هل هناك حرب وشيكة بين أمريكا وإيران؟ (مترجم)
هل هناك حرب وشيكة بين أمريكا وإيران؟ (مترجم)

الخبر: مواجهة بين أمريكا وإيران...

0:00 0:00
Speed:
June 24, 2019

هل هناك حرب وشيكة بين أمريكا وإيران؟ (مترجم)

هل هناك حرب وشيكة بين أمريكا وإيران؟

(مترجم)

الخبر:

مواجهة بين أمريكا وإيران...

التعليق:

طبول الحرب الأمريكية تضرب بصوت عال وواضح وهذه المرة إيران في مفترق طرق. إن تعزيزها العسكري في منطقة الخليج يشير إلى أن المواجهة المحتملة وشيكة الحدوث. نشرت أمريكا بالفعل سفناً حربية وطائرات في منطقة الخليج، وأمرت بمغادرة "الموظفين غير الطارئين" من العراق، مشيرة إلى معلومات استخبارية حول تهديد محتمل للقوات الأمريكية من إيران. وتلقي باللائمة على التفجيرات التي وقعت في ناقلات النفط والهجمات بطائرات بدون طيار على المنشآت السعودية الحيوية وهجمات الصواريخ في العراق. والآن أثارت إيران من خلال الطيران فوق المجال الجوي الإيراني بطائرة تابعة للبحرية الأمريكية RQ-4A Global Hawk، والتي أسقطها الحرس الثوري الإيراني.

على الرغم من أن أمريكا منخرطة بشكل ملحوظ في خطاب المواجهة والتحدي، إلا أن تصريحات المسؤولين الأمريكيين والإيرانيين تظهر صورة أخرى. النغمة العامة للبيانات المتعلقة بإيران أكثر توازناً، وتهدف إلى تخفيف التوترات بدلاً من تصعيد الموقف. فقد أعرب كلاهما في مناسبات عدة أنهما لا يسعيان للدخول في حرب. أيضا، إطلاق إيران النار على طائرة بدون طيار تابعة للبحرية الأمريكية كان وفقا لهذا القالب. الرئيس دونالد ترامب، لم يسحب فقط أمره بالانتقام، بل قلل من أهمية إسقاط طائرة أمريكية بدون طيار من إيران بقوله: "لدي شعور بأنه كان خطأ ارتكبه شخص ما لم يكن يجب أن يفعل ذلك". و"أجد صعوبة في تصديق أن الأمر كان مقصوداً".

أيضا، فإن حجم التصادم العسكري الحالي في المنطقة يؤكد هذه السياسة المضطربة. ببساطة لأنها في شكلها الحالي ليست مناسبة على الإطلاق لحرب مواجهة مع إيران.

إذا خدشنا أكثر قليلاً على سطح العلاقة بين أمريكا وإيران، خاصةً في نصف القرن الماضي وتجاوزنا رمي الطين ذهاباً وإياباً، يمكننا أن نرى دولتين لم تخوضا حرباً بينهما على الرغم من قوة خطاب الحرب، بينما احتلت أمريكا الدول المجاورة لإيران من شرقها وغربها. علاوة على ذلك، كان احتلال أفغانستان والعراق المجاورين ممكناً تماماً بسبب تعاون إيران مع المحتل حيث استخدمت مواردها لصالح أمريكا. ومؤخراً، عندما كان نظام الطاغية بشار الأسد على وشك الانهيار، رفعت أمريكا العقوبات المفروضة عليها وأعطت الضوء الأخضر لإيران لنشر قواتها العسكرية من أجل إنقاذ نظام الأسد المتهالك ضد المسلمين.

لذا، فإن حرب المواجهة مع إيران، بالنظر إلى ما ذكر أعلاه، لا تبدو معقولة، وإذا حدثت ضربة عسكرية، فستكون لأهداف استراتيجية محددة.

السبب الرئيسي وراء هذه العلاقة والسياسة "نباح المرء أسوأ من العض" بين أمريكا وإيران هو خلق فزاعة للمنطقة وخارجها.

بالنسبة للمنطقة، تبقي أمريكا النزاع السني الشيعي حيا. حيث تمثل إيران صورة تهديد من أجل تشكيل تحالف أمريكي عربي بما في ذلك كيان يهود ضدها، بهدف تطبيع وجوده في المنطقة وتحويل تركيز احتلال يهود والعدوان نحو صراع طائفي في المنطقة مع إيران. ولا ننسى، تشكيل قوة إقليمية مباشرة ضد دولة الخلافة القادمة في المنطقة.

بالنسبة للعالم الغربي، تستخدم أمريكا طموح إيران النووي وإنتاج يورانيوم منخفض التخصيب كتهديد. انسحب ترامب بشكل أحادي من الصفقة النووية الإيرانية، خطة العمل الشاملة المشتركة (JCPOA)، التي تم التوصل إليها بين أمريكا وإيران وبريطانيا وروسيا وفرنسا والصين وألمانيا والاتحاد الأوروبي في تموز/يوليو 2015. وانتقدها ترامب ووصفها بأنها "كارثية" و"أحادية الجانب" وأنها "سوف تسبب الفوضى داخل الشرق الأوسط وما وراءه". ثم فرض عقوبات على المعاملات المالية المتعلقة بالدولار الأمريكي وقطاع السيارات الإيراني وشراء الطائرات التجارية والمعادن بما فيها الذهب وقطاع النفط الإيراني والبنك المركزي. كانت هذه العقوبات تهدف إلى فرض "أقصى قدر من الضغط الاقتصادي" على إيران لإجبارها على إبرام اتفاق نووي جديد مع أمريكا بشروط ترامب دون أعضاء خطة العمل الشاملة المشتركة. حتى يمكن أن يستبعد أعضاء خطة العمل الشاملة المشتركة من فوائد الصفقة النووية الجديدة ويمهد الفرص الحصرية للشركات الأمريكية في السوق الإيرانية.

بالنسبة للسياسة الداخلية، يستخدم ترامب التهديد الإيراني، كوسيلة للتراجع عن محاولات الكونغرس لعرقلة مبيعات الأسلحة إلى السعودية.

وأخيراً، ستستفيد أمريكا بشكل كبير من الصراع مع إيران وفنزويلا، وكلاهما مصدر كبير للنفط. لقد فرضت عليهم عقوبات على تصدير النفط، مما يؤدي إلى ارتفاع أسعار النفط في جميع أنحاء العالم. في حين ستواصل أمريكا شراء نفطها الرخيص من خونة منطقة الخليج وتنتج نفط الصخر الزيتي الخاص بها محليا حتى تكون مصدرا مهما للنفط إلى العالم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أوكاي بالا

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في هولندا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست