هل ستنجح الانتفاضة الجماهيرية الجزائرية ضد بوتفليقة المصاب بجلطة دماغية؟ (مترجم)
هل ستنجح الانتفاضة الجماهيرية الجزائرية ضد بوتفليقة المصاب بجلطة دماغية؟ (مترجم)

الخبر:   وفقا لصحيفة الجارديان: في السطر الأول من خطاب عبد العزيز بوتفليقة إلى الشعب ليلة الاثنين، قال الرئيس الجزائري إن البلاد تعيش في مرحلة حساسة من تاريخها، ومتفق على ذلك هو ومواطنيه. وكان بوتفليقة البالغ من العمر 82 عاما، والذي تعرض لسلسلة من السكتات الدماغية التي تركته في حاله صحية سيئة، في السلطة منذ 1999، وقد أدى الإعلان عن أنه لن يترشح لفترة أخرى مدتها خمس سنوات إلى الاحتفال على نطاق واسع، فقد كان هذا هو المطلب الرئيسي لمئات آلاف - وربما الملايين - الذين تظاهروا سلميا عبر المدن والبلدات في جميع أنحاء الجزائر يوم الجمعة في احتجاجات بشكل لم نشهده منذ عقود.

0:00 0:00
Speed:
March 16, 2019

هل ستنجح الانتفاضة الجماهيرية الجزائرية ضد بوتفليقة المصاب بجلطة دماغية؟ (مترجم)

هل ستنجح الانتفاضة الجماهيرية الجزائرية ضد بوتفليقة المصاب بجلطة دماغية؟

(مترجم)

الخبر:

وفقا لصحيفة الجارديان: في السطر الأول من خطاب عبد العزيز بوتفليقة إلى الشعب ليلة الاثنين، قال الرئيس الجزائري إن البلاد تعيش في مرحلة حساسة من تاريخها، ومتفق على ذلك هو ومواطنيه.

وكان بوتفليقة البالغ من العمر 82 عاما، والذي تعرض لسلسلة من السكتات الدماغية التي تركته في حاله صحية سيئة، في السلطة منذ 1999، وقد أدى الإعلان عن أنه لن يترشح لفترة أخرى مدتها خمس سنوات إلى الاحتفال على نطاق واسع، فقد كان هذا هو المطلب الرئيسي لمئات آلاف - وربما الملايين - الذين تظاهروا سلميا عبر المدن والبلدات في جميع أنحاء الجزائر يوم الجمعة في احتجاجات بشكل لم نشهده منذ عقود.

ولكن هذا الفرح جلب الشك، لأن خطاب الرئيس تم تمحيصه بعناية كبيرة، وربما كان مليئا بالكلمات الطيبة بشأن الحاجة إلى الإصلاح، والجيل الجديد، وأصوات النساء والشباب، ولكن هل حقا يضمن حريات أكثر؟ أم أن بوتفليقة، وهو من المحنكين السياسيين، انسحب من مناورة للسماح لنفسه بمزيد من الوقت لتعزيز النظام القمعي والفاسد والمبهم قبل ذهابه أخيرا؟

وعلى الرغم من إلغاء بوتفليقة للانتخابات المقرر إجراؤها في 18 نيسان/أبريل، إلا أنه لم يشر إلى أنه سيتنحى عندما تنتهي ولايته في الشهر القادم، وقد وصفت الصحيفة ذلك "بالحيلة الأخيرة لبوتفليقة" التي نشرتها جريدة الوطن اليومية.

وقد أشار العديد من المحللين إلى أن بوتفليقة ليس له أي حق دستوري في البقاء، الأمر الذي يبدو أنه ينوي القيام به في نهاية ولايته.

ويقول المعلقون إنه إذا تم الفوز بلا شك في الانتصار، فإن الأزمة لا تزال بعيدة عن الحد ولا يزال التهديد بعدم الاستقرار الحقيقي قائما.

وقد احتج مئات عدة من الطلاب يوم الثلاثاء، بينما يرجح أن ينزل العديد منهم إلى الشوارع يوم الجمعة، وسيتم مراقبة حجم هذه الحشود عن كثب من المحللين الذين يحاولون الوصول إلى مستقبل دولة أفريقية وسطى كبيرة وذات أهمية استراتيجية.

التعليق:

من الرائع فعلا أن نرى المسلمين يهبون ويتظاهرون ضد حكوماتهم، ويتحملون المسؤولية عن وضعهم ويكافحون من أجل وضع أفضل، ومما يثلج الصدر بشكل خاص أن نرى مثل هذه التحركات في العالم العربي، التي يحكمها بشكل عام الديكتاتوريات القاسية والوحشية؛ مثل هذا المشهد من ثورات الربيع العربي في بداية هذا العقد، الذي نجح في هز جميع الحكومات في المنطقة، وإذا كان ما نراه الآن في الجزائر يذكرنا بأحد هذه الأسباب، فإن السبب الآخر لدراسة الأسباب التي جعلت هذه التحركات على الرغم من نجاحها الظاهر قد أخفقت حتى الآن في إحداث أي تغيير حقيقي.

وعلى غرار بقية العالم الإسلامي، لا تزال الجزائر تحكمها الأنظمة السياسية الغربية، وتحكمها التشريعات الغربية، وتسيطر عليها طبقة حاكمة موالية للغرب، معروفة في الجزائر باسم "السلطة"، وبعبارة أخرى لا تزال الجزائر تفي بولائها للغرب بعد عقود عديدة من التحرر من الاحتلال الفرنسي، في الحقيقة تم تحقيق الاستقلال بالفعل في الجزائر، كما هو الحال في أماكن أخرى، من خلال توجيه الأفكار الإسلامية الصادقة ومشاعر الأمة إلى الحركات القومية مع قيادات غربية علمانية، وبهذه الطريقة، تمكن الغرب من تحقيق استمرار الاستعمار بوسائل أخرى، وتعديله من السيطرة العلنية إلى السيطرة الخفية، وكان أول رئيس للجزائر بعد الاستقلال على سبيل المثال، هو أحمد بن بيلا، الذي كان قد خدم سابقا في الجيش الفرنسي وكرمه شارل ديغول بالقوة العسكرية لمشاركته في الحرب العالمية الثانية.

المأزق الحالي بالنسبة للسلطة في الجزائر هي أنهم لم يتمكنوا من الاتفاق على بديل لحاكمهم الحالي عبد العزيز بوتفليقة، على الرغم من أن إصابته بسكته دماغيه 2013 تركته مشلولا وكاد أن يبقى صامتا، ووفقا لصحيفة نيويورك تايمز، فإن "السيد بوتفليقة البالغ من العمر 82 عام، لم يتحدث علنا منذ سبع سنوات ولا يظهر إلا نادرا في الصور التي يبدو أنها غير متحركة وعيناه ثابتتان أمامه، وقد وضعت الاحتجاجات الجماهيرية النظام تحت ضغط كبير ولكن من الواضح أن المناورات الأخيرة للنظام هي مجرد محاولة منه لاستغلال الوقت أكثر.

وفي واقع الأمر، فإن النظم الديمقراطية حتى في الغرب، هي مجرد ستار للحكم من زمرة صغيرة مخولة تتحكم في السلطة لمصلحتها الخاصة، والتعقيد الإضافي في البلدان الإسلامية هي أن حكامنا هم أنفسهم أيضا عناصر فكرية وسياسية تابعة للغرب، يقف أسيادهم الغرب وراء سلطتهم، إن التغيير الحقيقي لن يحدث في الجزائر، وفي العالم الإسلامي بشكل عام، إلا عندما نتخلص من الإرث المؤسسي للاستعمار ونستبدل به الإسلام، من خلال تمكين الخليفة بشكل كامل كرئيس للدولة، يضمن الإسلام أن الخليفة لا يدين بالولاء لأحد غير الأمة ودينها، ولا أحد لديه القدرة على عزله إلا إذا كان ينتهك حدود الشريعة، وهذا يتناقض تناقضا صارخا مع النظم الغربية، التي تسمى بالضوابط والموازين، وهي ليست لصالح الشعب بل لتوفير آليات وطرق بديلة للسيطرة المستمرة لهذه النخبة.

يجب على المسلمين المخلصين في الجزائر أن يفكروا في إنجازاتهم هذا الأسبوع وأن يتعرفوا على قوتهم؛ يجب الآن أن يتم نشر هذه القوه بشكل كبير لإحداث تغيير في النظام بأكمله دون التوقف عند مجرد تغيير الوجوه، من بوتفليقة إلى عميل غربي آخر، الحل الصحيح والكامل لحالتهم هو إقامة دولة الخلافة الراشدة على نهج النبي محمد r، والتي ستعيد السيطرة على شؤون المسلمين من الغرب الكافر، وتوحد البلاد الإسلامية وتنفذ أحكام الشريعة الإسلامية، وتحمل دعوة الإسلام للعالم بأسره. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست