئة تكون عاجزة عندما يسعى الضعيف إلى طلب حمايتها من الأقوياء، وهذا ما نراه اليوم.

لقد طُلب من السودان في غضون ساعات إرسال البشير إلى لاهاي، بينما أظهرت المحكمة الجنائية الدولية في لاهاي في اليوم نفسه، أظهرت نفسها عاجزة عن تحقيق العدالة لضحايا الحرب الأمريكية على الإرهاب في أفغانستان!

أشاد ترامب بقرار المحكمة الجنائية الدولية (ICC) في لاهاي اليوم، 12 نيسان/أبريل، برفض طلب كبير المدعين العامين بالمحكمة التحقيق في جرائم الحرب والجرائم ضد الإنسانية المزعومة المرتكبة في أفغانستان. قال كبير المدعين العامين في تشرين الثاني/نوفمبر 2017، إنه "قرر أن هناك أساساً معقولاً للاعتقاد" بأن أمريكا قد ارتكبت جرائم حرب. ومع ذلك، عندما تكون أمريكا على خطأ، فإن الأمر يستغرق سنوات قبل التوصل إلى قرار سلبي، لكن عندما يكون الديكتاتور المخلوع على خطأ لا يستغرق الأمر سوى بضع ساعات حتى تتحول عجلات العدالة.

كان سبب عدم السعي إلى مقاضاة أمريكا هو أن القضاة الذين نظروا في الوقت المستغرق منذ الفحص التمهيدي عام 2006 والذي كان طويلاً للغاية مع الأخذ في الاعتبار: "المشهد السياسي المتغير في أفغانستان منذ ذلك الحين" وكذلك "عدم التعاون مع المدعي العام، الذي كان من المرجح أن يصبح أكثر ندرة في حالة السماح بإجراء تحقيق". إذا لم ترغب أمريكا ونظام عملائها في أفغانستان في التعاون، فلن يكون هناك عدالة دولية، على الرغم من اعتقادهم بوجود "أساس معقول للنظر في ارتكاب جرائم داخل اختصاص المحكمة الجنائية الدولية في أفغانستان".

إذا كان عام 2006 فترة من الماضي البعيد، فلماذا لا تعتبر كذلك بالنسبة لدارفور؟ وهنا بيان المتحدثة باسم الأمم المتحدة لحقوق الإنسان رافينا شمداساني التي تطالب بمحاسبة البشير: "نحن نشجع السلطات في السودان على التعاون الكامل مع المحكمة الجنائية الدولية، هناك قرار لمجلس الأمن يعود إلى عام 2005 يدعو حكومة السودان إلى التعاون التام وتقديم المساعدة". ومن الغريب أنه يمكن للقانون الدولي أن يعود إلى عام 2005، لكنه لن يكون قادراً على العودة إلى عام 2006 إذا ما عارضت أمريكا ذلك. لقد وصفت منظمة العفو الدولية قرار عدم متابعة التحقيقات في جرائم الحرب ضد أمريكا وحلفائها "بالتخلي عن الصدمة للضحايا" والذي "سيُنظر إليه في نهاية المطاف على أنه استسلام جنوني لتهديد واشنطن وتهديداتها". نعم، إنه بالفعل هو!

كانت البلطجة الأمريكية في هذه القضية فعالة. أعلن وزير الخارجية مايك بومبيو الشهر الماضي أن أمريكا ستحرم أو تلغي تأشيرات دخول للموظفين الذين قد يسعون للتحقيق في جرائم الحرب الأمريكية، وبعد ذلك قام المدعي العام بالمحكمة الجنائية الدولية بذلك. فقد ألغيت تأشيرة دخوله إلى أمريكا. كان بومبيو مبتهجاً اليوم فقال: "نحن نرحب بهذا القرار ونكرر موقفنا بأن أمريكا تعامل المواطنين الأمريكيين بأعلى المعايير القانونية والأخلاقية"، وحذر من أن "أي محاولة لاستهداف أمريكا، أو الموظفين (الإسرائيليين)، أو المتحالفين الذين ستتم مقاضاتهم، سوف يصطدمون برد سريع وقوي".

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست