حل الكنيست ضربة مؤلمة لترامب
حل الكنيست ضربة مؤلمة لترامب

الخبر:   وافق الكنيست في كيان يهود ليل الأربعاء الخميس على حلّ نفسه وإجراء انتخابات تشريعيّة جديدة في 17 أيلول/سبتمبر، لتكون سابقة في تاريخ الكيان حيث لم يسبق أن حلّ أيّ من برلماناته نفسه بعد أقل من شهرين على انتخابه.

0:00 0:00
Speed:
June 16, 2019

حل الكنيست ضربة مؤلمة لترامب

حل الكنيست ضربة مؤلمة لترامب

الخبر:

وافق الكنيست في كيان يهود ليل الأربعاء الخميس على حلّ نفسه وإجراء انتخابات تشريعيّة جديدة في 17 أيلول/سبتمبر، لتكون سابقة في تاريخ الكيان حيث لم يسبق أن حلّ أيّ من برلماناته نفسه بعد أقل من شهرين على انتخابه.

التعليق:

أولا: نشرت صحيفة "إسرائيل هيوم" تسريباً لبعض ملامح "صفقة القرن"، منها أن كيان يهود قد يتعرض لعقوبات أمريكية حال رفضه الصفقة. كما نشرت صحيفة "هآرتس" مقالاً في 15 أيار/مايو 2019 يشير إلى أن ترامب قد يفرض عقوبات على كيان يهود في حال رفضه "صفقة القرن"، ولا سيما في صادرات أمريكا في مجال التكنولوجيا إليها، وفي صادراتها للمنتجات الزراعية إلى واشنطن.

كما أشار مقال لـ"روبرت ساتلوف" (المدير التنفيذي لمعهد واشنطن لسياسة الشرق الأدنى، وأحد أشد المؤيدين لنتنياهو) إلى خطورة الصفقة على كيان يهود، والخوف من أن يؤدي تمريرها إلى كارثة، وأن يؤدي فشلها إلى كارثة أشد. وطالب المقال نتنياهو بالعمل على إيقافها دون التضحية بالعلاقات الجيدة مع إدارة ترامب.

لقد بات من المعلوم بداهة أن عقلية ترامب عقلية صفقات وليس مفاوضات سياسية وأن أي صفقة تحظى بالإخفاق فإنه سيعاقب عليها من خلال إمساك أمريكا الكثير من الأوراق خاصة العسكرية والاقتصادية والتهديد كما هو حاصل بالحرب التجارية ومنع المخالف من السوق الأمريكية، وكنتيجة طبيعية لدور أمريكا التي تحمل كل الملفات الدولية فإن أمريكا تريد تحريك عملية السلام وأيضا كنتيجة طبيعية لترامب وإدارته وحزبه من خلال إحداث اختراق في الجمود في عملية السلام للانتخابات القادمة، وأقول تحريك وليس الشروع بالحل النهائي في الوقت الحالي لانشغالها بمشاكل كبيرة دولية سياسية وعسكرية واقتصادية وإدراكها رفض يهود لأي حل سياسي، لذا قامت إدارة ترامب بإعطائهم الكثير من المغريات من أجل تحقيق صفقة معينة (الجلوس على طاولة المفاوضات وتبادل اللقاءات) بل ساعد ترامب نتنياهو بالنجاح في الانتخابات وعدم تحريك ملفات الفساد ضده ومن خلال الصفقات التجارية والاقتصادية الموعودة كمقدمة لحل سياسي (حل الدولتين) ومن خلال مراجعة بعض التفاصيل بعيدا عن أسس الحل الثابتة كالعلاقات التجارية بين العراق وكيان يهود بخط الأنابيب والعلاقات بمنصة الغاز وما سيتحدث عنه بمؤتمر المنامة في البحرين.

ثانيا: إن العروض الكبيرة التي قدمتها أمريكا ليهود ليست مجانية بل من أجل ثمن وثمن كبير جدا...

ومن خلال قراءة كتابات الخبراء والصحفيين اليهود التي أشارت إلى وجود تخوفات واسعة من هذا الدعم، لا سيما وأن ترامب قد أوضح في سياق اعترافه بالقدس المحتلة عاصمة لكيان يهود، أن هذا الاعتراف لا يمتد إلى حدود المدينة التي تدعي يهود أنها عاصمتها الموحدة، وأن الأمر متروك للمفاوضات بين الفلسطينيين ويهود لحسم هذه الحدود. فقد أدى هذا الغموض وعدم اليقين المرتبط بـ"صفقة القرن" التي ينتظر أن تطرحها الإدارة الأمريكية على جميع الأطراف، إلى تصاعد التحذيرات من جانب قادة الفكر والرأي ومراكز التفكير عند يهود من أن الصفقة قد تفرض على كيان يهود تقديم تنازلات مؤلمة لتحقيق التسوية، وفي حال عدم قبول تل أبيب لما تُقرره إدارة ترامب فإن ذلك قد يؤثر على العلاقات الوثيقة بين تل أبيب وواشنطن، بالإضافة إلى أن عدم إمكانية التنبؤ بردود أفعال الرئيس الأمريكي دونالد ترامب يزيد من مخاوف يهود حول ترتيبات الصفقة والقضايا التي تتضمنها والتنازلات التي يمكن فرضها لدفع الطرف الفلسطيني لقبول الصفقة.

وكيان يهود يدرك خطورة هذه العروض وأنها ليست مجانية، فقد أفاد تقرير أن إدارة ترامب تشعر بالإحباط من اليهود في أمريكا لعدم احتضانهم للرئيس الأمريكي بصورة أكثر حرارة بعد قيامه بنقل السفارة الأمريكية إلى القدس.

ونقل تقرير جديد نشره "معهد سياسات الشعب اليهودي"، وهو فرع تابع للوكالة اليهودية، عن مسؤول في البيت الأبيض قوله إن سلف الرئيس في المنصب، باراك أوباما، كان سيلقى الكثير من الإعجاب لقيامه بأشياء قام بها ترامب.

فقد أظهر استطلاع رأي أجرته "اللجنة اليهودية الأمريكية" قبل نحو عام أن لدى 77% من يهود أمريكا نظرة غير إيجابية تجاه الرئيس.

ثالثا: إذاً يهود أمام أمرين خطيرين بعد نجاح نتنياهو بتشكيل الحكومة؛ إما السير بالصفقة وتحقيق المطالب الأمريكية والتنازلات المؤلمة، وهذا مرفوض نهائيا عند الدولة العميقة، فقد سبق لهم قتل رابين وتغييب شارون وإحداث معوقات أمام أي حل أمريكي بحجة الحكومات الائتلافية التي سرعان ما يخرج أحد الأحزاب ويعلن عن انتخابات مبكرة واللعب على ورقة الزمن لأنها تدرك خطورة التحدي الأمريكي...

والخيار الثاني للحكومة بعد تشكليها فهو رفض السير بما تريده أمريكا وهذا يشمل خطرا حقيقيا على كيان يهود خاصة في ظل شخصية ترامب، لذا كانت التوصية بالهروب وعدم المخاطرة في سابقة أولى من نوعها بحل الكنسيت نفسه في فترة قياسية لمحاولة اللعب بعامل الزمن خاصة وأن الانتخابات الأمريكية على الأبواب ولا ينكر حاجة الحزب الجمهوري وترامب لأصوات الداعمين ليهود، لذا فقد وجه اليهود ضربة مؤلمة لترامب في هذا الإجراء السياسي والذي أفقد ترامب صوابه وجعله يهاجم قادة يهود على خلاف التصريحات السابقة والتي اعتبر بعضهم ترامب كأنه ألعوبة بيد يهود.

بدا الرئيس الأمريكي دونالد ترامب مستاءً، صباح الاثنين، عندما سئل عن الانتخابات في كيان يهود في البيت الأبيض قبل مغادرته إلى بريطانيا وقال "تم انتخاب بيبي، والآن فجأة سيخوضون العملية الانتخابية برمتها مرة أخرى بحلول شهر أيلول/سبتمبر، إنه أمر سخيف، نحن لسنا سعداء بهذا".

وأضاف ترامب حول خطة السلام الأمريكية، المعروفة إعلامياً بـ"صفقة القرن": "هي فرصة جيدة، لكن (إسرائيل) مشغولة حالياً بالانتخابات".

وكتبت صحيفة "واشنطن بوست" في وقت سابق أن وزير الخارجية الأمريكي، مايك بومبيو، عرض للشك آفاق الخطة الأمريكية حول تسوية النزاع بين الفلسطينيين ويهود. وعبر في الوقت نفسه عن أمله بألا تواجه الصفقة رفضا على الفور.

وختاما نقول صحيح إنه من المؤلم أن يكون سبب رفض المخططات الأمريكية والدولية لقضية فلسطين هم يهود ولكن ستبقى قضية فلسطين أكبر من الغرب كله وإدارة ترامب ويهود فهي قضية إسلام وكفر ولن تحل إلا بالجهاد؛ بالقضاء على كيان يهود نهائيا واجتثاثه من جذوره من أرض الإسراء والمعراج على يد أمة الإسلام ودولتها قريبا بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست